زندہ انتخابات

زندہ انتخابات
زندہ انتخابات

  

1977ء کے الیکشن وہ پہلے انتخابات تھے، جن میں میری شرکت ایک فعال اور متحرک کارکن کے حوالے سے رہی، یہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ مَیں پیپلزپارٹی کے کارکن کی حیثیت سے اِن انتخابات میں باقاعدہ ڈیڑھ دو ماہ تک پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم چلاتا رہا۔

اُس حلقے کے امیدوار صاحبزادہ فاروق علی خان تھے،لیکن عملاً سکہ ذوالفقار علی بھٹو کا چل رہا تھا،انتخابی نشان تلوار ہوتا تھا۔ مَیں سارا دن رکشے میں بیٹھ کر لاؤڈ سپیکر پر تلوار تلوار اور بھٹو کی گردان کرتے گزار دیتا تھا۔ وہ انتخابات بڑھے جاندار تھے، لوگوں میں انتہا کا جوش و خروش تھا۔

ایک طرف پیپلزپارٹی اور دوسری طرف پی این اے کا اتحاد مقابل تھے، صاف لگ رہا تھا کہ وہ تبدیلی لانے والے انتخابات ہیں۔جب عوام کا انتخابات میں جوش خروش بڑھ جاتا ہے،تو وہ عام انتخابات نہیں ہوتے،بلکہ خاص ہو جاتے ہیں

۔اُن انتخابات کے بعد مُلک کے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس سے بھی ثابت ہو گیا کہ انتخابات عام نہیں تھے۔پی این اے نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کیا اور قومی اسمبلی کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ کہاں عوام کا انتخابات کے حوالے سے اس قدر جوش و جذبہ اور کہاں نتائج کا استرداد۔ تحریک کا آغاز، سو بھٹو کی حکومت ختم کر دی گئی۔

مُلک میں ضیاء الحق نے مارشل لا لگا دیا، پھر ہماری تاریخ کا سیاہ دور شروع ہوا،اس کے بعد ضیاء الحق نے جو انتخابات کرائے وہ پھسپھسے ثابت ہوئے۔ یکطرفہ اور بے معنی، سب کو معلوم تھا کہ یہ انتخابات نہیں،بلکہ سلیکشن ہے۔

پھر انتخابات میں جوش و جذبہ 1988ء کے انتخابات میں دیکھنے کو ملا۔ جب شہید بے نظیر بھٹو نے انتخابات میں حصہ لیا اور صحیح معنوں میں لوگوں کے اندر انتخابات کے لئے ایک تحریک پیدا ہوئی۔ پھر تو انتخابات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

ہر دو اڑھائی سال بعد انتخابات ہوتے رہے۔عوام کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ ایک بار اگر بے نظیر بھٹو جیتی ہیں تو اگلی بار نواز شریف جیتیں گے۔یوں دلچسپی کا عنصر کم ہوتا چلا گیا، اس کے بعد پھر ایک عدم دلچسپی کا عرصہ شروع ہوا، کیونکہ پرویز مشرف نے دینی پلانٹڈ جماعتوں کے لئے انتخابات کرائے اور اپنی مرضی و منشا کے مطابق نتائج بھی حاصل کئے۔ 2013ء کے انتخابات ایسے تھے، جنہیں نسبتاً آزاد انتخابات کہا جا سکتا ہے۔

اس سارے پس منظر میں2018ء کے انتخابات کو دیکھا جائے تو اُن میں عوام کی دلچسپی آسمان کو چھوتی نظر آتی ہے۔اس وقت شاید ہی پاکستان میں کوئی ایسا فرد ہو، جو اِس الیکشن بخار سے بچ کر زندگی گزار رہا ہو،بلکہ اب تو کوئی ایسا شخص بھی نہیں مل رہا جو یہ کہے کہ مَیں انتخابات میں کسی کو بھی ووٹ نہیں ڈالوں گا۔

ہر شخص نہ صرف انتخابات کا شدت سے انتظار کر رہا ہے،بلکہ ووٹ ڈالنے کو بے قرار بھی ہے۔ خاص طور پر اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والے نوجوان2018ء کے انتخابات کو پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک سنہرا موقع سمجھ رہے ہیں،اس میں الیکٹرانک میڈیا کا کردار بھی بہت شاندار جا رہا ہے۔

عوام میں ووٹ کا شعور بیدار کرنے کے لئے اُن کے پروگرام گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، سیاسی جماعتیں بھی مکمل طور پر سرگرم ہیں، انتخابی مہمات زوروں پر ہیں۔

ہر سیاسی جماعت کے جلسوں اور ریلیوں میں عوام ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں،گویا عوام لاتعلق نہیں اور اپنی اپنی سیاسی جماعت کے ساتھ متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے ، مایوسی صرف چند سیاست دان اور اینکرز پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، انتخابات کے انعقاد پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنا یہ تکیہ کلام بھی استعمال کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومتیں سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ تو بتاتے نہیں کہ کیسے ناکام رہی ہیں اور کن مواقع کی بات ہو رہی ہے؟یہ ہر طرف جو جلوسوں اور ریلیوں کی بہار نظر آ رہی ہے کیا اُس کی موجودگی میں یہ بات دِل کو لگتی ہے۔یہ تو سوائے زیبِ داستان کے اور کچھ بھی نہیں۔

حقیقت تو اُس کے عین برعکس ہے۔

2018ء کے انتخابات کو مَیں اگر تاریخ کے تناظر میں زندہ انتخابات کہوں تو یہ بے جا نہیں ہو گا۔ اس سے زیادہ زندہ، پُرجوش اور عوام کی بھرپور شرکت کے حوالے سے انتخابات دُنیا کے اور کسی بھی جمہوری مُلک میں نہیں ہو سکتے، اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ یہ عام انتخابات تو ہیں، مگر عام نہیں، بلکہ خاص ہیں۔

ان میں اتنی ورائٹی آ گئی ہے کہ ان سے کوئی لاتعلق رہ ہی نہیں سکتا۔ان انتخابات میں ایک طویل مدت کے بعد دو نظریئے اور دو بیانیے ٹکرا رہے ہیں۔یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ایک سابق وزیراعظم جیل میں بیٹھا ہوا ہے اور اُس کی جماعت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔اُس نے اپنا خاص نعرہ اور نظریہ دیا ہے،جس پر مسلم لیگ (ن) کے ووٹر عمل پیرا ہو چکے ہیں۔

سول بالادستی کا یہ نعرہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ نواز شریف جیل میں ہیں اور اُن کے حامی بڑی خوبصورتی سے اس بات کو اپنے حق میں یوں استعمال کر رہے ہیں کہ نواز شریف نے چونکہ ووٹ کی بالادستی کا نعرہ لگایا تھا، اِس لئے اُنہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ٹی وی چینل آج کل ووٹروں کی رائے جاننے کے لئے جتنے بھی سروے کر رہے ہیں اُن میں مسلم لیگ(ن) کے جو حامی ہیں، وہ یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ نواز شریف کو درست سزا ہوئی ہے۔

وہ نواز شریف کو جمہوریت کی علامت سمجھنے لگے ہیں،اِسی لئے مسلم لیگ(ن)کا ووٹر بھرپور جذبے کے ساتھ ووٹ ڈالنے نکلے گا، وہ نواز شریف کی سزا اور اس کے بعد لندن سے اُن کی واپسی کے باعث بہت پُرجوش ہو چکا ہے۔

وہ اس امید پر ووٹ دینے کے لئے بے تاب ہے کہ جب مسلم لیگ(ن) کو زیادہ ووٹ ملیں گے تو میاں صاحب کی سزا کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔اب اگر کوئی یہ توقع کرتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے حامی پولنگ والے دن گھروں میں بیٹھے رہیں گے تو یہ اُس کی حماقت ہے۔ شہباز شریف اچھی انتخابی مہم چلائیں یا نہ چلائیں، نواز شریف کی اڈیالہ جیل میں موجودگی نے مسلم لیگ (ن) کے ووٹر کو متحرک کر دیا۔

دوسری طرف تحریک انصاف ہے، کئی ایسے فیکٹرز ہیں جن کی وجہ سے تحریک انصاف کا ووٹر بھی ووٹ ڈالنے کے لئے بہت بے چین ہے۔ عمران خان کے ایک ایک دن میں تین، تین چار، چار جلسے گہرا رنگ جما رہے ہیں؟ عمران خان کا کرپشن کے خلاف نعرہ بہت مقبول ہو چکا ہے۔ پھر اُن کی پاکستان کو بدل دینے کی باتیں، نا انصافی و غربت کا خاتمہ کرنے کے وعدے اور سب سے بڑھ کر غریبوں کو خطِ غربت سے نکالنے کے دعوے، کپتان کے لئے عوام کے دِلوں میں جگہ پیدا کر چکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو مُلک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں واضح طور پر دو مختلف نظریات کے تحت میدان میں موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم میں ایک غیر روایتی جوش و خروش نظر آتا ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی عوام کو انتخابات کے لئے متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ بلاول بھٹو کا بیانیہ بھی مقبول ہو رہا ہے کہ مُلک میں عدم برداشت کا کلچر ختم ہونا چاہئے،جو انتہا پسند ہیں، ان کی ہر سطح پر بیخ کنی یا ان سے لاتعلقی ضروری ہے۔وہ پنجاب سے اپنے کارکنوں کا لہو گرمانے کے بعد کراچی گئے ہیں۔

ادھر ایم ایم اے اور تحریک لبیک نے بھی اپنی انتخابی مہم کو جاری رکھا ہوا ہے۔ لوگ ان کے جلسوں میں بھی جوق در جوق جاتے ہیں۔یہ سب باتیں 2018ء کے انتخابات کو زندہ انتخابات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں تو اسے صرف اسی صورت میں اہمیت دی جا سکتی ہے کہ زمینی حقائق انہیں ثابت بھی کر رہے ہوں۔۔۔

اصل جج عوام ہیں۔ عوام کی سطح پر اس حوالے سے کوئی شکایت یا احتجاج موجود نہیں کہ انہیں کوئی روک رہا ہے، یا انہیں کسی خاص جماعت کے حق میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

لوگوں کا ہزاروں کی تعداد میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے کے جلسوں میں جانا اس بات کی گواہی ہے کہ وہ خود کو آزاد سمجھ رہے ہیں۔ وہ اپنی پسند کی پارٹی کے جلسوں میں جاتے ہیں اور ہر سروے میں اپنے ووٹ کے استعمال کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں، پولنگ ڈے پر بھی وہ گھروں سے نکلیں گے اور بلاشبہ اپنے ووٹ پر پہرہ بھی دیں گے۔

اِس موقع پر کسی کو بھی مایوسی پھیلانے سے گریز کرنا چاہتے۔ عوام کسے مینڈیٹ دیتے ہیں، یہ ان کے فیصلے پر منحصر ہے۔ عوام کو اِس حوالے سے مایوس کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ آخر وقت پر کوئی نادیدہ طاقت ان کا مینڈیٹ چرالے گی۔

اتنے کڑے انتظامات، اتنے متحرک میڈیا، اتنی مستعد عدلیہ اور اتنی فعال فوج کی موجودگی میں اگر عوام کا مینڈیٹ چرا لیا جاتا ہے تو پھر ہمیں جمہوریت کی رٹ لگانے سے باز آ جانا چاہئے۔

سیاست دان اکثر یہ کہتے ہیں کہ ادارے عوام کا مینڈیٹ نہ چرائیں،اس کا احترام کریں۔یہی بات سیاست دانوں کو اپنانی چاہئے۔

وہ ووٹروں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے الیکشن کے نتائج تسلیم کریں اور دھاندلی کا واویلا کر کے خواہ مخواہ الیکشن کو مشکوک نہ بنائیں۔ انتخابات گڈے گڈی کا کھیل نہیں کہ ان پر عدم شفافیت کا الزام لگا کر دوبارہ انعقاد کا مطالبہ کیا جاتا رہے۔

مزید : رائے /کالم