ہارن بجاؤ،حکومت جگاؤ،تاجروں نے اپوزیشن کو راہ دکھائی

ہارن بجاؤ،حکومت جگاؤ،تاجروں نے اپوزیشن کو راہ دکھائی

  

ہارن بجاؤ، حکومت جگاؤ کے انوکھے لائحہ عمل کے تحت وفاقی دارالحکومت کے تاجروں نے شاہراہ دستور پر گذشتہ ہفتے خوب ہارن بجائے، لیکن بظاہر یہی تاثر مل رہا تھا کہ اسلام آباد کے تاجر حکومت کو خوابِ خرگوش سے جگانے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے۔دارالحکومت میں یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ حکومت کسی احتجاج وغیرہ کو خاطر میں نہیں لاتی، اسی لئے تاحال وفاقی دارالحکومت میں جتنے بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں حکومت ان پر ٹس سے مس ہوتی نظر نہیں آئی،لیکن بلیو ایریا اسلام آباد کے تاجروں کی قیادت میں حکومتی ایوانوں کے سامنے ہونے والے اس دلچسپ مظاہرے سے شاید حکومت کے کانوں پر جوں تک تو رینگتی نظر نہیں آتی، لیکن ملک کے تپتے صحرا میں یہ منفرد احتجاجی مظاہرہ حکومت کے خلاف، بلکہ حکومت کو بھگانے جیسی کسی ممکنہ تحریک کے ضمن میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس احتجاج میں ایسے تاجر بھی شامل تھے، جو پاکستان تحریک نصاف کے اسلام آباد میں ”ہارڈ کور“ حمایتی سمجھتے جاتے ہیں۔ بلیو ایریا میں الیکٹرانکس مارکیٹ کے ایک ایسے ہی سرخیل مغیث الدین شیخ بھی اس مظاہرے میں پیش پیش تھے۔ اگر وسیع تناظر میں ملکی سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کے خلاف کسی ایجنڈے پر متفق ہوتی ہوئی نظر آ تی ہیں۔بالخصوصی پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی میں قربتیں بڑھتی ہوئی نظر آئی ہیں، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن تو پہلے ہی سے حکومت کے خلاف کسی زور دار تحریک چلانے کے نہ صرف حق میں ہیں، بلکہ بے تاب بھی نظر آتے ہیں۔جماعت اسلامی بھی حکومت کے خلاف بے چین نظر آتی ہے۔ اگرچہ اس سال کے اوائل ہی میں ایسی کوششوں کا آغاز ہو گیا تھا،لیکن کورونا کی مہلک وبا کے باعث انہیں مہمیز نہیں ملی تھی، پھر سالانہ بجٹ کی وجہ سے بھی یہ کوششیں موخر ہو گئی تھیں۔ اگرچہ وفاقی دارالحکومت میں یہ تاثر پختہ تھا کہ بجٹ کے بعد کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور واقع ہوں گی۔اپوزیشن کو بھی شاید کوئی لولی پاپ ملا تھا، طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں،کوئی اِن ہاؤس تبدیلی کی بات کر رہا تھا، تو کوئی وسیم اکرم پلس کو منفی قرار دینے پر تُلا ہوا تھا، لیکن بجٹ کے بعد وفاقی دارالحکومت میں یہ تاثر زور پکڑنے لگا کہ حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے چھ ماہ کی مہلت مل گئی ہے اور اب وزیراعظم عمران خان ان چھ ماہ میں پورے اعتماد کے ساتھ حکومتی امور سرانجام دیں گے، جبکہ وزیراعظم عمران کے حلیف جو انہیں ”ہوا دینے“ لگے تھے، وہ بھی قدرے خاموش ہو گئے۔ اب اس وقت دارالحکومت میں یہی نظر آتا ہے کہ حکومت کی حلیف سیاسی جماعتیں پرانی تنخواہ پر ہی اکتفا کریں گی،اس صورتِ حال میں یہ دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اب اپنی مدت پوری کریں گے اور اپوزیشن کو پانچ سال کی مدت پوری کرا نا پڑے گی۔ تاہم اب صورتِ حال میں بھی تبدیلی نظرآ رہی ہے، ملک کی مستقل اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف ایک ہی قوت میں سر جوڑتی ہوئی نظر آ رہی ہیں،جب ایک طرف ملک میں ایک طرف آٹے اور گندم کا ایک نیا بحران جنم لیتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، تو دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کے اس انداز میں بخیے ادھیڑے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے نیب نیازی گٹھ جوڑ کے الزام میں وزن پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔لگتا ہے کہ اپوزیشن کو عیدکے بعد حکومت کے خلاف کسی ممکنہ احتجاجی تحریک کے لئے سازگار ماحول مل رہا ہے۔اب دیکھنا ہے کہ اپوزیشن میں کتنا دم ہے کہ ہارن بجاؤ حکومت جگاؤ کی حکمت عملی سے حکومت تو نہیں جاگی تو کیا اپوزیشن اس ہارن سے جاگتی ہے کہ نہیں! وزیراعظم عمران خان نے وسیم اکرم پلس کو اے پلس قرار دے دیا ہے اس کی دارالحکومت میں مختلف توضیحات بیان کی جا رہی ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی سے واقعی ہی خوش ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ درحقیقت وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کی ممکنہ سیاسی لشکر کشی کو بھانپتے ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف کے داخلی خطرات کا ادراک کرتے ہوئے پنجاب کے نازک سیاسی سیٹ اَپ کو نہیں چھیڑنا چاہتے۔اس موقع پر پنجاب میں سیاسی تبدیلی درحقیقت تبدیلی کے جن کو بوتل سے باہر نکالنے کے مترادف ہو سکتی ہے۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کا بھی اس ضمن میں بیان آ چکا ہے کہ پی ٹی آئی کو ”اندر“ سے خطرہ ہے، جبکہ وفاقی وزیر فواد چودھری نے ایک ایسے وقت میں دوہری شہریت کے حامل مشیران کے مستقبل کے حوالے سے بھی بیان دیا ہے،جب پوری اپوزیشن غیر ملکی شہریت کے حامل مشیران کے ایشو پر حکومت کے خوب لتے لے رہی ہے،تاہم قومی سلامتی کے حوالے سے دیکھا جائے تو غیر ملکی شہریت کے حامل مشیران کا کابینہ اجلاس اور حساس قومی معاملات کی فیصلہ سازی میں شریک ہونے پر سوالات اٹھنا منطقی نظرآتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کورونا سے حال ہی میں صحت یاب ہونے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشیران کے حوالے سے خاصا نپا تلا اور قدرے ذومعنی بیان بھی دیا ہے، جبکہ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اس سیاسی تلاطم میں دفتر خارجہ میں آ کر نہ صرف ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا،بلکہ سیاسی امور پر بھی تفصیلی بات چیت کی۔یہ ملاقات بھی موجودہ سیاسی تناظر میں اہمیت کی حامل ہے۔ آئندہ آنے والے دن دارالحکومت میں سیاسی لحاظ طے خاصے پُر تفسیر نظر آتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -