خاموش سفارتکار

خاموش سفارتکار
خاموش سفارتکار

  



ساجد تارڑ کا شمار پاکستانی نژاد معروف امریکی بزنس مینوں میں ہوتا ہے موصوف 90کی دہائی میں پاکستان سے امریکہ شفٹ ہوئے۔ قانون کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد بزنس میں خوب نام کمایا،اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر محض چند ہی سال میں ترقی و کامیابی کی وہ منازل طے کیں جو چند لوگوں کو ہی نصیب ہوتی ہیں۔ متعصب امریکی معاشرے میں رہ کر جہاں نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک مسلم کمیونٹی کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہاہے وہیں ساجد تارڑ نے اپنی کامیابی کا سفر احسن طریقے سے جاری رکھا اور وائٹ ہاؤس کے اندر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ سیاست کے اندر ان کی دلچسپی تب دیکھنے میں آئی جب ڈونلڈٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران اس تاثر نے جنم لیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے امریکی مسلمان غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ تب ساجد تارڑ نے ایک قدم آگے بڑھایا اور "American Muslim for Trump" نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور امریکی مسلمانوں کو ڈونلڈٹرمپ کی انتخابی مہم میں شامل کیا، جس کے بعد ڈونلڈٹرمپ کی مسلمانوں کے بارے میں سوچ میں قدرے تبدیلی آئی۔

آج کل ساجد تارڑ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے خصوصی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف پاکستانی ہونے کے ناطے اپنے ملک سے خاص محبت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت کے دوران جب پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے تب ساجد تارڑ نے وائٹ ہاؤس کے اندر اپنا اثر و رسوخ بروئے کار لاتے ہوئے ڈونلڈٹرمپ اور نواز شریف حکومت کے درمیان رابطے بحال کروائے۔ نہ صرف امریکی مسلمانوں بلکہ پاکستانیوں کے لئے بھی ساجد تارڑ کی گراں قدر خدمات ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر انڈین لابی بہت مضبوط ہے لہٰذا پاکستان کو اس بارے سوچنا چاہیے۔ پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کے بعد اسی ماہ 22جولائی کو وزیراعظم پاکستان امریکہ کا دورہ کررہے ہیں اور وائٹ ہاؤس کے اندر ہمارا خاموش سفارت کار موجود ہے جس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر پاک امریکہ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

یہ سچا پاکستانی، جو ایک فرد سے ممکن ہو سکتا ہے، سے کہیں بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے، لیکن جس طرح جو کام حکومتی سطح پر ہونا چاہیے، نہیں ہو رہا۔ اے کاش! حکومتِ پاکستان، جس کی عوام اب بجا طور پر توقع کرتے ہیں، امریکہ سمیت دیگر ممالک سے خارجہ پالیسی کے لئے باقاعدہ تھنک ٹینک قائم کرے جو تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو تبھی ساجد تارڑ اور دنیا بھر میں بکھرے پاکستان کے ”سرمایہ“ سے ہم خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں!

مزید : رائے /کالم