پاکستانی مریم کے ابو کو مایوس نہیں کریں گے

پاکستانی مریم کے ابو کو مایوس نہیں کریں گے
پاکستانی مریم کے ابو کو مایوس نہیں کریں گے

  

نیب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں فیصلہ سنانے سے ایک دن پہلے رائے عامہ کا جائزہ لینے والے تین اہم اداروں گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ اور آئی پی او آر کے مشترکہ سروے کا نتیجہ بھی اخبارات کی زینب بنا تھا،جس کے مطابق میاں نواز شریف کے خلاف کرپشن ٹرائل، ان کے اہم ساتھیوں کی نااہلی اور نام نہاد الیکٹیبلز کی جانب سے وفاداریاں تبدیل ہونے کے باوجود صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت برقرار ہے اور 2013ء کے مقابلے میں 2018ء کے عام انتخابات سے قبل اس کے ووٹ بینک میں دو فیصداضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سروے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی نسبت 5:3کے حساب سے پی ٹی آئی سے آگے ہے اور جواب دہندگان کی اکثریت نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران صوبے میں لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اپنے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی کارکردگی پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔مُلک کو درپیش مسائل کی درجہ بندی کرتے ہوئے جواب دہندگان کی اکثریت کا کہنا تھا کہ ان کا سب سے پہلا مسئلہ پینے کے صاف پانی تک رسائی، گیس اور سیوریج کی دستیابی ہے،جبکہ صحت، تعلیم، بے روزگاری اور کرپشن نے ان کے جواب میں سب سے نیچے جگہ پائی ہے۔

سروے کے نتائج میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو اچھا خاصا متاثر کیا ہے، جو 2013ء کے 11فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر اب محض 5فیصد رہ گیا ہے اور اس کی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے رہنما پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

عوامی سطح پر خفیہ ہاتھوں کی کارروائیوں کے حوالے سے پید اہونے والے شعور نے پانامہ مقدمے کے فیصلے کو بھی بے وقعت کردیا تھا، کیونکہ نیب عدالت کے فیصلے سے ایک دن پہلے کا تازہ ترین سروے اِس امر کا غمازتھا کہ لوگوں کے نزدیک سیاست دانوں کی نام نہاد کرپشن ان کی سب سے آخری تشویش کی بات ہے، کیونکہ بقول مولانا فضل الرحمن پاکستان میں کرپشن کا الزام محض مقبول قیادت کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔

جیل جانے کے بعد نواز شریف مزید مقبول ہو گئے ہیں ۔اس سے قبل چشم فلک دیکھ چکی ہے کہ انہیں پانامہ کے مقدمے میں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو جی ٹی روڈ ان کے استقبال کے لئے امڈ آیا تھا اور ’مجھے کیوں نکالا ‘کا بیانیہ مقبول ہوگیا تھا۔

وہ حلقے جو پی ٹی آئی کو بغیر کسی کارکردگی کے بھی جتواتے نظر آتے ہیں اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس میں شک نہیں کہ ووٹر کو ’چم نہیں کم ‘پیارا ہوتا ہے اور آج پنجاب کا ووٹر شہباز شریف سے مطمئن ہے، خوش ہے ، اسے شہباز شریف کی صلاحیتوں پر اندھا اعتماد ہے،پکا یقین ہے اور جانتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی مثال اگر ترقی کے ایک پہئے کی ہے تو شہباز شریف اس پہئے کا ایکسل ہیں۔

معاملہ بارشوں کے پانی کے انخلا کا ہو، سگنل فری کاریڈور کا ہو، ویگنوں کے عذاب سے چھٹکارا ہو ، لیپ ٹاپ کی تقسیم کی بات ہو یا کوئی اور معاملہ،بظاہر یہ کام بڑے چھوٹے لگتے ہیں، لیکن ان میں عوامی خدمت کا جذبہ یکساں طور پر موجزن نظر آتا ہے اور لوگوں کی قدر ہوتی نظر آتی ہے ۔سابق وزیراعظم نواز شریف کا سیاسی سفر ’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے شروع ہوا تھا اور ’مجھے کیوں نکالا‘ تک آن پہنچا ہے ، دیکھئے یہ دریا آگے کس طرف راستہ بناتا ہے اور یہ کون نہیں جانتا کہ دریا کا راستہ نہیں روکا جا سکتا ہے !عدالتوں سے آنے والے کمزور فیصلے نواز شریف کومضبوط کرتے جا رہے ہیں۔

احتساب عدالت کا فیصلہ انصاف کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ، بے انصافی ہے ، ظلم ہے، زیادتی ہے، ناانصافی ہے، لیکن مسلم لیگ(ن) کی قیادت اِس لئے چپ ہے کہ وہ کسی صورت بھی انتخابات کا التوا نہیں چاہتی ہے وگرنہ ۔۔۔!

نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان سے نون لیگئے پھر سے شیر ہوگئے ہیں اور مخالفین لگڑ بگ بنے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں، جی ٹی روڈ دوبارہ سے چمک اٹھا ہے، چہک اٹھا ہے، احتساب عدالت کے فیصلے نے مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کو دوبارہ سے بحال کردیا ہے وگرنہ ون سائیڈمیڈیا پر ہونے والا پراپیگنڈہ یہی تھا کہ اب عمران کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔

کوئی کچھ بھی کہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ قوم نے بھٹو کے متبادل کے طور پر نواز شریف کو اپنا لیڈر مان لیا ہے، لیکن ابھی تک نواز شریف کا متبادل کوئی اور نہیں بن سکا ہے ، نہ تو آصف علی زردرای اور نہ ہی عمران خان!نواز شریف کا کوئی متبادل نظر آتا ہے تو وہ مریم نواز ہیں جو نواز شریف کی ترجمان کیا بنی ہیں کہ پورا پاکستان ان کا ترجمان بن گیا ہے ۔ مریم نے اپنے پرایوں کے دِل جیت لئے ہیں !۔۔۔عدالتیں اپنے فیصلے دے چکی ہیں ، اب عوام اپنا فیصلہ دیں گے ۔

مزید : رائے /کالم