ایفی ڈرین کیس ، عمر قید ، کمرہ عدالت سے گرفتار شریک ملزمان بری

ایفی ڈرین کیس ، عمر قید ، کمرہ عدالت سے گرفتار شریک ملزمان بری

 راولپنڈی(جنرل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو انسداد منشیات کی عدالت نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں عمر قید کی سزا سنادی ،عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ وہ الیکشن لڑنے کیلئے بھی نااہل ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطا بق راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار اکرم خان کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے 363 کلو گرام ایفیڈرین کا درست استعمال کیا گیا جبکہ ملزم حنیف عباسی باقی ایفیڈرین کے استعمال کا ثبوت نہ دے سکے۔عدالت نے ایفیڈرین کیس کے باقی7 ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا۔عدالت نے دوپہر سوا بارہ بجے سے فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے رات گیارہ بجے سنایا گیا۔انسداد منشیات فورس کے اہلکاروں نے حنیف عباسی کو گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا، انکے ہمراہ رینجرز کے اہلکار بھی موجود تھے۔انسداد منشیات عدالت کے جج جسٹس محمد اکرم کے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے احتجاج کیا، عدالت کی کھڑکی کے شیشے اور گملے بھی توڑ دیے، حنیف عباسی کارکنوں کو روکتے رہے۔ حنیف عباسی کی گرفتاری پر وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کردی اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔بعد ازا ں میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی نے کہا مجھے فیصلے سے کوئی مایوسی نہیں ہوئی، میں خوشی سے گرفتار ہوکر جیل جارہا ہوں مجھے کسی قسم کی کوئی شرمندگی نہیں فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا۔خیال رہے حنیف عباسی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 راولپنڈی سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے اور اس حلقے سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔حنیف عباسی سزا کے بعد الیکشن کیلئے بھی نااہل ہوگئے ہیں جس کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان جاری کرے گا۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے ن لیگ کسی آزاد امیدوار کو شیر کا نشان الاٹ کرنے کی درخواست دے سکتی ہے۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق درخواست ملنے کے بعدالیکشن کمیشن شیر کا نشان الاٹ کرنے پر غور کرے گا اور درخواست کے بعد نئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا خر چہ درخواست گزار سے لیا جائے گا۔راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اور حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی 12 بجے کی ڈیڈ لائن میں اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔حنیف عباسی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جو دوائیں فروخت کی گئیں ان کی بینک ٹرانزکشن موجود ہیں، اے این ایف نے جو ریکارڈ دیا وہ ادھورا تھا، صرف لیبارٹری رپورٹ دی گئی،گولیوں کی پروڈکشن اور ان میں ایفیڈرین کی مقدار کا نہیں بتایا گیا۔وکیل صفائی نے عدالت میں سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرا نز کشن کاریکارڈ بھی پیش کیا۔وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ فیصلہ تین سے چار گھنٹے میں سنایا جائے گا۔ساڑھے تین بجے عدالت کے جج فیصلہ سنانے کیلئے چیمبر میں آئے تو (ن) لیگی کارکنان کا رش لگ گیا جس پر جج نے چیمبر سے کمرہ عدالت میں آئے اور برہمی کا اظہار کیا۔جج نے عدالت میں موجود افراد کو باہر جانے کی ہدایت کی اور عدالتی عملے کو پولیس بنانے کا حکم دیا۔عدالت کے حکم پر انسداد منشیات کی عدالت کے عقبی راستے پر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تھی اور عدالت کے عقبی راستے پر بکتر بند گاڑی بھی پہنچ گئی تھی، اے این ایف اور پولیس اہلکاروں نے کچہری سے باہر جانیوالے راستے کو بھی بند کر دیا تھا۔یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پہلے ہی انسداد منشیات کی عدالت کو حنیف عباسی کیخلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دے رکھاتھا۔ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم اعلیٰ عدالت نے 17 جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی و دیگر ملزمان پر جولائی 2012 میں 5 سو کلو گرام ایفی ڈرین حاصل کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا ۔ اس مقدمے میں حنیف عباسی کے علاوہ غضنفر، احمد بلال، عبدالباسط، ناصر خان، سراج عباسی، نزاکت اور محسن خورشید نامی افراد بھی شامل تھے۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں دورانِ سماعت 5 ججز ہوئے جبکہ کیس میں 36 گواہان نے اپنی شہادتیں قلمبند کرائیں۔ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایفی ڈرین کا غلط استعمال کیا۔ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے حنیف عباسی سمیت دیگر ملزمان پر 9 سی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

مزید : صفحہ اول