عمران خان کتنے حلقوں سے جیت رہے ہیں؟

عمران خان کتنے حلقوں سے جیت رہے ہیں؟
عمران خان کتنے حلقوں سے جیت رہے ہیں؟

  

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مجموعی طور پر پانچ حلقو ں سے انتخاب لڑ رہے ہیں یہ حلقہ این اے26واں این اے 53اسلام آباد ،این اے 95میانوالی ، این اے 131لاہور اور این اے 243کراچی ہیں ۔

تحریک انصاف کے دوستوں ہے پوچھا جائے کہ وہ کہتے ہیں کہ خان صاحب تمام پانچ کے پانچ حلقے جیت رہے ہیں تھوڑا سی تفصیل جانی جائے تو جواب آتاہے کہ دو سے تین لازمی جیت جائیں گے مگر جب یہ سوال کیا جائے کہ عمران خان صاحب نے دیگر قومی رہنماؤ ں کی طرح کوئی بھی ایساحلقہ چنا ہے جہاں ان کی کامیابی سو فیصد یقینی ہو تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہیں ۔

وہ یقین رکھتے ہیں کے نادیدہ قوتیں خان صاحب کی معاون ہوں گی مگر دوسری طرف ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں جب ایک گنگز پارٹی تشکیل دی گئی تھی تو اس پارٹی کے کامیاب ہونے کے باوجود اس کے ناپسندیدہ سربراہ انتخاب ہا ر گئے تھے، تاریخ گواہ ہے کہ پرویز مشر کے مارشل لاء میں مسلم لیگ نون کو نقب لگانے والے میاں اظہر کو کچھ نہیں ملا تھا۔

سیاسی تجزیہ نگار نجومی نہیں ہوتے مگر وہ پیشین گوئیاں کرتے ہیں ،ان کی پیشین گوئیوں میں تاریخی ، علاقائی سیاسی اور معروضی حالات دلائل کے طور پر بیان ہوتے ہیں ، ان پیشین گوئیوں میں صرف ایک خامی ہوتی ہے کہ ہم میں سے کچھ خواہشات اور نظریات کے تحت حالات کو ایک خاص تناظر میں پیش کرتے ہیں تاہم سایسی پیشین گوئیاں برسوں اور عشروں پر محیط نہیں ہوتیں ، ان کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ دنوں میں ہو جا تا ہے ۔

حیرت انگیز پر کچھ حلقے تحریک انصاف کے سربراہ کے اپنے چنے گئے پانچ حلقوں سے ہارنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں دلیل دی جا رہی ہے کہ انہیں ایک ساز کے تحت ایسے حلقوں میاں پہنچادیا گیا ہے جن کی انتخابی تاریخ ،ان کی پارٹی اور نظریئے کے لئے زیادہ سازگار نہیں ۔

اس پیش گوئی سے سو فیصد اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ عمران خان تما م حلقوں سے ہار جائیں گے مگر اس مکان کو مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا ، کہ وہ منتخب کئے گئے تمام حلقو ں میں پچاس فیصدسے کم مقبولیت پر کھڑے ہیں جو ایک خطرناک اشارہ ہے ۔

انہیں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کی طرح کسی محفوظ حلقے کو ضرور فہرست میں رکھنا چاہیے تھا جہاں مخالفین کا زور بہت واضح طور پر کم ہوتا۔

این اے 35بنوں سے شروع کرتے ہیں جو خیبر پختونخوکاحلقہ این اے 26ہوا کرتا تھا ۔خیبرپختونخوا کی زمین پی ٹی آئی کے لئے سب سے زیادہ زرخیز ہی مگر انہیں کس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈھیروں محفوظ حلقے چھوڑتے ہوئیجے یو آئی کے گھر اور اکرام درانی کے گھر لڑنے پہنچ جائیں گے ۔

اکرم درانی خلیفہ گل نواز کے پوتے ہیں اور گزشتہ چالیں برسوں سے سیاست پر چھائے ہوئے ہیں یہی وہ علاقہ ہے جس سے اکرام درانی نے اپنے نوجوان بیٹے کو پہلے رکن صوبائی اسمبلی اور پھر رکن قومی اسمبلی منتخب کروایا ، ان کے صاحبزادے زیادرانی 21جون 2012کو ریکارڈ اریسٹ یعنی دل کے دورے کے باعث محض تیس برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔

گزشتہ انتخابات میں 77015 ووٹ حاصل کئے ، ان کے قریب ترین مدمقابل مولانا نسیم علی شاہ تھے جن کے ووٹ 43553تھے جبکہ پی ٹی آئی کے ضلع صدر اور امیدوار مطیع اللہ جان تقریبا پچاس ہزار ووٹو کے فرق سے ہار گئے تھے۔ یہاں تبدیلی یہ آئی ہے کہ مولانا نسیم علی شاہ نے پی ٹی آئی جوائن کر لی ہے جس کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان وہاں اکرام درانی کے مقا بلے میں آگئے ہیں اگر اس نظریئے کو مان لیا جائے مولانا نسیم علی شاہ اپنا پورا ووٹ پی ٹی آئی میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ ماضی میں انہوں نے پی ٹی آئی کی مخالفت کر کے ہی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی ۔

کیا امیدوار کے ساتھ ووٹربھی اپنی وفاداریاں منتقل کر دیتا ہے ، اس بارے میں آپ سو فیصد یقین کے ساتھ ہاں کا جواب نہیں دے سکتے ۔

یہاں اکرم درانی کو جماعت اسلامی کے ساتھ پختون خوا ملی عوامی پارٹی ، علاقہ سورانی ، وزیر قبائل ڈومیل اور بکا خیل قبائل کی بھی حمایت حاصل ہے ،وہ اپنے دور میں بنوں یونیورسٹی ، میڈیکل کالج ، میڈیکل کمپلیکس ، پاسپورٹ آفس، بنوچی پلاٹوں ، ڈومل سے گنڈی چوک تک ڈبل روڈ ، متعدد گرڈ اسٹیشنوں اور تعلیمی اداروں کے اربوں روپوں کے کاموں کے بھی بھرپور انداز میں کیش کروا رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی بنوں کے لئے خدمات زیرو ہیں ۔

اس حلقے میں عمران خان کی کامیابی کامارجن تیس سے پینتیس کے لگ بھگ ہے یہی وہ علاقہ ہے جہاں عمران خان کا گزشتہ جلسہ تو کامیاب ہوا تھا مگر جب وہ اپنی انتخابی مہم کا آغا ز کرنے گئے تو شہریوں نے مردہ باد کے نعروں میں کالے جھنڈوں سے استقبال کیا ، اس کی ویڈیو انٹر نیٹ پر وائر ل ہو گئی تھی ۔

تحریک انصاف کے سربراہ این اے 53اسلام آباد سے بھی امیدوار ہیں علاقہ ہر اس شخص کا جانا پہچانا ہے جو بطور سیاح مری آنا جانا پسند کرتا ہے ۔

عمران خان صاحب نے اس حلقے کو اس لئے چنا ہے کہ یہاں (یعنی این اے 48) سے جناب اسد عمر کامیاب ہوئے اور خیال ہے کہ اسد عمر کو ووٹ دینے والے عمران خان کو ضرور کامیاب کروائیں گے انہوں نے 48073 جبکہ نوا ز لیگ کے چودھری اشرف گجر نے 41186ووٹ حاصل کئے تھے اور یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے مگر گڑ بڑ دوسری طرف ہے جو این اے 49 کے علاقے ہیں وہاں سے ڈاکٹر فضل چودھری 97701ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔

میں یہ ضرور کہوں گا کہ عمران خان نے راولپنڈی کے حلقے این اے 61کی جگہ اسلام آباد کے حلقے کا انتخاب کر کے نسبتا بہتر فیصلہ کیا جس کا اعلان پہلے کیا گیا تھا مگر کیااس صورتحال میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کے جتنے بھی سی فیصد چانسز ہیں بلکی انہیں ففٹی ففٹی کہنا بھی کسی حد تک رسک ہو گا عمرا خان نے اسلام آباد کو اسی سوچ کے تحت چنا ہے جس کے تحت انہوں نے لاہور کے ڈیفنس والے حلقے کا انتخاب کیا مگر وہ یا ان کے مشیر اس بارے میں انہیں گائیڈ کرنے میں ناکام رہے کہ دونوں حلقوں میں شہری اور دیہی ووٹ کا تناسب کیا ہے ۔ اسلام ااباد کے دیہی علاقوں میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت لاہور کے کم آمدنی والے علاقوں کی طرح پی ٹی آئی کے مقابلے میں دوگنی ہے ۔

عمران خان جب اس حلقے کو انتخابی مہم کا افتتاح کنونشن سنٹر دوتہائی خالی ہے جبکہ وہاں اسلام آباد کے تمام حلقوں سے امیدواروں اور ان کے حامیوں کو بلایا گیا تھا۔ (میانوالی ، لاہور اور کراچی کے حلقوں پر کل کے ’ شہر یاراں‘ میں بات ہوگی ۔ انشاء اللہ )

مزید : رائے /کالم