آپ کس شرط پر ووٹ بیچیں گے؟

آپ کس شرط پر ووٹ بیچیں گے؟
آپ کس شرط پر ووٹ بیچیں گے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان کا مستقبل ووٹرز کے ہاتھ میں ہے جبکہ المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ووٹ ڈالنے میں ہی دلچسپی نہیں رکھتے۔ جمہوری نظام سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جانا پریشان کن معاملہ ہے،عوام شدید بے چینی کے ساتھ ساتھ مایوسی کا شکار بھی نظر آتے ہیں ، جبکہ اس صورتحال کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود سیاستدان ہیں جو ووٹ لینے کے لئے اپنی شکل دکھاتے ہیں اور پھر اگلے پانچ سال تک اپنے حلقے کے لوگوں کو اپنا چہرہ تک نہیں دکھاتے نہ ہی عوامی مسائل سنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے امیدوار آج اپنے حلقوں میں جانے سے کتراتے رہے ہیں اور ٹھیک سے الیکشن مہم چلانے سے قاصر ہیں۔ہمارے ملک میں ہر بار کہا جاتا ہے کہ الیکشن کا انعقاد شفاف طریقے سے عمل میں لایا جائے گا لیکن الیکشن کے دوسرے ہی دن دھاندلی کے الزامات لگنا شروع ہوجاتے ہیں جس کے باعث اقتدار میں آنے والی جماعت کو کمزور کرنے کی سازشیں شروع ہوجاتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ برسرِ اقتدار آنے والی جماعت اپنی مدت عوامی خدمت کے بجائے اقتدار بچانے میں گزار دیتی ہے ، اس صورتحال کے باعث ملکی ترقی کا پہیہ رک جاتا ہے اور ملک میں انتہاء پسندی اور انارکی جنم لینا شروع ہو جاتی ہے۔

عام انتخابات ہوں یا سینٹ میں ووٹوں کی خریدوفروخت،ووت خریدا جاتا اور بیچا جاتا ہے ،سینٹ سے ووٹروں کے حلقے تک ۔گاوں گاوں شہر شہر ووٹ بیچے جاتے ہیں لیکن اس بار لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایمان اور پاکستان کی شرط پر ضمیر کی آواز سن کر ووٹ بیچیں ۔پیسہ لیکر ووٹ بیچنا ایک لعنت ہے۔ اس سسٹم نے پوری قوم کو مایوس کیا ہے۔ پچھلے اکہتر سالوں سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمہوریت کے کھوکھلے نعروں جھوٹے وعدوں اور پس پردہ قوتوں کی بار بار مداخلت نے ووٹ کی پرچی سے عوام کا بھروسہ اٹھا دیا ہے، عوام سمجھتے ہیں کہ ان کے ووٹ سے صرف گنتی پوری کی جاتی ہے، اپنی مرضی کی نمائندگی کا حق انہیں حاصل نہیں، لہٰذا ایسے ووٹ کا کیا فائدہ جس سے عوامی نمائندے منتخب ہونے کی بجائے کٹھ پتلیاں منتخب ہوتی ہوں۔ جبکہ ملکی سالمیت اور استحکام کے لیے منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ضروری ہے،جمہوری نظام کی مضبوطی ، پاکستان کی مضبوطی ہے اور اس مضبوطی میں ہی ہماری بقاء ہے۔

آج پورا ملک انارکی اور بے چینی کا شکار ہے، امن وامان کی صورتِ حال دگرگوں ہے، ملک کی اقتصادی اور معاشرتی حالت انتہائی کمزور ہے، غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں خودکشی اور اپنے بچے تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں، ان حالات میں عوام پاکستان نظام میں بہتری چاہتے ہیں، ملک سے کرپشن کا خاتمہ ، احتساب کا موثر نظام اور ملک میں فوری انصاف چاہتے ہیں، تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتیں، اور غیر ملکی قرضوں سے نجات چاہتے ہیں ،اور ملکی مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک مخلص اور ایماندار قیادت کے منتظر ہیں۔ مگر اس کے لئے عوام پاکستان کو اپنا عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، کیا وجہ ہے کہ جب نظام بدلنے کا وقت آتا ہے تو ہم مایوس ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ شاید ہم بھول چکے ہیں کہ ووٹ کا درست استعمال جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، انتخابی عمل کے ذریعے ہم ایک مخلص، بے داغ اور ایماندار قیادت کو آگے لا سکتے ہیں۔ ہمارے ووٹ کے صحیح استعمال کے نتیجے میں ایک مثبت شخص اسمبلی میں پہنچ سکتا ہے اور یوں معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے، اگر نیک لوگ ووٹ نہیں دیں گے تو برے لوگ ہی ہم پر ہمیشہ مسلط رہیں گے۔ نیک لوگوں کی سستی ہی کی وجہ سے ہی برے ان پر مسلط ہوتے آئے ہیں، کیونکہ اچھے لوگ الیکشن کا دن خاموشی سے گھر میں گزار دیتے ہیں اور بُرے میدان مار جاتے ہیں، اس کے بعد یہی اچھے لوگ اگلے کئی سال تک بری حکومت کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ ووٹ ڈالنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے ، کہ وہ اپنی عقل و دانش کو بروئے کار لا کر، اپنے ضمیر کی آواز پر صحیح و اہل امیدوار کو حکمرانی کا اعزاز بخشے، ایسا امید وار جوکہ حکمرانی کے اصولوں پر دسترس رکھتا ہوں اور عملی اقدامات سے عاری نہ ہو۔ ہمیں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے پرفریب نعروں اور دلکش منشور کے جھانسے میں آنے کی بجائے انکی کارکردگی اور ماضی کے کردار کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ حلقے سے جو امیدوار ہیں، ان میں اخلاق اور کردار کے اعتبار سے کون سب سے بہتر ہے۔ سیاستدانوں میں آئیڈیل کا ملنا تو مشکل ہے لیکن یہ دیکھنا چاہیے کہ کس کا ماضی بے داغ ہے ، اور کون دل میں خوف خدا رکھتا ہے، اگر اس کو پہلے کامیابی ملی تھی تو اس نے اپنے حلقے میں کتنے ترقیاتی کام کروائے ، عوام کی خدمت میں کتنا بہتر ثابت ہوا۔

غور طلب بات ہے کہ ہمارے ہاںآبادی کی کثیر تعداد خواتین ووٹرز پر مشتمل ہے اور اکثر خواتین ووٹ سے متعلق آگاہی ہی نہیں رکھتیں، عموماً پسماندہ اور دیہی علاقوں کی خواتین میں یہ چیزنمایاں ہے۔ تاہم کچھ پڑھی لکھی خواتین ایسی بھی ہیں جو کہ اپنے خاندان کے مرد حضرات کے نقش قدم پر چلتی ہیں یعنی اگر مرد حضرات نے کسی جماعت کو ووٹ دیا ہے تو خواتین بھی وہی عمل دہراتی ہیں، جبکہ خواتین میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا شعور اور آزادی ہونا چاہیے ۔ بلاشبہ ووٹ ایک امانت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی شخص کے حق میں گواہی دے رہے ہیں کہ ہم اسے حکومت کا اہل سمجھتے ہیں، اس وجہ سے ہمیں اپنے ووٹ سے متعلق اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوناہے۔ ترقی پسند قومیں برادری ازم ، لسانیت اور فرقہ وارانہ تضادات کی بجائے عوامی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کا دانشمندانہ استعمال کرتی ہیں، اگر ہم واقعی نظام بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ضمیر کی آواز پر مخلص اور ایماندار قیادت کو منتخب کرنا چاہیے ۔ آپ خواہ کسی بھی جماعت یا اس کے امیدوار کو پسند کرتے ہوں ، انتخابات میں حق رائے استعمال کرکے جمہوری عمل کا حصہ ضرور بننا چاہیے ۔

مزید : بلاگ