پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ قسط نمبر 34

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی ...
پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ قسط نمبر 34

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر کو کس طرح مخفی رکھا گیا: جب کبھی بھٹو بیگمات جیل میں بھٹو صاحب سے ملنے آئیں تو عموماً بہت سارے ملکی اور غیر ملکی اخبارنویس‘ ریڈیو اور ٹیلیویژن کے نمائندے جیل کے گیٹ پراکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ اسی اثنا میں بی بی سی اور ایک دو دوسری غیر ملکی ٹیلیویژن ٹیمیں جیل کی فلم بنانے بھی آئی تھیں۔ مجھے متنبہ کیا گیا کہ اس قسم کی ٹیلیویژن فلمیں جیل پر ریڈ حملہ( Raid ) کرنے کیلئے بے حد کار آمد ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس لئے ان ٹیلیویژن ٹیموں کو جیل کے نزدیک نہ آ نے دیا گیا۔ 

پاکستان میں اس وقت بی بی سی کا نمائندہ ‘ مارک ٹیلی بے حد دوڑ دھوپ کر رہا تھا کہ اندر کی خبریں دستیاب ہو سکیں لیکن ہماری انٹیلی جنس اور سیکیورٹی خاصی چوکس اور چوکنا کر دی گئی تھیں صرف وہی خبریں میڈیا کو ملتی رہیں جو بھٹو بیگمات اور وکلا وغیرہ ان کو دیتے رہے۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر کو چھپانے کیلئے جو احتیاطیں اختیار کی گئی تھیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ قسط نمبر 33پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ا) تین اپریل 1979ء کی صبح کو یہ خبر بیگم بھٹو اور محترمہ بے نظیر کو جیل سپرنٹنڈنٹ نے علیحدگی میں بتائی۔ بھٹو صاحب سے ملاقات کے بعد ان کو کسی اخباری نمائندے سے نہ ملنے دیا گیا بلکہ ان کوجیل میں لائے جانے والے راستے کی بجائے دوسرے راستہ سے واپس لے جایا گیا۔ سہالہ ریسٹ ہاؤس کو‘ جہاں ان کو نظر بند کیا ہوا تھا‘ باقی دنیا سے پوری طرح الگ تھلگ کر دیا گیا تھا۔ نہ کوئی اندر سے باہر اور نہ باہر سے اندر آ جا سکا۔

(ب) جونہی جیل سٹاف کو بتایا گیا کہ آنے والی رات کو بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا رہی ہے تو اس لمحہ کے بعد کوئی شخص نہ جیل میں داخل ہونے دیا گیا اورنہ ہی کسی کو باہر نکلنے دیا گیا۔ اسی لمحے جیل کے گیٹ پر فوجی پہرہ لگا دیا گیا۔

(ج) جیل کے تمام راستے بند کر دیے گئے۔ ٹیلیفون کے تمام رابطے منطقع کر دیئے گئے تا کہ کوئی بھی یہ خبر با ہر نہ بتا سکے۔ صرف 27پنجاب رجمنٹ کا ٹیلیفون اور وائرلیس کا رابطہ بحال رکھا گیا اس ٹیلیفون پر بھی ڈیوٹی افسر تعینات کر دیا گیا تا کہ کوئی غیر ضروری کال نہ کی جا سکے اور نہ ہی سنی جا سکے۔

(د) بھٹو صاحب کو پھانسی لگ جانے کے بعد ڈی آئی جی جیل خانہ جات واپس اپنی رہائش گاہ کو جانا چاہتے تھے مگر گیٹ پر فوجی سنتری نے ان کو باہر نہ جانے دیا۔ وہ میرے پاس واپس آئے اور کہنے لگے‘ یہ بھی ایک ریکارڈ رہے گا کہ ڈی آئی جی جیل خانہ جات کو سنتری نے جیل کے گیٹ پر روکا ہی نہ ہو بلکہ گزرنے تک نہ دیا ہو۔ بہرحال ان کی بزرگی اور رتبہ کو محسوس کرتے ہوئے میں نے معذرت چاہی اور جیل سے ان کے باہر جانے کا بندوبست کیا لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ انہوں نے جائے رہائش پر پہنچ کر اپنی بیگم سے ٹیلیفون کے ذریعے بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ بھٹو صاحب کو پھانسی لگا دی گئی ہے۔ یہ خبر اسی وقت کسی دوسرے سینئر آفیشل کو ان کی بیگم صاحبہ نے بتا دیا اور پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔ یہ خبر لاہور سے ہارڈپاس ہوئی اور دنیا کو سب سے پہلے بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر انڈیا ریڈیو نے مورخہ4ا پریل1979ء صبح سات بجے سنائی۔

(ر) رات4/3اپریل1979ء اخباری نمائندے پو ری بھاگ دوڑ کر رہے تھے کہ صحیح خبر معلوم ہو سکے۔ بیچارے دو رپورٹر اپنے موٹر سا ئیکلوں پرجیل کے ارد گرد چکر لگارہے تھے کہ رات کی پٹرول پارٹی نے گرفتار کرلئے۔ ان کو 27 پنجاب کے کیمپ میں بمع ان کی موٹر سائیکل بند کر دیا گیا اور اگلی صبح کافی دیر بعد انہیں چھوڑا گیا۔ میں ان صاحبان سے معذرت خواہ ہوں۔

(س) مجھے بعد میں پتہ چلا کہ مارشل لاء حکام نے بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر پوشیدہ رکھنے کیلئے ڈی سی اور کمشنر راولپنڈی کو بھی بر وقت اور پوری پوری اطلاع نہ دی تھی۔

(ص) بھٹو بیگمات کی آخری ملاقات کے بعد بھٹو صاحب کے وہ رشتہ دار جو راولپنڈی میں حاضر تھے ان کو بھٹو صاحب کے ساتھ آخری ملاقات نہ کروانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان ملاقاتیوں کے بعد یہ خبر مخفی نہ رکھی جا سکے گی۔

حکام مندرجہ بالا احتیاطوں کے باعث بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر راز میں رکھنے میں بہت حد تک کامیاب رہے تھے۔

3اپریل1979ء کو آخری ملاقات کے بعد بیگم بھٹو اور محترمہ بے نظیر جب مجھ سے جیل میں ملیں کہ بیگم صاحبہ صدرِ پاکستان سے اپنی ذاتی اپیل کرنا چاہتی ہیں اورمیں ان کی اس سلسلے میں مدد کروں‘ اسی دوران ان بیگمات نے مجھے بتایا تھا کہ بھٹو صاحب لاڑکانہ میں دفن ہونا چاہیں گے۔ 5اپریل مجھے ایس ایم ایل اے نے کہا تھا کہ بھٹو بیگمات کو ایک دو دنوں میں نوڈیرولے جایا جائے گا اور مجھے ان کے ہمراہ جانا ہو گا۔ میں نے سوچا کہ بیگمات کے ساتھ اس سفر کے دوران میں انہیں آخری لمحات کے متعلق بتا سکوں گا لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر مجھے بھٹو بیگمات کے ساتھ نہ بھیجا گیا اور میں ان کو بھٹو صاحب کے آ خری لمحات کے متعلق‘ جس کیلئے وہ بے حد مضطرب رہی ہوں گی‘ نہ بتا سکا۔

میرے جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے ساتھ تعلقات

مجھے جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ کام کرنے کا کبھی موقع نہ ملاتھا۔ میں نے پہلی مرتبہ ان کو اس وقت دیکھاجب وہ پاکستان فوج کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے اور انہوں نے فوج کی کمان سنبھالنے پر سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹس کوئٹہ کو پہلا دورہ کیا‘ جہاں میں چیف انسٹرکٹر کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اس موقع پر بھی بات ان کے مصافحے یا چائے کے میز پر آمنے سامنے اور علیک سلیک سے آگے نہ بڑھی۔

نومبر1977ء میں میری تبدیلی انفینٹری سکول کوئٹہ سے 27 پنجاب رجمنٹ راولپنڈی ہوئی۔ یہ پلٹن 111بریگیڈ کا حصہ تھی۔ اس بریگیڈ کی آپریشنل ذمہ داری تو کہیں اور تھی لیکن ان دنوں اس کا کام دارالحکومت اسلام آباد ، راولپنڈی کا علاقہ بمع پریذیڈنسی کی حفاظت تھا۔ مارشل لاء کے نفاذ کی وجہ سے یہ بریگیڈ اہم ذمہ داری پر مامور تھا۔ 1978ء کے رمضان کے مہینے میں تینوں کمانڈنگ افسران اور وہ جوان جو صدر صاحب کی حفاظت کے ذمہ دار تھے‘ کو آرمی ہاؤس جہاں صدر صاحب رہ رہے تھے میں افطار پر مدعو کیا گیا۔

افطاری اور مغرب کی نماز کے بعد ہم سب کھانے کی میز پر آئے۔ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب آکر میری کرسی کی ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہوئے۔ دراصل اس دعوت پر جانے سے پہلے میں نے سوچا تھا کہ اگر مجھے صدر صاحب کے ساتھ اس قدر نزدیک بیٹھ کر ایک‘ آدھ گھنٹہ کھانے پر گزارنا پڑا تو میں ان سے کیا گفتگو کروں گا۔ شروع کی علیک سلیک کے بعد انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آیا میں نے سٹاف کالج کر لیا ہے۔ چونکہ میں سٹاف کالج نہ جا سکا تھا اس لئے میں نے جنرل صاحب کو جواب دیا کہ سر میں فوجی لحاظ سے ان پڑھ ہوں۔ وہ میرا مطلب نہ سمجھ پائے اور سوالئے انداز میں مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع تمہار اکیا مطلب ہے۔ تب میں نے تفصیلاً بتایا کہ جناب جن دنوں مجھے سٹاف کالج کا امتحان پاس کرنا تھا ان دنوں میں سپیشل سروس گروپ میں تھا‘ جہاں ہم لوگ ایسے حالات سے دو چار رہے کہ سٹاف کالج کا خیال تک نہ آیا اور جب اس اہم کوالیفیکیشن کا خیال آیا اس وقت بد قسمتی سے میری عمر زیادہ ہو چکی تھی‘ جس کی وجہ سے میں یہ اہم ڈگری حاصل نہ کر پایا ۔ جنرل صاحب نے فرمایا‘ کوئی بات نہیں تم اگلے کورس کیلئے چلے جاؤ۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن بغیر سوچے سمجھے عرض کیا کہ جناب اب چونکہ میں عمر‘ سروس اورعہدے میں کافی آگے آ چکا ہوں اس کے علاوہ سٹاف کالج میں تقریباً تمام اساتذہ مجھ سے جونیئر ہیں اور کئی تو یونٹ کمانڈر کورس میں میرے شاگرد بھی رہ چکے ہوں گے اس لئے میں ایسے حالات میں سٹاف کالج نہ جانا چاہوں گا۔ جنرل صاحب نے فرمایا وہ تمہاری اپنی مرضی ہے لیکن اس اہم ڈگری کے ساتھ ایک افسر کی سرکولیشن ویلیو نہیں بڑھ جاتی بلکہ آگے ترقی کے مواقع بھی ہو اکرتے ہیں۔ میں اس رات نا معلوم کیوں اتنا بے دھڑک جواب دے رہا تھا‘ میں نے ان سے کہا جناب آپ صرف چیف آف آرمی سٹاف اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہی نہیں بلکہ ملک کے صدر بھی ہیں مگر میرا پروموشن‘ نفع یا نقصان صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہونا ہے یہ میں نے اپنی شہادت والی انگلی آ سمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا۔ اگر آپ ان تمام عہدوں کے ہوتے ہوئے بھی چاہیں تو ایسا نہیں کر سکتے۔ میرے اس جواب نے جنرل ضیا ء الحق صاحب کو ایک عجیب کیفیت میں ڈال دیا۔ میرے ساتھ بیٹھے وہ مجھے پوری توجہ سے سن رہے تھے لیکن اس جواب پر وہ میری طرف اور جھکے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میری اندرونی حالت کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔ چند لمحے مجھے دیکھنے کے بعد انہوں نے فرمایا‘ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ ہر نفع یا نقصان صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔ مگر وہ میری آنکھوں کے اندر چند لمحے اور اسی غور سے دیکھتے رہے۔ پھر وہ کچھ خا موشی کے بعد دوسرے دو کمانڈنگ افسران جو میز کی دوسری طرف سامنے بیٹھے تھے کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں سے ان کی یونٹوں کے متعلق چند سوال کیے۔ اس دوران میں نے سوچاکہ کھانے کے دوران میں جنرل صاحب سے کن موضاعات پہ بات چیت کروں گا۔ میرے دماغ میں صرف تین نقطے آئے۔ اول‘ نظامِ مصطفی ؐ‘ دوئم ‘ ہمارے بنکوں کو سودی نظام اور جنرل صاحب کے صدر ہونے کی حیثیت سے نئی سیاسی ذمہ داریاں‘ جب انہوں نے دوسرے کمانڈنگ افسران سے گفتگو ختم کی تومیں نے ان سے پوچھا۔ کہ جناب آ پ نے اخباری نمائندوں سے چند مرتبہ نظامِ مصطفی ؐکو صحیح معنوں میں رائج کرنے کے متعلق فرمایا ہے۔ آپ اس کو کیسے چلانے کا خیال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کو حاصل کرنے کا مقصد کیا تھا اور پھر فرمایا کہ جب تک ہم نظامِ مصطفی ؐکو صحیح معنوں میں رائج نہیں کریں گے ہم اس عظیم مقصد کو حاصل نہ کر پائیں گے۔ ان کی تفصیل سننے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ جناب اسلامی نظام کو رائج کرنے میں ان کے خیال میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ چونکہ جنرل ضیاء صاحب کو مارشل لاء لگائے ہوئے اور پھر اسلامی نظام رائج کرنے کے متعلق بیانات دیتے ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا۔ ادھر ہر محب وطن یہی چاہتا تھا کہ وعدہ کے مطابق الیکشن جلد از جلد ہوں اور اگر نظامِ مصطفی ؐ کا بھی آغاز ہو جائے تو کیابات! جنرل صاحب نے جواباً فرمایا کہ اس نظام کو رائج کرنے میں انہیں کچھ وقت درکار ہو گا۔ میں اس رات جنرل صاحب کے ساتھ اپنے پورے اعتقاد اور یقین کے ساتھ گفتگو کرتا رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ جناب اگر آپ نے اپنی پوری طاقت اور ایمان کے ساتھ اس کام کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچایا تو اسلامی نظام بھی ڈیمو کریسی‘ ڈکٹیٹر شپ اور سوشل ازم جو بالترتیب قائد اعظمؒ فیلڈ مارشل اور بھٹو صاحب کے بعد فیل ہو گئے تھے‘ ناکام کہا جائے گا‘ میں نے ان سے کہا کہ اگر اسلامی نظام بھی بے دلی سے محض سیاسی نعرہ بازی کے طور پر رائج کرنے کی کوشش کی گئی تو خدا نہ کرے‘ دنیا کہے گی کہ یہ بھی دوسرے نظاموں کی طرح اپنی افادیت کھو چکا ہے اور پھر کمیونزم اور لادینیت کو کوئی روک نہ سکے گا۔ انہوں نے مجھے پھر بڑے غور سے دیکھا اورچند لمحوں بعد اپنے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا‘ رفیع فکر نہ کیجئے‘ ایسا ہر گز نہ ہو گا۔

چونکہ مجھے ہمارے بنکوں کا سودی نظام کے بغیر چلنا ناممکن نظر آ تا تھا اس لئے میں نے لمحہ بھر کی خا موشی کے بعد جنرل صاحب سے پوچھا کہ جناب آ پ کی حکومت اسلامی طریقہ سے بینکنگ کو کس طرح چلانے کا سوچ رہی ہے۔ انہوں نے جواب میں کہا‘ کچھ دن انتظار کیجئے‘ ماہرین اس کام پر لگے ہوئے ہیں اور جلد بنکوں سے سودی نظام ختم کر دیا جائے گا۔

گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ جناب آ پ ایک سپاہی سے سیاستدان بن کر کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے پھر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ رفیع صاحب یہ ایک بہت بڑا تجربہ ہے اور کہنے لگے‘ میں ملک و قوم کیلئے کتنا ہی اچھا پلان سوچوں لیکن ہمارے سیاستدان اس کی ضرور مخالفت کرتے ہیں اور بد قسمتی یہ ہے کہ کوئی بھی اس کے بجا ئے اپنا صحیح حل نہیں بتاتابلکہ صرف مخالفت برائے مخالفت ہی کئے جاتے ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ سیاسی اور فوجی سوچ میں یہی بڑا فرق ہے۔ میں نے جواب میں کہا کہ جناب آپ بہت جلد ان کی سیاست بھی سمجھنے لگیں گے‘ جس پر وہ ہنس پڑے اور فرمایا‘ ہاں کوشش تو کر رہاہوں۔

خیال تھا کہ وہ مجھے سے بھٹو صاحب کے متعلق یاجیل کے حالات پر کچھ گفتگو ضرور کریں گے لیکن انہوں نے اس طرف کوئی اشارہ تک نہ کیا بلکہ بعد میں بھی میری جیل میں تعیناتی کے دوران انہوں نے اس موضوع پر کبھی اشارتاً بھی بات چیت نہ کی‘ اور مجھے شک ہونے لگا کہ انہیں میری جیل کی ذمہ داریوں کاعلم بھی ہے یا نہیں‘ حتیٰ کہ1978ء کی دوسری عید کے موقع پر جب میں آرمی ہاؤس ان سے عید ملنے گیاتو جنرل ضیاء صاحب نے مجھے گلے لگاتے ہوئے میرے کان میں آہستہ سے فرمایا’’ رفیع صاحب کیا حال ہیں آپ کے؟ ‘‘ تب مجھے یقین ہوا کہ وہ مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔

افطار ڈنر کے بعد دوسرے کمانڈنگ افسران کے ساتھ میں نے بھی اجازت لی‘ جنرل صاحب نے میرے ساتھ بڑی گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کیا۔ میرے گھر پہنچنے کے تیس‘ چالیس منٹ بعد مجھے صدر صاحب کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر ظفر(مرحوم) نے ٹیلیفون کیا اور بتایا کہ صدر ضیاء الحق صاحب دو دنوں میں عمرہ ادا کرنے سعودی عرب تشریف لے جا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ(کرنل رفیع الدین)بھی ان کے ساتھ جائیں‘ اس لئے مجھے انہوں نے کہا کہ میں اپنا پاسپورٹ اگلی صبح فارن آفس اسلام آباد پہنچا دوں۔ّ(جاری ہے)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی جیل میں سکیورٹی پر مامور کرنل رفیع الدین کی تہلکہ خیز یادداشتیں ۔۔۔ آخری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کمپوزر: طارق عباس 

مزید : کتابیں /بھٹو کے آخری دن