اجمل وزیر پر الزامات کے لئے تحقیقاتی کمیشن قائم

اجمل وزیر پر الزامات کے لئے تحقیقاتی کمیشن قائم

  

ہفتہ رفتہ کی دو اہم خبریں ٹاک آف دی ٹاؤن ہیں، پہلی خبر برطرف کئے جانے والے صوبائی مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ اجمل وزیر کے حوالے سے ہے جبکہ دوسری اہم سٹوری اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل کے سرکاری دفتر میں پشاور کی مشہور پشتو گلوکارہ گل پانڑہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے متعلق ہے۔

اہمیت کے اعتبار سے مذکورہ دونوں خبریں دلچسپی سے بھرپور ہیں اور ان کی بازگشت اقتدار کے ایوانوں سے گلی محلوں اور میدانوں تک سنائی دے رہی ہے، جہاں تک اجمل خان وزیر کو اہم منصب سے الگ کئے جانے کا تعلق ہے تو ہم نے گزشتہ دو ڈائریوں میں اس کے انکشاف سے ابتدائی تحقیقات تک کے معاملات کور کئے تھے، اب اس معاملے میں ڈویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے سابق مشیر اطلاعات پر عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کے لئے باقاعدہ کمیشن قائم کر دیا ہے، سینئر بیورو کریٹ صاحبزادہ سعید احمد کی سربراہی میں قائم کردہ کمیشن میں محمد بشیر اور طارق جاوید کو رکن نامزد کیا گیا ہے، کمیشن کے تینوں اراکین کے حوالے سے یہ مشہور ہے کہ وہ نہایت دیانت دار اور غیر جانبدار افسران ہیں، جو پہلے بھی کئی اہم تحقیقات کر چکے ہیں اور ان کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی دوران تحقیقات کسی قسم کا دباؤ قبول کیا اور نا کسی طرز کی پیشکش۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کمیشن کے قیام کے لئے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا، جس پر قائم کردہ کمیشن کے سربراہ صاحبزادہ سعید احمد نے صوبائی سکریٹری اطلاعات و تعلقات عامہ کو مراسلہ بھجوایا جس میں تحریر کیا گیا ہے کہ اس کمیشن کو سابق صوبائی مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر پر عائد کردہ الزامات کی تحقیقات کا فریضہ سونپا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ثاقب بٹ نامی شخص کی طرف سے عائد کردہ الزامات سمیت ان تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے جو مشیر مذکور کی وزارت کے دور میں سامنے آتے رہے، یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق مختلف میڈیا ہاؤسز کو سرکاری اشتہارات کے اجرا کا طریق کار کیا ہے اور وزیر یا مشیر کے اس حوالے سے صوابدیدی اختیارات کس حد تک ہیں اور انہیں ناجائز طور پر استعمال کر کے کرپشن کس طرح ممکن ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ کمیشن کی تحقیقات کے ذریعے اشتہارات کی تقسیم کا فول پروف نظام متعارف کروایا جائے جس کے ذریعے شفافیت اور احتساب کا عمل بھی یقینی بنایا جا سکے، کمیشن کے سربراہ نے اس حوالے سے مختلف ٹی او آرز کا بھی تذکرہ کیا ہے اور صوبائی سکریٹری اطلاعات سے تین مختلف قسم کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جن کے مطابق سابق مشیر اجمل وزیر کے دور اقتدار (3 مارچ سے 11 جولائی 2020ء) ان کی جانب سے جاری کئے جانے والے اشتہارات، احکامات اور زیر استعمال سہولیات کی تفصیلات، اشتہارات یا سروسز کی فراہمی کا طریقہ کار اور صوبائی محکمہ اطلاعات تعلقات کی طرف سے اس حوالے سے مختلف تجاویز بھی شامل ہیں، اس کمیشن کو وزیر اعلیٰ کی طرف سے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے اور یہ بھی اطلاع ہے کہ اگر تیار کردہ رپورٹ میں اجمل وزیر پر الزامات ثابت نہ ہوئے تو انہیں عہدے پر بحال کر دیا جائے گا تاہم اس دوران کامران خان بنگش قائم مقام مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

پشتو کی گلوکارہ گل پانڑہ کے رقص کی ایک ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ ضلع خیبر کے تحصیل آفس میں بھرپور ڈانس کرتے دکھائی دے رہی ہیں تاہم اس ڈانس کو ٹک ٹاک کا نام دیا جا رہا ہے،بعض اطراف سے اسے زبردست تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حال ہی میں سیٹلڈ ایریا میں ضم ہونے والے ضلع خیبر کی اہمیت کے اعتبار سے سب سے بڑی تحصیل لنڈی کوتل کے سرکاری دفتر میں اس قسم کا ڈانس کس طرح ممکن ہوا، یہ موضوع بھی زیر بحث ہے کہ اس روز اے سی آفس کی زبردست صفائی کی گئی اور تزئین وآرائش بھی معمول سے ہٹ کر تھی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعداسے پسند کرنے والے بھی خاصی تعداد میں سامنے آئے تاہم معترضین بھی کم نہ تھے۔ معاملہ اس حد تک طول پکڑ گیا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کو با امر مجبوری اس کا نوٹس لینا پڑا، جنہوں نے حالات کا جائزہ لے کر اس کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا اور چیف سیکرٹری کاظم نیاز کو ہدایت کی کہ وہ اس کی مناسب تحقیقات کا بندوبست کریں جن کے حکم پر صوبائی سیکرٹری داخلہ نے دیگر افسروں کے ہمراہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا مشاہدہ کیا پھر باریک بینی سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ بھی تیار کی جس کے بارے میں اطلاع ہے کہ اس معاملے میں ملوث افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

مون سون کے آغاز میں ہی خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کی رونقیں لوٹنا شروع ہو گئی ہیں، کاغان، ناران، شوگران، سوات، کالام، وادی نیلم اور گلیات سمیت دیگر علاقوں میں موسم دیدنی ہے بالخصوص سوات کی وادی کالام میں سیاحوں کا رش لگ گیا جس کے بعد مقامی ہوٹل و ریسٹورنٹ سیاحوں سے بھر گئے اور ہوٹلز مالکان نے بھی کرایوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا، ان کا موقف ہے کہ چار پانچ ماہ کے مکمل لاک ڈاؤن کے بعد ہماری آمدن کا کوئی راستہ نکلا ہے۔ اگر چہ سیاحوں کی بڑی تعداد اپنی گاڑیوں پر ان مقامات کی سیر کو آ رہی ہے تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کھلنے سے بھی آمد و رفت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے ٹورسٹ خواتین و حضرات بسوں ویگنوں کے کرایوں میں اضافے کی شکایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ سیاحوں سے 6سے 8ہزار روپے تک کا کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، دوسری جانب سوات کی ضلعی انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے اور ایس او پیز کے تحت ناچلنے والے 41ہوٹلز کے خلاف کارروائی کرکے انہیں سیل کر دیا۔ ہفتہ اتوار اور پیر کے روز سیاحوں کی بڑی تعداد کو سڑکوں پر رات گزارنا پڑی۔

چونکہ سیاحتی مقامات کے پی کے کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہیں، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد سیر و تفریح سے لطف اندوز ہونے کے لئے یہاں کا رخ کرتی ہے اس لئے صوبائی حکومت بھی اس طرف خاصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ روز مانسہرہ کے سیاحتی مقام شوگران کا دورہ کیا، جہاں اْنہوں نے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی کو آسان بنانے کیلئے تین مختلف رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جن میں 15 کلومیٹر وادی مانور روڈ، 11 کلومیٹر وادی شوگران روڈاور9 کلومیٹر وادی پابرنگ روڈ شامل ہیں۔ رابطہ سڑکوں کے ان منصوبوں پر1421 ملین روپے کی مجموعی لاگت آئے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -