قومی یکجہتی وسلامتی اور شفاف الیکشن کیلئے میڈیا غیرجانبدار رہے

قومی یکجہتی وسلامتی اور شفاف الیکشن کیلئے میڈیا غیرجانبدار رہے

  

انتخابی تجزیہ: نصیر احمد سلیمی

2018ء کے قومی انتخابات کیلئے ڈے آف پولنگ میں صرف تین دن رہ گئے ہیں یہ سطور شائع ہونگی تو انتخابی مہم ختم ہونے میں 48گھنٹے سے بھی کم وقت رہ جائیگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام بڑی جماعتوں نے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کر کے انتخابات کے التوا کے خواہشمندوں ک امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ جنہوں نے سینہ گزٹ’’ میڈیا‘‘ کے ذریعہ طرح طرح کے افواہوں ، قیاس آرائیوں کی کانا پھونسی سے یہ سماں باندھ رکھا تھا کہ جیسے انتخابات کا التوا کرنے والوں نے انہیں اپنا غیر ادارہ جاتی ترجمان مقرر کر رکھا ہے۔‘‘ انتخابات کے حوالہ سے کنفیوژن پیدا کرنے والوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا کریڈٹ سیاسی جماعتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن ، سپریم کورٹ نگران وزیر اعظم اور آرمی چیف کو بھی دیا جانا چاہئے۔ جنہوں نے انتخابات کے التوا کے حوالہ سے پھیلائی جانے والی ہر قسم کی خبروں، تبصروں اور تجزیوں پر دو ٹوک موقف رکھا کہ انتخابات ایک دن کی تاخیر کے بغیر الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہی ہونگے۔کیا ہی اچھا ہو کہ الیکشن کمیشن اور پولنگ کے عمل میں سکیورٹی فراہم کرنے والا ادارے ’’ڈے آف پولنگ 25جولائی کو ملک بھر میں انتخابی عمل کو اتنا صاف شفاف رکھنے میں کامیاب ہو جائے کہ آزاد اور غیر جانبدار ملکی اور عالمی میڈیا اور دنیا بھر سے آئے مبصرین انتخابی عمل کے منصفانہ، آزادانہ، غیر جانبدارانہ نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جانے کے بجائے، صاف شفاف انداز ہی ہونے پر مہر تصدیق ثبت کرنے پر مجبور ہو۔ اس کی ضرورت اس لئے بھی از بس ضروری ہے کہ تحریک انصاف کے علاوہ انتخابات میں حصہ والی تمام جماعتیں اور آزاد میڈیا اس پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ انتخابات کو متنازعہ اور مشکوک بنانے میں وہ زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں، جو ہمارے ’’قومی اداروں‘‘ کے اپنے تین غیر سرکاری ترجمانوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ انتخابی عمل کی شفافیت سے وطن عزیز کو قومی سلامتی اور قومی یکجہتی جڑی ہوتی ہے آزاداور غیر جانبدار میڈیا سے تعلق رکھنے والا عامل صحافی اور مالک اخبار نویس، اپنے ضابطہ کے تحت اس امر کا پابند ہے کہ وہ اپنی ذاتی پسند نا پسند اپنے سیاسی نظریات اور نہ ہی رجحانات سے بالاتر ہو کر کسی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ کی حمایت یا مخالف کے بجائے وہی لکھے اور نشر کرے۔ جیسے وہ ہوتا ہوا دیکھ رہا ہو۔ ڈے آف پولنگ سے قبل انتخابی جائزہ میں بھی اسی ضابطہ اخلاق کو پیش نظر رکھا جائے۔ تو سندھ کے انتخابی جائزہ کو تین حصوں میں اس طرح دیکھا جا سکتا ہے کہ کراچی اور اس کے مضافات میں کسی ایک جماعت کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ ڈے آف پولنگ متوقع نتائج کیا ہونگے۔ تین عشروں سے سندھ کے شہری حلقوں میں بھی شرکت غیرے نمائندگی رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کے اندر داخلی اور خارجی عوامل کی بنا پر ہونے والی توڑ پھوڑ اور دھڑے بندی کے باعث وہ اپنا دبدبہ بھی کھو چکی ہے اور حالانکہ جبر نے اسے داخلی اور خارجی ان سرپرستوں کی سرپرستی سے بھی محروم کر دیا ہے۔ جس کے باعث ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ ان کے ناز نخرے اٹھانے کو ہی فول مفاد کا تقاضا بیٹھتی تھی۔ تاہم ایم کیو ایم نے سندھ کے شہری علاقوں سے رواں رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو بنیاد بنا کر اپنا جو ووٹ بنک بنایا تھا وہ اپنی جگہ ہنواز ایک حقیقت ہے ۔ کراچی یا سندھ کے شہری حلقوں کے معروضی حقائق اور کوائف سے کما حقہ ہی کوائف سے ناواقف دوست اردو بولنے والی پوری کمیونٹی اور اس کے ووٹ کو ایم کیو ایم کا ووٹ بنک قرار دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں 1987ء کے بلدیاتی انتخابات سے جبکہ2013ء تک ہونے والے تمام قومی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں ’’مہاجر کارڈ کے نام پر ایم کیو ایم کو پڑنے والا‘‘ ووٹ بنک’’آج بھی ایم کیو ایم کے علاوہ کسی دوسری جماعت کو نہیں پڑے گا۔ ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے مہاجر قومی موومنٹ اور پاک سر زمین کے نام سے انیس قائم خانی اور مصطفےٰ کمال کی پارٹی کو جو ووٹ پڑے گا وہ بھی ’’مہاجر کاؤ‘‘ کا ووٹ بنک ہو گا۔ تاہم ذہنی حقائق کو دیکھنے ہونے آزادانہ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں اور مبصرین کا اندازہ ہے۔‘‘ مہاجر کاؤ کے نام پر بننے والا ’’ووٹ بنک‘‘ تقسیم نہیں ہو گا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ کسی ایک کے پلڑے میں جائیگا۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیق کی قیادت میں قائم ایم کیو ایم بہادر آباد جس میں ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں الگ ہونے والا پی آئی بی کالونی گروپ واپس آ چکا ہے) گروپ بی کے حق میں جائیگا۔ ڈاکٹر فاروق ستار اسی گروپ کی طرف سے پتنگ کے نشان پر کراچی کے حلقے این اے 247، اور این اے 245 سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ 245کے حلقے میں کامیابی کی توقع کی جا رہی ہے۔ آفاق احمد خان کی قیادت میں 1992ء میں قائم ہونے والا جو دھڑا ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) کی کامیابی کا کوئی امکان ہے۔ تو وہ صرف آفاق احمد خان کی اپنی نشست کا ہے۔ ایسی بات دو سال قبل انیس قائم خانی اور سید مصطفےٰ کمال کی قیادت میں الطاف حسین سے بغاوت کر کے پاک سر زمین پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں اترنے والے دھڑے کی تو اس کا اپنا دعویٰ تو یہ ہے کہ ان کی جماعت سندھ میں اتنی تعداد میں نشستیں حاصل کرے گی کہ وہ سندھ میں مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہونگے تاہم ذہنی حقائق اور ان کے دعوؤں میں کوئی مطابقت نظر نہیں آئی تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ وہ سرے سے کوئی ایک دو نشستیں بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ ایم کیو ایم (متحدہ قومی مومنٹ) اپنا دعویٰ تو اب بھی یہی ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرف شہری علاقوں کی واحد نمائندہ جماعت کے طور پر کامیاب ہو گی۔ مگر زمینی حقائق اور آزاد غیر جانبدار تجزیہ نگار اور مبصرین ان کے اس دعوؤں کی تصدیق کرنے سے اپنے آپ کو خاصر پاتے ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ وہ کراچی کی آج نشستوں میں سے اتنی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جانے ۔ جتنی تعداد میں کراچی سے حصہ لینے والی دوسری کسی ایک جماعت کے حصہ میں نہ آتے۔ اگر ایم کیو ایم نے سات آٹھ نشستیں بھی حاصل کر لی۔ تو وہ اس لحاظ سے بڑی جماعت ہو گی کہ کسی دوسری ایک جماعت کا اتنی تعداد میں نشستیں حاصل کرنا نظر نہیں آتا۔ پیپلزپارٹی ماضی کے مقابلے میں اس بار زیادہ تعداد میں نشستیں لینی نظر آ رہی ہے۔ مگر اتنی نہیں کرا سکی نشستیں کراچی میں ایم کیو ایم سے زیادہ ہو جائیں یہ اور بات ہو گی کہ اس کی نشستیں کراچی میں ایم کیو ایم سے زیادہ ہو جائیں یہ اور بات ہو گی کہ اگر ایم کیو ایم (لندن) کی بائیکاٹ کی اپیل کارگر ہو جاتے۔ جس کے بظاہر امکان نہیں ہے تحریک انصاف نے 2013ء میں آٹھ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے، تاہم قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس بار ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حیران کن نتائج حاصل کرینگے۔ ان کا دعویٰ جو بھی ہو پیپلزپارٹی کی پوزیشن کراچی میں ان سے بہتر نظر آ رہی ہے۔ وہ کم سے کم تین نشستوں سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی مسلم لیگ (ن) ایم ایم اے اور اے این پی میں اگلے 48گھنٹوں میں کراچی کی بنیاد پر میٹ ارجمنٹ کا فارمولا باقاعدہ طے ہو جاتا ہے، تو تینوں جماعتوں کے پانچ ، چھ امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کی درمیان تو سیٹ ارجمنٹ ہو گئی ہے تاہم میاں شہباز شریف کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں قائم ایم ایم اے کے ساتھ سیٹ ارجمنٹ کرنا ضروری اس وجہ ہے کہ میاں شہباز شریف کے حلقے میں صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں ایم ایم اے کے ٹکٹ پر مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کے امیدواروں کے پاس ہے۔ ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سیٹ ارجمنٹ ہو جاتی ہے تو مفتتاح اسماعیل کی کامیابی کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 2013ء میں کراچی سے واحد رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف اپنی نشست بچانے کے لئے محنت تو بڑی کر رہوے ہیں دیکھئے ڈے آف پولنگ کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سیڑھی کے حلف این اے 243 میں پوزیشن بہتر ہوتی ہے۔ اب آزاد مبصرین بی ان کی کامیابی کے امکانات کو درپیش ہوا دیکھ رہے ہیں۔ قبل ازیں تحریک انصاف کے اپنے لوگ آف دی ریکارڈ گفتگومیں ان کی کامیابی کے بارے میں یہ اعتماد نہیں تھے۔ ان کی انتخابی مہم میں کراچی میں تعمیرات کی صفت سے تعلق رکھنے والے بلڈرز خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔ معروف اسٹاک مارکیٹ کے بروکر اور کراچی کے ایک بڑے بلڈر عقیل کریم ڈھڈی نے تاجروں اور صنعت کاروں کو عمران خان کی انتخابی مہم یا متحرک کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ حیدر آباد میں شہر کی قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ایم کیو ایم کے امیدواروں کی پوزیشن بہتر نظر آ رہی ہے البتہ چھ صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے تین پر ایم کیو ایم کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات درست نہیں نظر نہیں آتے اندرون سندھ لوئر سندھ جس میں ضلع حیدر آباد کا وہی علاقہ اور اس کے قرب و جوار کی تحصیلیں شامل ہیں ضلع جام شورو، قلع دادھ، ضلع سانگھڑ، ضلع بدین، ضلع میرپور خاص، ضلع سند بار کر، ضلع عمر کوٹ کے اضلاع میں شامل ہیں۔ بالائی سندھ جس میں ضلع نوشہرہ فراز، ضلع نواب شاہ، ضلع خیر پور ، ضلع سکھ، ضلع گھونکی ضلع شکارپور، قلع لاڑکانہ ضلع جیکب آباد اور قلع کشمور شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کو 1988ء کے بعد پہلا باب قاعدہ انتخابات کو انتخابات کی طرح لڑنا پڑ رہا ہے۔ مجموعی طور پر پیپزلپارٹی کی برتری نظر آتی ہے ۔ مگر لگتا ہے کہ بعض اضلاع میں پیپلزپارٹی جی ڈی اے اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ہاتھوں جس میں تحریک انصاف اور آزاد امیدوار شامل ہیں۔ حزیمت سے دوچار ہونا پڑے گا اس کا تفصیلی جائزہ کل لینگے۔

انتخابی تجزیہ

مزید :

تجزیہ -