انتخابات میں دو دن باقی ، لیکن قبر کے انتخابی نشان والے امیدوار کی حقیقت کیاہے ؟ ایسی خبر آ گئی کہ جس دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جائیں گے کیونکہ۔۔

انتخابات میں دو دن باقی ، لیکن قبر کے انتخابی نشان والے امیدوار کی حقیقت ...
انتخابات میں دو دن باقی ، لیکن قبر کے انتخابی نشان والے امیدوار کی حقیقت کیاہے ؟ ایسی خبر آ گئی کہ جس دیکھ کر اس کے ہوش اڑ جائیں گے کیونکہ۔۔

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ملک میں عام انتخابات میں صرف دو دن باقی ہیں جبکہ کل انتخابی مہم کا بھی آخری روز ہو گا اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں اور جگہ جگہ جلسے اور کارنرمیٹنگز کا انعقاد کیا جارہاہے تاہم ایسی صورتحال میں آپ نے کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ضرور دیکھی ہو گی میں میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک آزاد امیدوار کو انتخابی نشان ” قبر “ مل گیا ہے تاہم اب اس کی اصل حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس دوران ڈائریکٹرایف آئی اے نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ” جعلی امیدوار کی طرف سے انتخابی نشان قبر کی پوسٹ پھیلانے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور جلد ہی پتا لگا لیا جائے گا ۔“ تاہم دوسری جانب یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک اور پوسٹ بھی بہت وائر ہوتی رہی ہے جس میں دکھایا گیاہے کہ ایک شخص کو ” چوسنی “ کا انتخابی نشان دیا گیاہے تاہم اس حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی ہے کہ یہ درست ہے یا پھر جعلی ۔

بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 31 کی گلیوں میں یہ پمفلٹ چسپاں بھی کئے گئے ہیں جس پر امیدوار نے اپنا انتخابی نشان قبر بنوایا ہے ، پمفلٹ پر انتخابی امیدوار کا نام عبدالعزیز عرف (لڈو) درج ہے جو بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 31 سے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اور اس کا انتخابی نشان قبر ہے۔ قبر پر مزید لکھا ہے کہ اے انسان تو سارا دن صبح سے شام تک کیا سمجھتا ہے، پتا ہے یا نہیں قبر انسان کو 70 بار پکارتی ہے۔ پمفلٹ پر مزید لکھا گیا ہے کہ ”ووٹ دو گے بھی آ وگے۔ نہیں دو گے بھی آو گے۔“

آخر میں انتخابی امیدوار کا یہ خصوصی پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ”میں اقتدار میں آنے کے بعد انشاءاللہ سب کو 4 ماہ کیلئے بھی بھجواوں گا۔“تاہم یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ یہ شخص کوئی انتخابی امیدوار نہیں بلکہ ایک سکول میں استاد ہے جس نے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے انتخابی پمفلٹ پر اشتہار چھپوائے اور چسپاں کروا دیا۔

دوسری جانب ایک اور پمفلٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہاہے جس میں امیدوار نے اپنا انتخابی نشان چوسنی بتایاہے تاہم اس کی صداقت کے حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی ہے ۔ پوسٹر پر اس شخص نے اپنا نام صابر قریشی بتایاہے اور خود کوصوبائی حلقہ 216 سے آزاد امیدوار بتایاہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس