بلاول بھٹو زرداری کو احسان کا دھمکی آمیز ٹویٹ،پیپلز پارٹی کا سخت احتجاج

بلاول بھٹو زرداری کو احسان کا دھمکی آمیز ٹویٹ،پیپلز پارٹی کا سخت احتجاج

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو سابق ترجمان طالبان احسان اللہ احسان کی طرف سے ایک غیر مصدقہ ٹوئٹ کے ذریعے دی گئی دھمکی پر گفتگو ایوان بالا میں بھی سنی گئی، پی پی پی کی سینیٹر شیریں رحمن نے پارٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی نے برملا وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیرداخلہ اعجاز شاہ کو قصوروار قرار دیا ہے۔ اور اعلان کیا ہے اگر بلاول بھٹو زرداری کو خراش بھی آئی تو اس کا ذمہ دار وزیراعظم پاکستان کو تصور کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع نے الزام لگاتے وقت کہا ہے کہ ان کی جانب سے مذمتی بیان نہیں آیا۔

سیاسی را ہنماؤں کو کسی بھی حوالے سے دھمکی آمیز پیغامات تشویش کی بات ہے، پیپلز پارٹی کی تشویش بجا ہے۔ اس کی تحقیقات ہونا ازحد ضروری ہے۔ وزرات داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کا سختی سے نوٹس لے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ سابق طالبان راہنما اس وقت کہا ں ہے؟ اس کے بارے میں حکومت آگاہ کرے۔

یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ سابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان جس کا اصل نام لیاقت علی بتایا جاتا ہے، جو قبائلی علاقے کے ضلع مہمند میں پیدا ہوا، اپریل 2017 میں خود کو پاکستان سیکیورٹی اداروں کے حوالے کرنے والا فروری 2020 میں کس طرح فرار ہوا۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اس فرار کی تصدیق کی تھی، لیکن چار ماہ گذرنے کے بعد بھی اس کے متعلق مزید معلومات عوام کو نہیں بتائی گئیں۔

وفاقی وزرات داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ سیکیورٹی اداروں سے مزید معلومات حاصل کرکے ایوان بالا اور قومی اسمبلی کو آگاہ کرے کہ ایک فرارشدہ شخص کس طرح اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلارہا ہے اور رکنِ قومی اسمبلی کو دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔

ملک میں جعلی ڈگری کی بازگشت کم ہوتے ہی دُہری شہریت کی خبریں نقارے کی طرح بجنے لگیں! وزیراعظم عمران خان کے مشیروں کے اثاثے اور شہریت عوام کے سامنے پیش کردیے گئے۔ تحریک انصاف کے لوگ اس کو بھی اپنی حکومت کی کارکردگی میں شمار کررہے ہیں کہ مشیروں کے بارے میں اس قدر معلومات پہلی مرتبہ دی گئی ہیں۔ موجودہ مشیروں پر منتخب اراکین اسمبلی کی تنقید گاہے گاہے ہوتی رہتی تھی اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیانات بہت زوردار انداز سے سامنے آئے تھے۔ اب مشیروں کی جائیداد اور شہریت نے وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے، سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے ایسے لوگوں کی وفاقی کابینہ میں موجودگی کو ملک کیلئے خطرہ قرار د یا ہے۔ حیرت ہے کہ ہزاروں بیوروکریٹس کی دُہری شہریت پر آج تک خاموشی کیوں رہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی تقریباً 22 ہزار بیوروکریٹس بھی غیرملکی شہریت رکھتے ہیں، کسی حکومت نے ان کے خلاف بھی ابھی تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔

دیگر مشیروں کی کارکردگی اپنی جگہ لیکن توانائی کے مشیر ندیم بابر کی کارکردگی سوالیہ نشان کی زد میں رہی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی جو سندھ اور بلوچستان میں گیس کی تقسیم کا فریضہ ادا کرتی ہے، گذشتہ تین برس سے مستقل ایم ڈی کے بغیر چلائی جارہی ہے تاکہ اپنی مرضی کے فیصلے ایک قائمقام ایم ڈی سے کروائے جاسکیں، اسی طرح ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پارکو کے ایم ڈی کی تقرری بھی ندیم بابر کی وجہ سے تاخیر کا شکار بتائی جاتی ہے۔ جہاں وہ من پسند افراد کو عہدہ دلوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اخبارات میں ان کے حوالے سے کئی اہم انکشافات بھی ہوئے لیکن ابھی تک وہ وزیراعظم کے ایڈوائزر اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت، بلدیاتی اداروں کی اگلے مہینے مدت ختم ہوتے ہی ایڈمنسٹریٹرز کا تقرر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اور الیکشن کو ایک برس کیلئے مؤخر کرنے کی بھی ٹھان رکھی ہے۔ حیرت ہے ابھی گذشتہ دنوں ملک شام میں پارلیمنٹ کے الیکشن ہورہے تھے جہاں آٹھ برس سے زائد عرصے سے خانہ جنگی ہورہی ہے، آدھی آبادی ملک سے ہجرت پر مجبور ہوگئی لیکن الیکشن کے عمل کو معطل نہیں کیا گیا۔

ایسی ہی مثالیں ہمارے ہمسایہ ملک ایران کی ہیں جب ایران عراق جنگ جاری تھی لیکن الیکشن ایک مرتبہ بھی منسوخ یا معطل نہیں کیے گئے تھے۔ کورونا وباء کے ہوتے ہوئے اور خانہ جنگی سے تباہ حال ملک نے نئے نمائندے منتخب کرنے کیلئے الیکشن کا انعقاد کرلیا۔ ہمارے صوبے اسے آڑھ بناتے ہوئے عوام سے نمائندگی کا حق چھیننے کے درپے ہیں۔ اس پر طرہئ یہ کہ بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اپنی مرضی کی نئی حلقہ بندیاں بھی ایجنڈے کا حصہ بتایا جاتا ہے۔

بلدیاتی نظام مؤثر نہ ہونے کی وجہ سے مون سون کی بارش نے کراچی کے عوام کیلئے زندگی جہنم سے بدتر بنادی ہے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ پاکستانی عوام بالعموم اور کراچی کے رہنے والے بالخصوص بنیادی ضرورتوں کے حصول کیلئے میڈیا میں آواز اٹھانے پر مجبور ہیں۔

کمشنر کراچی دودھ اور گوشت کے مقرر کیے گئے نرخ پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہوگئے ہیں، اب صوبائی حکومت کو سمجھ لینا چاہیے کہ بیوروکریسی معاونت کیلئے مؤثر ہے، لیکن سیاسی نظام اور عوام کی سہولت کیلئے بلدیاتی نظام کس حد تک ضروری ہے۔ میونسپل مسائل کسی صو بائی حکومت سے حل نہیں ہوسکتے۔

کورونا میں کمی کا عندیہ دیا جارہا ہے، وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کی صدارت کی اور عیدالاضحی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ پاکستان میں صحت یاب افراد کا تناسب 77 فیصد بتایا جارہا ہے، جو خوش آئند ہے۔

صورتحال میں تیزی سے بہتری آرہی ہے۔ عالمی ا داروں کی رائے ہے کہ 2021 میں اقتصادی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہوسکیں گی، اس لیے آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -