ملک میں تعلیم و تربیت کے فروغ میں دینی مدارس کا کلیدی کردار رہا ، دوست محمد خان

ملک میں تعلیم و تربیت کے فروغ میں دینی مدارس کا کلیدی کردار رہا ، دوست محمد ...

  

 پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے ملک میں تعلیم وتربیت کے فروغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ کے کردار کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ دین کے خدمت گار ہمارے لئے قابل قدر ہیں ۔ زندگی کے دیگر اُمور اور سماج کی اصلاح کے ساتھ عام انتخابات کے پرامن ، شفاف اور کامیاب انعقاد کیلئے بھی علماء اور رائے عامہ کے رہنماؤں کا کرداربڑی اہمیت رکھتا ہے ۔اُنہیں چاہیئے کہ وہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق اور نگران حکومتوں کے پلان پر عمل درآمد میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ عوام ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں اوران پر اعتما د کرتے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے کردار سازی کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے ورلڈ کلاس اسلامک ٹریننگ اکیڈمی قائم کرنے کی تجویز دی ہے اور دینی و عصری تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کیلئے باضابطہ سسٹم کو ناگزیر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کی بقاء و سلامتی معاشرے کی اصلاح میں ہے ۔ دو رپر فتن میں اپنی نوجوان نسل کو غلط رجحانات سے بچانا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ جس کیلئے انفرادی کاؤشوں کی بجائے قابل عمل نظام کے تحت مربوط اجتماعی جدوجہد یقینی بنانا ہو گی ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سیکرٹری جنرل وفاق المدارس قاری حنیف جالندھری کی سربراہی میں نمائندہ وفد سے گفتگو کر رہے تھے ۔ قاری عبد الواحد مکی اور وفاق المدارس سے وابستہ دیگر علماء وفد میں شامل تھے ۔ قاری حنیف جالندھری نے نگران وزیراعلیٰ کو وفاق المدارس کی بنیاد ، اس کے قیام کے پس پردہ مقاصد ، وفاق المدارس کے تحت چلنے والے مدارس ، طلباء و طالبات کی تعداد ، طریق تدریس اور دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفینگ دی اور حکومت سے وابستہ اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کے نفسا نفسی کے دور میں نئی نسل کو خرافات سے بچانے کیلئے علماء و مدارس کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ معاشرہ رفتہ رفتہ خرابی کی طرف بڑھ رہا ہے جس کی اصلاح کیلئے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے مدارس کی رجسٹریشن محکمہ تعلیم کے تحت کرانے کیلئے اقدامات کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ نگران صوبائی حکومت اس اہم مقصد کیلئے آرڈنینس بھی نافذ کرسکتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مختلف آفات اور شدت پسندی کے خلاف جنگ سے متاثرہ دینی مدارس و مساجد کی تعمیر نو و بحالی انفراسٹرکچر کی بحالی کے مجموعی پلان میں شامل ہے اور کہا ہے کہ ہم دین کی خدمت سمجھ کر مسائل حل کریں گے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق کی بحالی اور اُنہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے سرکاری وسائل کے شفاف استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بندوں کے حقوق کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ ان وسائل پر عوام کا حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقدار کو حق کی فراہمی یقینی بنائے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے شہ خرچیوں کی حوصلہ شکنی کرنے اور میانہ روی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستان کو قدرت نے بے پناہ خزانے دیئے ہیں اگر اس ملک کے عوام کی شعوری سطح بلند ہو جائے اور اسے ملکی مفاد میں استعمال کرے تو حالات سدھر سکتے ہیں۔ نگران صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ آنے والی حکومت کیلئے ایسا روڈ میپ چھوڑکر جائے جس پر چل کر اس صوبے کو بہترین صوبہ بنایا جا سکے ۔ اُنہوں نے اس موقع پر خیبرپختونخوا میں شامل ہونے والے نئے اضلاع کا خصوصی تذکرہ کیااور کہاکہ وہاں کے عوام کیلئے فوری ریلیف سمیت شارٹ ٹرم ، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلان بنا رہے ہیں تاکہ آفات اور شدت پسندی کے متاثرہ عوام کی تیز رفتار بحالی ممکن ہو سکے ۔ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے ایک علیحدہ محکمے کے قیام کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے ۔ دُنیا کی بہترین ڈونٹر ایجنسیوں سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے پی سی ہوٹل پشاور میں ڈونرز کانفرنس کا وعدہ کیا ہے کیونکہ ہمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے ٹھیک ٹھاک سرمائے کی ضرورت ہے ۔ مولانا حنیف جالندھری نے فاضلین اور مدرسین کی تربیت کیلئے اکیڈمی کے قیام اور تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کی تجاویز سے اُصولی اتفاق کیا اور اس سلسلے میں سنجیدہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اُنہوں نے کہاکہ ہم بھی ایک پرامن پاکستان کے خواہاں ہیں ۔ وہ دہشت گردی کے خلاف مختلف اوقات میں فتاوی بھی جاری کر چکے ہیں۔ اُنہوں نے نگران وزیراعلیٰ کی دین دوستی ، سوچ اور جذبے کو سراہا اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے عام انتخابات 2018 ء کے انعقاد کے سلسلے میں نگران صوبائی حکومت کی ہدایات کے تحت صوبائی اداروں کی کارکردگی اور اہداف میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام مطمئن رہیں وہ خود ساری صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں۔ ہم اپنے اہداف سے آگے جارہے ہیں جو خوش آئند ہے ۔ اپنی غیر جانبداری اور شفافیت پر کسی کو اثر اندا زنہیں ہونے دیں گے ۔ پرامن ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ہماری آئینی کردار ہے ۔ ہم نے اپنے آئینی اختیارات کے عین مطابق ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں تاکہ عوام کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کیلئے پرامن اور مناسب ترین ماحول فراہم کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومت کے فوکل پرسن پریس سیکرٹری بہرہ مند کی طرف سے انتخابات کی تیاریوں پر پیش رفت کے حوالے سے دی گئی بریفینگ کے دوران کیا۔ فوکل پرسن بہر ہ مندنے نگران وزیراعلیٰ کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ صوبہ اپنے مطلوبہ اہداف سے آگے جارہا ہے ۔ انتخابات کے غیر جانبدار اور شفاف انعقاد کیلئے نگران وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق پولنگ سٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے اور ساڑھے نو سو سے زائد کیمرے لگائے جا چکے ہیں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار حالات مختلف ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر معمولی اقدامات اور انتظامات کئے جارہے ہیں۔ فوکل پرسن نے بریف کیا کہ پولنگ سٹاف اور انتخابی مواد کی محفوظ ترسیل کے سلسلے میں بہترین انتظامات یقینی بنانے کیلئے تمام ڈپٹی کمشنران کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز کو منتخب مقامات پر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے جہاں پولنگ سٹاف متعلقہ سٹیشنز پر روانہ ہونے سے پہلے جمع ہو گا ۔ انتخابات کے انعقاد کیلئے سول ٹرانسپورٹ کے انتظامات تیز رفتاری سے جاری ہیں اور متعلقہ اضلاع سے مطلوبہ ڈیمانڈ موصول ہو چکی ہے ۔ اس پر تیز ی سے پیش رفت ہو رہی ہے ۔ صوبے میں ایک کروڑ 78 لاکھ 31ہزار 250 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں ایک کروڑ 2 لاکھ 16 ہزار 456 مرد ووٹرز جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 76 لاکھ 14 ہزار794 ہے ۔ انتخابی مواد کی محفوظ ترین سٹوریج کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور حساس پولنگ سٹیشنز کو خصوصی سکیورٹی دینے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق پولیس فورس اور دیگر تمام سرکاری ملازمین جو انتخابات کے مجموعی عمل میں کسی بھی صورت میں حصہ لے رہے ہیں ، کو غیر جانبدار رہنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے ۔ بیلٹ پیپرز کی سٹوریج کیلئے ڈپٹی کمشنران کو متعلقہ حکام سے رابطے میں رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں اور ہدایت پر عمل درآمد رپورٹ موصول ہو چکی ہے ۔ پولنگ سٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور ناپید سہولیات و سٹاف کی فراہمی کے سلسلے میں ہدایات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور اُس کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیجی جا چکی ہے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے اقدامات کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ آنے والے چند ایام پہلے سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ پرامن اور شفاف انتخابات کیلئے اقدامات میں تیز رفتاری نظر آنی چاہیئے کسی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں اور اپنی آئینی ذمہ داریوں پر فوکس کریں ۔ پروپیگنڈہ پروپیگنڈہ کی حد تک رہے اور حقائق عوام پر منکشف ہونے چاہئیں۔ اُنہوں نے کہاکہ نگران حکومت کو ماضی کے برعکس موجودہ حالات کی حساسیت کے مطابق فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد عوام کو حق رائے دہی کے استعمال کیلئے مناسب ترین ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی مرضی سے اُمیدواروں کے انتخابات کیلئے ووٹ کا حق استعمال کرسکیں۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے بینکنگ سسٹم میں تحقیق پر مبنی جدت متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے غریب عوام کی مالی معاونت کے سلسلے میں نیشنل بینک کی قرضہ فراہمی سکیم کو سراہا تاہم اُنہوں نے انفرادی اور ذاتی کار کی بجائے جدید ترین منی کوچز کی حوصلہ افزائی کی تجویز دی ۔وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے ریجنل سربراہ سہیل احمدسے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ان سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وقار احمد ، ریجنل ایگزیکٹو بزنس نیشنل بینک پشاور ریجن اور سیف الگیر آفریدی، برانچ سیلز اینڈ سروسز منیجر نیشنل بینک بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اُمور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ نیشنل بینک ہمارا قومی سرمایہ ہے عوام کو خدمات کی فراہمی میں نیشنل بینک کا کردار بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور رش کو مدنظر رکھتے ہوئے بینک کو چاہیئے کہ وہ انفرادی کار کی خریداری کے عمل کی حوصلہ شکنی میں کردار ادا کر ے اور منی کوچز کیلئے قرضے فراہم کرے ۔ یہ زیادہ محفوظ اور ماحول دوست ہیں ۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمیں اس سلسلے میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ آلودگی ریڈ لائن عبور کر چکی ہے جس سے صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ملاقات میں پاکستان کے ڈاکخانہ سسٹم پر بھی تبادلہ خیالات کیا گیا اور اس نظام میں جدید رجحانات کو فروغ دینے اور صحیح معنوں میں فعال کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا ۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان کا ڈاکخانہ سسٹم دُنیا میں ڈاک کا بہترین نظام مانا جاتاتھا ۔ آج بھی ہر سطح پر اس کا نیٹ ورک موجود ہے جس میں جدت لانے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -