”میں نے اپنے سیل کے دروازے کو زور سے ٹانگیں ماری اور پھر وہاں اچھا خاصاہنگامہ ہوا کیونکہ ۔۔۔“شہباز شریف نے حامد میر سے بات کرتے ہوئے اپنی جیل کے دنوں کی روئید اد سنا دی

”میں نے اپنے سیل کے دروازے کو زور سے ٹانگیں ماری اور پھر وہاں اچھا ...
”میں نے اپنے سیل کے دروازے کو زور سے ٹانگیں ماری اور پھر وہاں اچھا خاصاہنگامہ ہوا کیونکہ ۔۔۔“شہباز شریف نے حامد میر سے بات کرتے ہوئے اپنی جیل کے دنوں کی روئید اد سنا دی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو اپنے جیل کے دن یاد آگئے ۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتا یا کہ جیل میں ایک دن مجھے بخار ہو گیا لیکن میں ڈاکٹر سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی تھی تو پھر میں نے اپنے سیل کے دروازے کو زور زور سے ٹانگیں مارنا شروع کردیں ،اس پر اہلکار فوری میرے سیل کے سامنے آئے اور پھر وہاں پر اچھا خاصا ہنگامہ ہوا ۔شہباز شریف نے کہا کہ میری یاداشت سے یہ چیزیں جا چکی ہیں کیونکہ ہمیں سب کو مل کر پاکستان کے مفاد میں سوچنا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتا یا گیا کہ نواز شریف کو کمپاﺅنڈ والے سیل میں رکھا گیا اور انہیں پہلی رات زمین پر سلا یا گیا اس پر نواز شریف نے جیل انتظامیہ سے کہا کہ میں تین بار وزیراعظم بنا ہوں میں کوئی دہشت نہیں ،میں نے ملک کی خدمت کی ہے ،مجھے زمین پر کیوں سلا رہے ہو اس پر جیل انتظامیہ نے کہا ک آج بیڈ نہیں ہے ۔اس موقع پر حامد میر نے سوال کیا کہ آپ نے اڈیالہ جیل کو اپنے دور حکومت میں کیا سہولیات دیں ؟اس پر جواب دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اڈیالہ جیل میں بے پناہ سہولیات دیں ،نئی تعمیرات کیں ،دہشت گردی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیمرے لگوائے ،بنیادی سہولیات دیں ،اڈیالہ جیل میں سہولیات کا فقدان نہیں بلکہ یہ جیل انتظامیہ اور نگران حکومت کی گری ہوئی سوچ کی عکاسی ہے ۔

مزید : قومی