این اے 136,133,130 شیر اور بلے میں گھمسان کا رن

این اے 136,133,130 شیر اور بلے میں گھمسان کا رن

25جولائی کو ہونے والے انتخابات پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں جس میں کون سی پارٹی کامیابی حاصل کرے گی عوام کے لئے سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے اور اس حوالے سے جو بھی نتیجہ ہوگا وہ انتخابی عمل کے بعد ہی سامنے آئے گا سب سے بڑھ کر اس وقت ایک جماعت کے سربراہ او ر پاکستان کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم میاں نواز شریف جیل میں قید ہیں 1947 ء میں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک کئی انتخابات پاکستان میں منعقد ہوچکے ہیں قیام پاکستان کے چار سال بعد پہلا انتخابی عمل پنجاب میں ہوا تاریخی پس منظر سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ دس مارچ 1951 کو پنجاب اسمبلی کی 197 نشستوں کے لئے ہوا جس میں پہلی مرتبہ939 امیدواروں نے حصہ لیا اور قسمت آزمائی کی جس میں سے 197 امیدواروں کو عوام کی جانب سے پذرائی ملی اور وہ پنجاب اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے جن میں سے تین امیدوار بلامقابلہ بھی منتخب ہوئے جو ان کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تھا اس کے بعد دوسری مرتبہ 8 دسمبر 1951 ء میں صوبہ سرحد میں انتخابات ہوئے مئی1953 میں سندھ اسمبلی کے لئے انتخابی عمل کا قیام ہوا تھا اب تک ملک میں سب سے زیادہ مرتبہ سزا یافتہ میاں نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں جبکہ ان کو ایشیاء کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا بھی اعزاز حاصل رہا تھا۔ حالیہ الیکشن میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی دعوے دار پاکستان پیپلز پارٹی دن بدن کمزور ہوتی نظر آرہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی ناقص پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے اب کارکن اس جماعت سے دورہوگئے ہیں بلاشبہ ماضی میں لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کا بہت زور ہوا کرتا تھا اور مسلم لیگ ن کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوتا تھا مگر اب حلقہ این اے 130 سمیت پورے لاہور کے حلقوں میں اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی سر گرمیوں کی بات کی جائے تو نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ان پارٹی کے امیدوار بھی شدید مایوسی کا شکار ہے پی پی کے انتخابی دفاتر بھی حلقوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں بھی ان میں بھی کارکنوں کی بہت ہی مایوس کن تعداد بیٹھی ہوئی نظر آتی ہے امیدواروں کی انتخابی سر گرمیوں میں بھی عدم دلچسپی نظر آتی ہے جب یہ امیدوار اپنی اپنی کمپین کرتے ہیں تو ان کے ساتھ بہت ہی کم کارکن نظر آتے ہیں جس سے یہ صاف ظاہرہوتا ہے کہ اس جماعت کا کسی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس پارٹی کی کارکنوں سے دوری ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنی جماعت چھوڑ کر اب پاکستان مسلم لیگ ن یا پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔لاہور میں تاجر برادری کی جانب سے بھی سیاسی جماعتوں کو ووٹ اور سپورٹ کا ملا جلا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تاجر برادری کی جانب سے (ن) لیگ کو مکمل طور پر سپورٹ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو اس مرتبہ تاجر برادی کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس مرتبہ ان حلقوں میں ان تاجر برادی کی حمایت کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے لئے جیت حاصل کرنے میں ان کو بھرپور مدد ملے گی کیونکہ اس سے قبل لاہور کی تاجر برادری نے ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن کی کھل کر حمایت کی تھی۔ اس حوالے سے کئے گئے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ملک کی سب سے بژی جماعت ہے میاں نواز شریف آج بھی کارکنوں کے دل میں بستے ہیں اور ان کے جیل جانے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پژے گا بلکہ ہم پہلے سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ ن کی سابق ایم پی اے و اداکارہ کنول نعمان نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں اس وقت ڈور ٹو ڈور کمپین کرنے میں مصروف ہوں اور اُمید ہے کہ میری محنت ضرور رنگ لیکر آئے گی مجھے یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی عوام ہم پر اعتماد کریں گے کیونکہ مسلم لیگ ن نے ماضی میں بہت کام کیا ہے اور میں عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ مسلم لیگ ن کو جتوانے میں اپنا کردارادا کریں اس وقت ملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے اور اس میں سب سے اہم کردار مسلم لیگ ن کی حکومت کا ہے ہم اقتدا ر میں آکرایک مرتبہ دوبارہ فنکاروں کے بھی مسائل حل کریں گے اور امید ہے کہ پاکستان مسلم ن کی ایک مرتبہ حکومت بنے گی اور ہم اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ماڈل ٹاؤن فٹ بال کلب کے سربراہ میاں رضوان علی کہاکہ ماضی میں اب تک جتنا کام میاں شہباز شریف نے پنجاب میں کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور امید ہے کہ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی حاصل کریں گے انہوں نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کو بھی اس دور میں جو فروغ ملا اور جس طرح سے شہباز شریف نے اس حوالے سے ذاتی دلچسپپی کے ساتھ کام کیا ہے اس کی بھی مثال نہیں ملتی ہے امید ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ایک مرتبہ دوبارہ بر سر اقتدار آنے کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی ترقی کے لئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی اس لئے عوام کو اس کی مکمل سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

سروے کے دوران مشاہدہ ہوا کہ انتخابی امیدواروں کے دفاتر میں انتخابات قریب آتے ہی ہلچل میں تیزی آگئی ہے اور صبح سویرے کھلنے والے انتخابی دفاتر رات گئے تک کھلے نظر آتے ہیں جہاں پر پورا دن کارکنوں کی بڑ ی تعداد اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت کے لئے کوشاں نظر آتی ہے جبکہ اس دوارن کھانے اور چائے کے بھی کئی دور چلتے ہیں جبکہ انتخابی دفاتر میں پارٹی کے معروف ترانوں کے چلنے کا بھی سلسلہ پورا دن جاری رہتا ہے اور کارکن وقفہ سے وقفہ سے اپنے امیدواروں کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان دفاتر میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بچوں اور بوڑھے افراد بھی بھرپور جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔ حلقہ این اے 130 میں صوبائی اسمبلی کی دو نشتیں شامل ہیں جن میں حلقہ پی پی159 اور حلقہ پی پی160 شامل ہیں جبکہ ان حلقوں میں شامل اہم علاقوں میں ماڈل ٹاؤن، علاقہ اقبال ٹاؤن،الحمد کالونی،شاہ فیصل روڈ، کلفٹن کالونی، عاشق آباد،غزالی پارک، اچھرہ، لالہ زار کالونی، بھیکے وال موڑ، نیو کیمپس، شاہ دی کھوئی، کریم بلاک ،نقشہ سٹاپ، نیو مسلم ٹاؤن، وحدت کالونی، رحمان پورہ، شاہ جمال روڈ ، فیصل ٹاؤن،کوٹھا پنڈ، گلبرگ، کینال پارک، قربان لائن،جناح پارک،اکرم پارک، گورومانگنٹ روڈ،نبی پورہ، گلبرک،فردوس مارکیٹ، مکہ کالونی، اتحاد کالونی، ماڈل کالونی، کلمہ چوک، پرانا ائیرپورٹ ، پی آئی اے کالونی،فلاکن کالونی، نواز شریف کالونی، گلاب دیوی ہسپتال فیروز پور روڈ،جی آر اوز،شادمان، ذیلدار، اچھرہ ، عزیز پارک،نواب پورہ،بوتین پارک،سمن آباد، ظفرکالونی، پیرغازی روڈ ، ،ملت پارک،پاکستان چوک، ماربل مارکیٹ،چوہدری کالونی،سمن آباد، بنک کالونی،حمید پارک،رسول پارک،شاہ جمال، فاضلیہ کالونی جی او آر تھری کے چند علاقے شامل ہیں اور نئی حلقہ بندیاں کرنے کے بعد کئی علاقے اس حلقہ میں شامل کئے گئے ہیں۔ حلقہ این اے 133 کا حلقہ وفاقی کالونی، شاہ دی کھوئی دھنہ سنگھ والا،جوہر ٹاؤن، بورڈ آف ریونیوسوسائٹی ،شاہ دی کھوئی،اجودھیا پور، اللہ بخش کالونی، رحمن پارک،لیاقت آباد،کوٹ لکھپت،بہار کالونی،شبنم کالونی،دلکشا گارڈن،ماڈل ٹاؤن ایکسٹیشن، پنڈی راجپوتاں، ندیم پارک،کرمانوالی کالونی، نواب کالونی، الیاس پارک، ماڈرن کالونی، فرانسس کالونی، قائداعظم پارک،قینچی،بوستان کالونی، کوہ نور ہاؤسنگ کالونی،شیرانوالی کالونی، عوامی کالونی،جنرل ہسپتال،اتفاق کالونی،بابر فرید کالونی،جاوید کالونی، فضل حق کالونی،قائد ملت کالونی، ٹاؤن شپ، گرین ٹاؤن، اکبر کلاں اور مریم فہرست میں شامل ہیں اور اگر یہاں پر امیدواروں کی بات کی جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہاں سے اعجاز چوہدری اپنی جماعت کی نمائندگی کررہے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے اس حلقہ سے کافی دیر کے بعد امیدوار کو میدان میں اتارا گیا ہے اور اسی حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق سر کردہ رہنما جو اس وقت اپنی جماعت سے ناراض ہیں سابق صوبائی وزیر سید زعیم حسین قادری ہیں جو اس حلقہ سے آزاد امیدوار کی حثیت سے حصہ لے رہے ہیں اور اس وجہ سے اس حلقہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

حلقہ این اے133 سے آزاد امیدوار سید زعیم حسین قادری نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ میں نے اصولوں کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کو چھوڑا ہے اور میں اقتدار کا کبھی بھوکا نہیں رہا 26 جولائی کا سورج میری کامیابی کی نوید لیکر طلوع ہوگا اور جس طرح ماضی میں کام کیا ہے اور کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اس مرتبہ بھی کامیابی کے بعد عوام کے ہر مسئلہ کا حل ہوگا اور امید ہے کہ عو ام اس حوالے سے مجھ پر اعتماد کریں گے۔ حلقہ این اے 130سے مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ احمد حسان نے کہا کہ عمران خان وزیر اعظم کا خواب دیکھنا چھوڑ کر پہلے اپنا قبلہ درست کریں اس کا وزیر اعظم بننے کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہے گا انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہی عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کوشاں ہے اور ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لیں گے انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف نے ملک میں ہزاروں لوگوں کو روز گار دے کر بے روزگاری ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور کسانوں کو آسان اقساط پر قرض دینے میں بھی نواز شریف نے سب سے زیادہ کام کیا ہے اور جتنی ترقی ہمارے دور میں ہوئی ہے اتنی کبھی بھی نہیں ہوئی اس لئے میاں نواز شریف ہماری ضرورت ہے۔

پاکستان تحریک انصاف حلقہ پی پی 167کے سینئر رہنما نذیر چوہان نے کہا ہے کہ عمران خان جیسا دیانتدار ،مخلص اور محب وطن لیڈر ہمیں قسمت سے ملا ہے اور اب ہمارے ملک میں تبدیلی اور خوشحالی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔عمران خان نے کرپٹ اور چور حکمرانوں کے خلاف جو طلبلہ جنگ بجایا ہے ہم ایسے قائد کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔اب نواز شریف کو اڈیالہ جیل پہنچانے کے بعد شہباز شریف اور زرداری کی باری ہے اور انشاء اللہ اب ہمار ملک ان چور اچکوں اور لیٹروں سے پاک ہوگا۔ عمران خان کی 25سالہ سیاسی جدوجہد کا رزلٹ اب سامنے آرہا ہے اب ہمارے ملک کے چپے چپے میں پی ۔ٹی ۔ آئی کی طوطی بول رہی ہے ۔عمران نے جو کہا کر کے دکھایا ہے ،KPK میں تحریک انصاف کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔وہاں تعلیم ،صحت اور انصاف کا بول بالا ہوا ہے اور اگر مرکز میں ہماری حکومت آئی تو پھر سارا ملک روشن ہوگا ہر طرف انصاف ہوتا نظر آئے گا۔کرپٹ اور نااہل لوگوں کی تحریک انصاف میں بھی کوئی جگہ نہیں ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1