شرطیہ ”کھٹے“

شرطیہ ”کھٹے“
شرطیہ ”کھٹے“

  

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بارے میں جہاں بہت سی توقعات کااظہار کیا جارہاہے وہاں بہت سے خدشات اور واہمے بھی سر اٹھائے اپنی جگہ موجود ہیں ۔ وزیر اعظم کی امریکہ میں کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ، پاکستانی کمیونٹی سے خطاب ، ٹرمپ سے ہونیوالی نشستوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد امریکہ کی پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل ہوجائیگی ؟ کیا وہ کولیشن سپورٹ فنڈبحال ہوجائیگا جو ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد روک دیا تھا؟کیاپاکستان کے انفراسٹرکچر کو دہشتگردی کیخلاف امریکی اور نیٹو اتحاد کی جنگ کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہونے کی کوئی صورت نکل سکے گی ؟ یا امریکہ میں موثر بھارتی ڈپلومیسی کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف بننے والا تاثر دم توڑ جائیگا اور امریکہ بھارت اور پاکستان کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شروع کردے گا؟ اس سب سوالوں کے جواب کیلئے ہم کوماضی میں پاک امریکہ تعلقات کا ایک سرسری سا جائزہ لینا ہوگا ۔

وطن عزیز کے معرض وجود میں آنے کے بعد ملت خداد پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان شہید نے روس کی جانب سے دورے کی دعوت کونظر انداز کرتے ہوئے جب امریکہ کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت طے ہوگئی تھی جس کے بعد پاکستان امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں شامل ہوا ، اگر چہ ان معاہدو ں کے باوجو د بھی 1965کی جنگ میں پاکستان کو اسلحے کی سپلائی معطل کردی گئی اور پھر 1971کی جنگ میں مشرق پاکستان کو بچانے کیلئے امریکی بحری بیڑے کی آمد کے انتظار میں ہمارے ہزاروں جوان جنگی قیدی بن گئے اور سقوط ڈھاکہ کی صورت میں وہ المناک چرکہ پاکستانی قوم کولگا جس کازخم آج بھی تازہ ہے ۔ سردجنگ کے زمانے میں جب روس گرم پانیوں کے دروازے پر دستک دے رہا تھا تو اس وقت امریکہ کواپنی سامراجیت بچانے کیلئے فاقہ زدہ افغان اور پاکستانیوں کے کندھے نظر آئے اور ہم نے اپنی مجبوریوں کے باعث اپنے ناتواں کندھے امریکہ بہادر کو سواری کیلئے پیش کردیئے جن پر براجمان ہوکرانکل سام نے افغانیوں کی مدد سے روس کے ساتھ طویل جنگ لڑی اور جب افغانوں نے پاکستان کی مہمان نوازی اور امریکی اسلحے کے بلبوتے پر سرخ ریچھ کو دریائے آمو کے اس پار دھکیل دیا تو امریکہ نے یوں آنکھیں پھیر لیں جیسے یہ جنگ پاکستان اورروس کا کوئی باہمی تنازع تھی اور افغانی اس میں ایک فریق تھے ،اس کا نتیجہ افغانستان اورپاکستان کےلئے بہت بھیانک نکلا ، شدت پسند قوتوں نے جہاں افغانستان کواپنا مرکز بنایا وہاں پاکستان میں شدت پسندی کی ایک لہر نے جنم لیا جس نے پاکستانی عوام کے اذہان کومتاثر کیا، ایسے میں نائن الیون کا واقعہ ہوا جس سے امریکہ کوپھریکا یک اس خطے میں دہشت گردی کی جڑیں نظر آگئیں اور ان کو اکھاڑنے کیلئے پھر پاکستان سے کندھا طلب کیا گیا اورہمارے اس وقت کے فوجی حکمران نے پتھر کے زمانے میں پہنچ جانے کی دھمکی سے ڈر کر معاونت کی حامی بھر لی جس کے نتیجے میں اگر پاکستان کوکچھ ملا تو اس کے جواب میں پورے ملک کو دہشت گردی کی ایک شدید لہر کا خود کش حملوں کی صورت میں سامنا کرنا پڑا ، ایک جنگ امریکہ اور نیٹو اتحاد نے افغان سرزمین پر لڑی تو دوسری پاکستانی سکیورٹی فورسز کواپنی سرزمین پر لڑناپڑی جس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم پاکستانی جانوںسے گئے اورنیٹو فورسز کی بھیجی جانیوالے سپلائی کی آمدو رفت سے ملک کے انفراسٹرکچر جو نقصان پہنچا وہ اربوں ڈالر میں ہے ،البتہ یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی عوام اور سکیورٹی فورسز دہشت گردی کیخلاف اس جنگ میں سرخرو ہوئیں جبکہ امریکہ کو افغانستان میں طالبان کے ساتھ 17سال جنگ لڑنے کے باوجود بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس کا غصہ کبھی ڈومور کہنے کی صورت میں اور کبھی پاکستانی فورسز پر نیٹوہیلی کاپٹروں کی جانب سے حملہ کرکے نکالا گیا ۔

اوبامہ کے بعد ٹرمپ کے برسراقتدار آتے ہی امریکہ کی پاکستان کے بارے میں پالیسی انتہائی معاندانہ ہوگی جہاں ایک طرف پاکستان کا کولیشن سپورٹ فنڈ روک لیا گیا تو وہاں ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں سخت بیانات کا سلسلہ بھی تواتر سے جاری رہا جن میں پاکستان پردھوکہ دہی تک کا الزام بھی لگایا گیا ۔ ایسے میں امریکہ نے بھارت کوخطے کی تھانیداری کافریضہ سونپنے کیلئے اسکے ساتھ کئی معاہدے کئے تاہم پاکستان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوںکا عمل جاری رہا جس کی ایک بڑی مثال افغانستان میں امن کیلئے کی جانیوالی پاکستانی کوششیں ہیں جن کی وجہ سے طالبان مذاکرات کی میز پر آئے اور امریکہ کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں خطے میں امن کی امیدپیدا ہوئی ،پاکستان کی ان کوششوں کاامریکی محکمہ خارجہ نے بر ملا اعتراف کیا ۔وزیر اعظم عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے دس ماہ بعد اب جب امریکہ کی جانب سے سرکاری طور پر وزیراعظم کو دورہ امریکہ کیلئے مدعو کیا تو اس میں افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانیوالی کوششو ں کابھی ایک نمایاں کردار ہے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکام سے ملاقاتوں کے دوران امریکہ کی جانب سے پاکستان سے جو توقعات وابستہ کی گئی ہیں، ان میں پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کرنا ، کالعدم تنظیموں کے حوالے سے جامع پالیسی بنانا تاکہ وہ دوبارہ پنپ نہ سکیں، دو غیر ملکی ڈاکٹرز جو اس وقت طالبان کی حراست میں ہیں ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرنا ، شکیل آفریدی کی رہائی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے مسائل کاحل ہیں ۔

اس کے بدلے میں پاکستان کو کیا ملے گا؟یہ تو وزیر اعظم کے دورے کی تکمیل کے بعد یہ معلوم ہوسکے گا کہ ہمارے آہنی اعصاب کے مالک وزیر اعظم نے کیا مانا اورکیا منوایاہے ؟ البتہ یہ بات کی جارہی ہے کہ پاکستان 2020میں قرضوں کی قسطیں ری شیڈول کروانا چاہتاہے اور امریکہ اس میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے جبکہ مستقبل میں کولیشن سپورٹ فنڈز کی بحالی کی امید بھی کی جاسکتی ہے لیکن قبل از وقت یہ سب اندازے اور قیاس آرائیاں ہی ہیں ،پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ کے جائزے کاحاصل یہی ہے کہ بظاہر خوش نما اوردلکش نظر آنیوالے ان ”مٹھوں “سے ہمیشہ تلخی اور کڑواہٹ ہی برآمد ہوئی ہے ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -