کراچی کا انتخابی محاذ گرم نئے جنگجوں میدان میں کود گئے

کراچی کا انتخابی محاذ گرم نئے جنگجوں میدان میں کود گئے

  

(تجزیاتی رپورٹ/نعیم الدین)

 کراچی میں اس وقت کوئی بھی مضبوط قیادت سامنے نہیں ہے، کوئی بھی پارٹی اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ تمام نشستیں کراچی کی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ شہر قائد میں ماضی میں پیپلز پارٹی پھر جماعت اسلامی ، جمعیت علماء پاکستان اور متحدہ قومی موومنٹ کا راج رہا ہے۔ جبکہ اس وقت کراچی میں جو جماعتیں خود کو دعویدار سمجھ رہی ہیں ان میں پی ایس پی اور پی ٹی آئی کا اضافہ ہوا ہے۔ 2018 کے انتخابات کسی اور پارٹی کیلئے اہم ہوں یا نہ ہوں ، لیکن متحدہ پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔ پی ایس پی و دیگر سیاسی قوتیں مضبوط حریف کے طور پر اس کے سامنے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکنان جو کبھی کسی اور جماعت میں جانے کا سوچتے نہیں تھے، اب مختلف سیاسی جماعتوں میں حصہ لے رہے ہیں ، کراچی کی گلیوں اور سڑکوں پر مختلف سیاسی جماعتیں آزادانہ اپنے اپنے جھنڈے لگارہی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ 31 سال بعد کراچی کی سیاست کا رخ بدل گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور لوگ بغیر خوف کے اپنی اپنی پارٹی کا پرچار کررہے ہیں ، ہر جماعت کو لوگ صبر تحمل سے سن رہے ہیں، یہ وہی شہر ہے جہاں جھنڈے، بینرز لگانے اور بات بات پر اسلحہ نکل آتا تھا۔ لوگ خوف کی زندگی گذارتے تھے۔ الیکشن تمام سیاسی جماعتوں جن میں ایم کیو ایم پاکستان شامل ہیں، اپنے اپنے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن پہچانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اس سے یہ اندازہ آسانی سے لگایا جاسکے گا کہ کراچی کے شہریوں کے پاس چوائسز موجود رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان ، پی ایس پی، پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کا سندھ میں حکومت سازی کے لیے اتحاد ہوسکتا ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -