الیکشن 2018 تبدیلی کا ذریعہ بن کے رہے گا

الیکشن 2018 تبدیلی کا ذریعہ بن کے رہے گا
الیکشن 2018 تبدیلی کا ذریعہ بن کے رہے گا

  

الیکشن کی آمد آمد ہے اور پاکستان میں اک میلے کا سا سماں ہے۔ ظاہر ہے الیکشن ہی تو ایک ایسا موقعہ ہے جب سیاسی جماعتیں اور امیدواران الیکٹوریٹ کے پاس مینڈیٹ کے لئے جاتے ہیں۔ ہر الیکشن میں تھانیدار کی مداخلت ہوتی رہتی ہے لیکن دن بدن یہ عمل شفافیت کی طرف گامزن ہے کیونکہ سوشل میڈیا اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اب یہ مداخلت دستانے اتارے بغیر ناممکن سی بنا دی ہے۔ اسی لئے کیا گھوڑا کیا ہاتھی آج کل مداخلت کنندگان کے نام زبان زد عام ہیں۔

شیر اندر ہے اور اسکے حواری جان لڑا رہے ہیں اور کسی حد تک شہباز شریف مومینٹم برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔ انکی پارٹی ووٹ بنک جذبہ اور عوام کی انکی ریلیوں میں شرکت دیدنی ہے۔ وہ پنجاب کو بچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ ن لیگ کا سوشل میڈیا مریم کی قید کے باوجود آزاد ہے،یہ انکی کامیابی ہے لیکن اس میں وہ کمانڈ اینڈ کنٹرول نہیں ہے جو مریم کے ہوتے محسوس ہوتا تھا لیکن اس سے یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ میڈیا کے بڑے نام ، سول سوسائٹی اور با شعور لوگ کھلم کھلا اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں اور توجہ پا رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گلے بھی پڑ جاتے ہیں لیکن سمجھدار لوگ اپنی بات بتا کر اسکی افادیت سکور دیکھ کر کرلیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی اب سندھ پہ اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ بلاول زرداری کا پہلا بڑا الیکشن ہے اور وہ اپنے بابا کی معیت میں بہتر سیکھ رہے ہیں۔ زرداری کی نظر الیکشن کے بعد کے منظر نامے پر ہے۔ سب ہی جوڑ توڑ میں پیپلز پارٹی کی طرف دیکھیں گے اور وہ ایک ماہرکھلاڑی کی طرح اپنی پارٹی کے لیے ڈیل لینے کی کوشش کریں گے۔ وہ پی ٹی آئی اور آزاد ممبران کے ساتھ سینئر پارٹنر کے طور پر گورنمنٹ انجوائے کر سکتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو 2008 کی حکومت کی طرح ن لیگ سے ملکر ساٹھ چالیس کا معاہدہ بھی ممکن ہے تاکہ میثاق جمہوریت کا تسلسل اور جمہوریت پروان چڑھے۔اس لئے انکی پانچوں گھی میں ہیں ۔ اقتدار کا ہما تو خوب وگرنہ اپوزیشن لیڈر اور سندھ حکومت ایک ٹکٹ میں دو مزے کروائے گی۔ اس ساری کہانی میں ووٹر کا کردار بہت اہم ہے اور وہ کردار تمام ٹیبل بدل بھی سکتا ہے اور کوئی انہونی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے اگر ووٹ کو عزت دو کا اثر کچھ زیادہ ہی اثر دکھا گیا یا دائمی گٹھ جوڈ آنکھوں میں دھول جھونک کر سب کو لے بیٹھا۔

اب آتے ہیں خاں صاحب کی طرف جن کی تحریک انصاف لوٹوں کے بوجھ تلے دب گئی ہے۔ ابھی بھی لوگ اسے اسٹیبلشمنٹ کا تازہ گھوڑا سمجھ رہے ہیں اور وہ خود کو وزیراعظم سمجھ رہے ہیں تاہم وہ اکیلے حکومت بناتے نظر نہیں آرہے۔ نواز شریف کے جیل کے اندر ہونے کے باوجود عمران خاں متحرک شہباز سپیڈ کا مقابلہ نہ کر پائے نہ الیکشن میں کرتے نظر آرہے ہیں۔ الیکشن کے بعد عمران خان اپنی پرانی تقریروں کی طرف لوٹ آئیں گے۔ آخری دنوں میں لگتا ہے انکے آقاؤں نے بھی ان سے منہ موڑ لیا ہے جو کہ جلسوں میں اضافی نفری کی کمی سے واضح ہے اور عمران ازخود بندے باہر نکال نہیں پائے اور ووٹر نکلتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ ایک بات طے ہے آئیندہ الیکشن میں لوٹوں کے جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں ،نظریاتی کارکن ووٹر سپورٹر اورعہدیداران ووٹ ریس میں آگے ہوں گے۔ لوگ ان الیکٹیبل لوٹوں سے تنگ آگئے ہیں اور یہی مکافات عمل ہے اور بار بار الیکشن سے ہی تطہیر ممکن ہوتی ہے۔دوسری جانب گرینڈ الاینس سندھ میں وہی کردار ادا کرے گا جو آزاد پنجاب میں لیکن یہ اکیلے کسی طور کسی واضح برتری سے محروم رہیں گے۔

نواز شریف جب عدلیہ بحالی کے لئیے نکلے تھے تب بھی کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ابھی قافلہ گجرانوالہ پہنچے گا اور ادھر طاقت کے ایوان انکی بات مان لیں گے۔ اب بھی وہی شخص ووٹ کی عزت کی بحالی کے لئیے اپنا تن من دھن سب قربان کئیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ووٹ کی طاقت اس دفعہ خاص رنگ دکھانے کو ہے۔ یہ ایک فیکٹر بھی زیر غور رکھنا چاہیے کہ نواز شریف کی زنبیل میں کیا ہے۔ اسے پہلے بچے سے تنخواہ نہ لینے پر نا اہل کیا اب خاندانی فلیٹ کے ملکیتی کاغذات نہ دکھانے پر سزا یہ مانتے ہوئے دی کہ کرپشن نہیں کی۔پاناما میں ذکر شدہ کوئی اس سسیئلین مافیا کے پانچ سو صفحات کے فیصلے پر بھی روشنی ڈالے کہ کیا ہوا اس ڈان کا کیونکہ بیان دینے آسان اور ثابت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

سیاسی قوتوں کو غداریوں کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی بجائے اصل غدارملت اور وطن کے ٹرائیل پر توجہ دینی چاہیے اور بحیثیت قوم حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سیاستدانوں کو سیاسی نصاب کا حصہ بنا کر پڑھنی چاہئے اور اسے سمجھنا اور سیکھنا چاہیے اور آنے والے واقعات کا سد باب کرنا چاہیے اور یہ سب تب ہی ہو سکتا ہی جب تک ہم سب ملکر پارلیمان کو مضبوط نہیں کرتے اور سب کو اسکے ما تحت نہیں لاتے۔ پھر چاہے وہ سیاستدان ہوں یا سول اور ملٹری بیروکریسی ہو یا جوڈیشری اور احتساب کے ادارے ہوں یا الیکشن کمیشن ۔۔۔۔سب ایک لائین میں ایک کمانڈ کے تحت ملکی خدمت پر معمور ہوں گے۔ یہ آدھا تیتر آدھا بٹیر سمت کے تعین میں خلل ڈال رہا ہے۔ اللہ اپنا کرم کرے کیونکہ اسکی ذات بہترین انصاف کرتی ہے ۔انتظار کیجئے۔

( بیرسٹر امجد ملک ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں )

مزید :

بلاگ -