آپ کے کمپیوٹر کے ذریعے آپ کو کیسے لوٹا جا سکتا ہے؟ چوروں نے نیاطریقہ اپنا لیا ، وہ بات جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

آپ کے کمپیوٹر کے ذریعے آپ کو کیسے لوٹا جا سکتا ہے؟ چوروں نے نیاطریقہ اپنا لیا ...
آپ کے کمپیوٹر کے ذریعے آپ کو کیسے لوٹا جا سکتا ہے؟ چوروں نے نیاطریقہ اپنا لیا ، وہ بات جو آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہیے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ نے جہاں دنیا میں ایک انقلاب برپا کیا ہے اور انسانوں کے لیے بے انتہاء آسانیاں پیدا کر دی ہیں ، وہیں نوسربازوں کا کام بھی آسان کر دیا ہے جو نت نئے طریقوں سے انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اب ان نوسربازوں نے ایک اور ایسا طریقہ اختیار کر لیا ہے کہ سن کر آدمی کی حیرت گم ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق اب نوسرباز سوشل انجینئرنگ اور کمپیوٹر ٹیک اوور کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم نکال رہے ہیں۔ یہ لوگ معروف امیر افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے انجینئر کا روپ دھار کر اپنے ٹارگٹ کو فون کرتے ہیں اور اسے بتاتے ہیں کہ اس کا انٹرنیٹ راؤٹریا کوئی اور چیز ہیک کر لی گئی ہے لہٰذا جلد از جلد اس کی سکیورٹی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ اس پر ان کا ٹارگٹ دھوکے میں آ جاتا ہے اور آرام سے انہیں راؤٹر اور کمپیوٹر وغیرہ کی خفیہ معلومات فراہم کر دیتا ہے۔ یوں وہ اس شخص کے کمپیوٹر کو ہیک کرکے اس کے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکال لیتے ہیں۔

برطانیہ میں اب تک یہ نوسرباز اس طریقے سے مختلف لوگوں سے مجموعی طور پر12کروڑ 10لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 20ارب 40کروڑ روپے) ہتھیا چکے ہیں۔ حال ہی میں ڈیوڈ کُڈ ویل نامی شخص بنا۔ ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ’’میرے لینڈ لائن نمبر پر ایک کال موصول ہوئی۔ بات کرنے والے نے کہا کہ وہ برٹش ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کا انجینئر ہے۔ اس نے بتایا کہ میرا انٹرنیٹ راؤٹر ہیک کر لیا گیا ہے چنانچہ فوری بور پر کچھ سکیورٹی ٹیسٹ کرنے پڑیں گے۔ اس نے مجھ سے میرے راؤٹر کا پاس ورڈ اور دیگر معلومات لیں، جو میں نے پورے اطمینان سے اسے فراہم کر دیں۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ برٹش ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کا انجینئرنہیں بلکہ کوئی فراڈ شخص تھا۔ اس نے میرے راؤٹر کے ذریعے میرے کمپیوٹر کو ہیک کیا اور میرے بینک سے 7ہزار 800پاؤنڈ کی رقم نکال لی۔‘‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -