ضابطہ دیوانی کے رولز میں ترامیم کی منظوری

ضابطہ دیوانی کے رولز میں ترامیم کی منظوری

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے اور دورانِ سماعت مختلف حیلوں بہانوں سے سماعت ملتوی کرانے اور نئی تاریخ لینے کی روایت کو ختم کرنے کے لئے ضابطہ دیوانی کے74 رولز میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔عدلیہ کی تاریخ میں118 سال بعد ایسی ترامیم منظور کی گئی ہیں،جن کے تحت سول کیسز کا فیصلہ تین ماہ سے چھ ماہ کے دوران ہوا کرے گا۔ حکم امتناعی سمیت تمام متفرق درخواستوں کا فیصلہ ایک ہفتے میں کیا جائے گا۔سول کیسز کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو گی۔مدعی یا مخالف پارٹی کی طرف سے تاریخ لینے والے کو جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ان ترامیم کی منظوری سے توقع کی جانی چاہئے کہ انصاف کی جلد فراہمی کے نعرے کو عملی شکل دینے کے لئے خاصی پیش رفت ممکن ہو گی، جس سے عوام پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ہمارے عدالتی نظام میں اس ضرورت کو محسوس تو کیا جاتا رہا کہ بعض معاملات میں اصلاحات ہونی چاہئیں، لیکن عملی اقدامات کی طرف پوری سنجیدگی سے توجہ نہ دینے کی وجہ سے صورتِ حال میں بہتری پیدا نہ ہو سکی۔ غریب اور متوسط طبقوں کو انصاف کے حصول میں سخت دشواریاں پیش آتی رہیں۔خدا خدا کر کے90ء کی دہائی کے بعد اعلیٰ عدلیہ کی قیادت اور حکومتی حلقوں نے انصاف کی فراہمی میں تیزی لانے کے لئے متعدد اقدامات کو اہمیت دی اور ججوں کی تعداد میں اضافے کو یقینی بنایا جانے لگا۔اس کے ساتھ ساتھ ضروری اصلاحات کو عملی شکل دینے کے لئے اقدامات کی منظوری بھی دی جاتی رہی۔ قوی امید ہے کہ کیسز کو تیزی سے نمٹا کر ماضی میں ہونے والی زیادتی کا ازالہ ہو سکے گا۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہونے والی ترامیم کے بعد ان پر سختی سے عملدرآمد ہوتا رہے۔

مزید : رائے /اداریہ