معاہدے میں مشکلات کے ذمہ دار دونوں ممالک ہیں ،ضیاء الحق

معاہدے میں مشکلات کے ذمہ دار دونوں ممالک ہیں ،ضیاء الحق

  

پشاور( سٹی رپورٹر)فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس گروپ (FCAG)خیبر پختونخوا کے صدر،پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(PAJCCI)کے ڈائیریکٹرضیاء الحق سرحدی نے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے موجودہ معاہدے میں درپیش مشکلات کا ذمہ داردونوں ممالک کی بیوروکریسی کو قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے فوری طور پر اس معاہدے پر نظر ثانی نہ کی اور ایگریمنٹ میں درپیش مشکلات کو دورکرنے کے لئے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو پاکستان اور افغانستان کے مابین افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا عمل باقاعدہ طور پر ختم ہو جائے گا اور اس کا تمام فائدہ بھارت اور ایران حاصل کرے گا جو کسی بھی صورت پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ایک اخباری بیان میں سرحد چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر اور چیمبر کی ڈرائی پورٹ اور ریلوے سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین ضیاء الحق سرحد ی نے کہا کہ افغانستان کی بڑی در آمدی منڈی اور وسط ایشیائی ریاستوں کی تیزی سے ترقی کرتی منڈیوں سے بھر پور استفادہ کیلئے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور تجارتی معاہدوں کے مسائل سے افغانستان کو ہونیوالی ملکی بر آمدات کم ہو رہی ہیں اور افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (APTTA)2010کا معاہدہ جو کہ ایک دباؤ کے تحت ہوا تھا وہ اب بری طرح سبوتاژ ہو چکا ہے۔اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے مابین حکومتی سطح پر کئی میٹنگز بھی ہوئیں جو کہ بے سود ثابت ہوئیں ۔ انہوں کے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے تقریباً اے ٹی ٹی کا کاروبار ایران کی بندرگاہ چا بہار اور بندر عباس منتقل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پاک افغان باہمی تجارت کاحجم جو کہ تقریباً 2.5ارب ڈالر تھا مزید کم ہو گیا ہے اور 50کروڑڈالر کی خطرناک سطح پر آگیا ہے۔جبکہ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ یہ حجم 5ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔اس لئے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکا م کو چاہیے کہ ملک کے بہترین اقتصادی مفادات کی روشنی میں فیصلہ کریں اور دونوں ممالک کی بیورو کریسی کی جانب سے پیدا کی جانیوالی مشکلات کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔تاکہ پاک افغان باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔

Back

مزید :

پشاورصفحہ آخر -