حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا، پاکستانی سوشل میڈیا پر آگ لگ گئی

حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا، پاکستانی سوشل میڈیا پر آگ لگ گئی
حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا، پاکستانی سوشل میڈیا پر آگ لگ گئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عام انتخابات سے محض 2دن قبل گزشتہ شب مسلم لیگ ن کے رہنماءاور شیخ رشید احمد کے مخالف انتخابی امیدوار حنیف عباسی کو ایفیڈرین کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ کیس گزشتہ سات سال سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔ اس فیصلے کے آنے کی دیر تھی کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ عام صارفین کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماﺅں اور مبصرین نے بھی فیصلے پر تبصرے کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کیا۔

مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے اس فیصلے پر کہا کہ ”حنیف عباسی کے خلاف فیصلے کا اسلوب اور اس کی ٹائمنگ سے واضح ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ امتیازی رویہ برتا جا رہا ہے۔ انتخابات سے قبل ہماری پارٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب سروے ہماری پارٹی کو فتح کے کنارے پر دکھا رہے ہیں۔“ اگلی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ”نواز شریف کے مقدمے کی طرح اس مقدمے کا فیصلہ بھی طویل انتظار کے بعد آدھی رات کو سنایا گیااور وہ بھی الیکشن کے قریب آ کر۔

دوسری طرف دیگر تمام سیاستدانوں، بشمول عمران خان اور آصف علی زرداری، کے مقدمات پر کارروائی الیکشن تک روک دی گئی ہے۔ صرف حنیف عباسی کو ہی اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ہم اس فیصلے کی ٹائمنگ کے پیچھے موجود بددیانتی کی مذمت کرتے ہیں، جس کا محرک سیاسی ہے اور جس کا مقصد مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنا ہے۔ “

آخری ٹویٹ میں شہباز شریف نے لکھا کہ ”مسلم لیگ ن کو اس طرح نشانہ بنائے جانے اور امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے باوجود میں اپنے تمام امیدواروں اور ورکرز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایسے مذموم منصوبوں کے خلاف مزاحمت کریں اور انہیں مسترد کریں اور 25جولائی کو فتح سے ہمکنار ہونے کے عزم سے وفادار رہیں۔ انشاءاللہ جیت مسلم لیگ ن کی ہی ہو گی۔“

مسلم لیگ ن کے رہنماءاحسن اقبال نے عدالت فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر کہا کہ ”الیکشن سے 3روز قبل حنیف عباسی کا فیصلہ بہت سارے سوالات اٹھا گیا۔ الیکشن کی شفافیت پر ایک اور دھبہ۔“

حنیف عباسی کے مخالف امیدوار شیخ رشید احمد نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر کہا کہ ”ایفی ڈرین کوٹا کیس اپنے انجام کو پہنچ گیا، حنیف عباسی منشیات فروخت کررہا تھا، پکڑا گیا۔ حنیف عباسی نے جو بویا وہی کاٹا ہے۔“

پلڈاٹ کے احمد بلال محبوب نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ”قومی اسمبلی کے امیدوار حنیف عباسی کے خلاف جس مشکوک انداز میں رات 11بجے فیصلہ سنایا گیا اس سے انتخابات کی شفافیت کو تباہ کن دھچکا لگا ہے۔ یہ فیصلہ اور اس جیسے دیگر افعال عام انتخابات کی معتبریت(Credibility)کے لیے تباہ کن ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اب ان عوامل سے صرفِ نظر نہیں برت سکتا۔

“معروف صحافی امتیاز گل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ”یہ فیصلہ عدالتی تاریخ پر ایک اور دھبہ ہے۔ حنیف عباسی کی سزا نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو انتہائی مشکوک بنا دیا ہے۔ شریف ٹرائل اور سزا اور اب حنیف عباسی کی سزا، ان فیصلوں سے کچھ بوُ آ رہی ہے۔ بظاہر اس سے مسلم لیگ ن کو ہمدردی مل رہی ہے اور شریف برادران کا بیانیہ زور پکڑ رہا ہے۔ اب شک بہت کم رہ گیا ہے۔“

مزید : جرم و انصاف /سائنس اور ٹیکنالوجی