منتخب حکومت کو اقتدار دیکر گھر چلے جائیں گے،نگران وفاقی وزیر اطلاعات

منتخب حکومت کو اقتدار دیکر گھر چلے جائیں گے،نگران وفاقی وزیر اطلاعات

لاہور(کامرس رپورٹر)نگران وفاقی وزیر اطلاعات و قانون سید علی ظفر نے کہا ہے کہ صاف شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کروانا ہماری اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن سب سے با اختیار ادارہ ہے ، 25جو لائی کو ملک میں عام انتخابات کروا نے کے لیے تمام تیاریاں ہیں اور ہم آئینی طور پر منتخب ہونے والی حکومت کو اقتدار منتقل کر کے مقررہ آئینی مدت میں اپنے گھروں کو چلے جائیں گے اس میں کسی کو شک شبہ نہیں ہونا چائیے ۔پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج اکانومی اور دوسرا نیشنل سیکیورٹی کا ہے ۔معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے پاکستان کے ریزرو میں 50فیصد تک کمی آ گئی ہے تاہم نگران حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم شارٹ اور فوری نوٹس لینے والے فیصلے نگرا ن حکومت ملکی مفاد میں کر رہی ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے یو نی فائیڈ میڈیا کلب کی جانب سے الیکشن 2018اور آزادی اظہار کے موضوع پر منعقدہ میڈیا سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الر حمن شامی ،دنیا گروپ کے ایگزیکٹو گروپ ایڈیٹر سلمان غنی ، لاہور پر یس کلب کے صدر اعظم چوہدری ، کالم نگار و تجزیہ کار سجاد میر ، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش ،یونی فائیڈ میڈیا کلب پاکستان کے صدر محمد حسان ،ہارون اکرم گل ، سید علی عمران سمیت مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے کثیر افراد نے شر کت کی ۔نگران وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پارلیمان نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کو بڑھا دیا ہے ہم الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق کام کررہے ہیں ۔جتنے امیدوار بھی نتخابات میں حصہ لے رہے ہیں میں انہیں سلام پیش کرتا یوں۔سید علی ظفر نے کہا کہ منتخب حکومت کو کافی چیلنجز کا سامنا کرنا ہڑے گا.نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ بھی ان مسائل میں شامل ہے۔ آنے والے دنوں میں معیشت سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔دوسرا مسئلہ قومی سالامتی اور تیسرا سب سے اہم مسئلہ ڈیمز کا ہے ۔اس وقت تیرہ بڑے ڈیم بنانے ہونگے ورنہ بھارت کیساتھ پانی پر جنگ لڑنا ہوگی۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الر حمن شامی نے کہا کہ نگران حکومت اپنے فرائض بہتر طریقہ سے نبھاتے ہوئے سیدھی راہ پر چل رہی ہے ہم آزاد ی کی بات کرتے ہیں تو میڈیا نمائندوں کو چائیے کہ وہ غور اور سوچ کے بعد اپنی رپورٹ پیش کریں ۔مرحوم نظامی صاحب کا کہنا تھا کہ صحافت کے لیے تین بنیادہی باتیں ہیں جن میں باعلم ، با خبر اور با کردار ہونا چائیے ۔پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ہمارے اداروں پر تنقید ہو رہی ہے فوج ہمارا قومی ادارہ ہے اور اس کا وقار ہر قیمت پر برقرار رہنا چائیے اور اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اس کے ازالہ ہونا چائیے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا والے جانتے ہیں کہ کس دباؤ میں کام کررہے ہیں کیسے نگرانی کی جاتی ہے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سکت آجاتی ہے ۔ انتخابات کے دن کو شدت سے مانیٹر کر نا چائیے تاکہ صاف شفاف الیکشن ہو سکیں۔سلمان غنی نے کہا کہ قومی انتخابات دنیا بھر میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیو نکہ اقتدار میں آنے والی حکومت کو معاشی اور ریاستی سطح پر فیصلے کرنا ہوتے ہیں ۔ سجاد میر نے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری معیشت چارٹر ڈ اکاؤ نٹنٹ کے ہاتھوں میں ہے جبکہ نگران حکومت نے بھی انٹرسٹ ریٹ ، پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمت کو بڑھاکر آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کے راہ ہموار کی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ہم سی پیک سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری نے کہا کہ ہمیں ایسا آزادی اظہار ہو نا چائیے کہ ہم ہر سچ بات ڈنکے کی چوٹ پر کر سکیں ۔35سال اقتدار میں رہنے والے آج کہہ رہے ہیں کہ جیلوں کی حالت بہتر نہیں۔میڈیا کانفرنس کے اختتام پر صدر محمد حسان نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

وزیر اطلاعات

مزید : علاقائی