حالات نے مجبور کردیا: آئند انتخابات میں ووٹرکی سوچ کا اندازبدل جائے گا

حالات نے مجبور کردیا: آئند انتخابات میں ووٹرکی سوچ کا اندازبدل جائے گا

  

سیاسی جماعتوں سمیت کسی کو یہ ادراک نہیں کہ جس ملک میں معاشی بحران آتا ہے وہاں نہ صرف چولہے ٹھنڈے بلکہ تعلقات اور رشتے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ ملک کو درپیش معاشی بحران محض عالمی وبا کی وجہ سے نہیں بلکہ پہلے شروع ہوچکا تھا اس کی کئی وجوہات ہیں۔مگر کرونا وائرس اب اس کی بڑی وجہ قرار پایا ہے،یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ تحریک انصاف کو گزشتہ تمام انتخابات میں بلند بانگ دعوؤں اور خوش کن طلسماتی منشور نے بھی کافی ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا تو دوسری طرف ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات نے بھی مدد کی۔اسٹبلشمنٹ کے ووٹ بنک نے اضافی کردار ادا کیا جس میں ہر دو سیاسی جماعتوں کی قیادت کی نااہلی اور انتخابات سے قبل گرفتاری سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی،اب موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے تقریبا دو سال ہونے کو ہیں اگرچہ یہ زیادہ وقت تو نہیں لیکن اتنا کم بھی نہیں کہ اس عرصہ کو سابق حکمرانوں کی کہہ مکرنیاں کے کھاتے میں ڈ ال دیا جائے اور کارکردگی کا جائزہ نہ لیا جاسکے البتہ یہ ضرور ہے کہ صاحب اقتدار پارٹی سے وابستگان کو ہر ا ہرا ہی نظر آتا ہے جبکہ مخالف دوسری آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔موجودہ صورت حال میں تحریک انصاف کو ووٹ دینے والا ووٹر کیا سوچ رہا ہے یہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئندہ عام انتخابات میں انہوں نے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے کہ آئندہ حکمرانی کا حق کس کا ہوگا اور اس وقت سیاسی اور معاشی صورتحال بے یقینی کا شکار ہے کہ وزراء اور مشیران یہ یقین دہانی کرا تے پھرتے ہیں کہ ”مائنس ون“نہیں ہورہا جبکہ وزیر اعظم عمران خان خود یہ بیان جاری کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو تبدیل نہیں کیا جارہا اب سوال یہ ہے کہ انہیں یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ ظاہر ہے کہ کہیں نہ کہیں،کسی نہ کسی کھاتے میں ایسی سیاسی کچھڑی پک رہی ہے تو یہ وضاحت کرنا پڑی کیونکہ اس قسم کی باتیں تواتر سے نہ صرف روایتی بلکہ سوشل میڈیا کا ٹرینڈ بن چکی ہیں،سیاسی لاتعلقی کی خبریں بھی ہیں جیسا کہ تجزیہ نگار اور دانشور اپنے ماضی کے خیالات سے پہلو بچا رہے ہیں گو یہ افسوس ناک اور لاتعلقی مشکل ترین فیصلہ ہوتا ہے مگر یہ تبھی ممکن ہے جب امیدیں دم توڑیں اور توقعات ختم ہوجاتی ہیں۔سیاست کے حوالے سے تو ایسا ہی ہے البتہ معیشت کے بارے میں امیدیں اب بھی وابستہ ہیں البتہ مسلم لیگ (ن)کے عہدیداروں کا موقف کچھ ایسا ہی ہے جو انہوں نے سردار اویس خان لغاری کے سا تھ میڈیا کو دیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے آزادانہ ووٹنگ ہوئی تو پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین اسمبلی ہمیں یعنی ن لیگ کی طر ف کھڑے ہوں گے،تاہم انہوں نے الگ صوبے کے مطالبہ کو دہرایا اور بہاولپور کیلئے ریفرنڈم کی تجویز دی اور صوبے کے بغیر سیکرٹریٹ کے قیام کو مسترد کردیا اور الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اداروں کو تباہ کردیا ہے،کسان اس وقت معاشی بدحالی کا شکار ہیں آٹا،چینی،اور گھی سمیت روز مرہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو اذیت میں ڈال دیا گیا ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ اگر اپوزیشن موجودہ حکمرانوں کو ایوان سے نہیں نکالتی تو عوام انہیں نکال دیں گے۔تاہم ن لیگی رہنما نے تسلیم کیا کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود جنوبی پنجاب الگ صوبہ نہ بنا کر بڑی سیاسی غلطی کی تھی۔ادھر سینئر مسلم لیگی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ آئین توڑنے والوں کے خلاف بات کرتے رہیں گے،مجھے جیل میں ڈالنا ہے تو ڈال دیں ڈرتا ہوں اور نہ ضمانت کراؤں گا حق او رسچ کا پرچم بلند رکھوں گا مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا،انہوں نے واضع کہا کہ افواج پاکستان کے بوٹوں کی خاک میری آنکھوں کا سرمہ ہے لیکن جمہوریت کیلئے آواز بلند کرتا رہوں گا،مخدوم جاوید ہاشمی کو یہ بات اس لئے کہنی پڑی جب ملتان کے تھانہ کینٹ میں ریاستی اداروں پر ایک پریس کانفرنس میں تنقید کرنے پر مقدمہ نمبر 647/20درج کرکے ایف آئی آر سیل کردی گئی اور مزید کارروائی نہیں کی گئی ہے،اس پر ملتان پولیس کے سربراہ سمیت تمام خاموش ہیں۔ادھرجنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے ملتان یا بہاول پور میں قیام کے مسئلہ پر وزراء اور حکومتی ارکان اسمبلی کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر تنقید سے گھبرا کر ملتان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اختر ملک کی قیادت میں پریس کانفرنس کی اور دعویٰ کیا کہ سیکرٹریٹ کا مرکزی دفتر ملتان میں ہوگا اور الگ صوبہ بھی ضرور بنے گا،سوشل میڈیا پر ہمارے ارکان اسمبلی کے خلاف افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضع کہا کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی بھی الگ صوبے کے حق میں ہیں اور سیکرٹریٹ کے قیام میں ان کی کاوشوں کا بھی ہاتھ ہے۔دراصل یہ پریس کانفرنس تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہڑ کی پریس کانفرنس کے جواب میں کی گئی جس میں انہوں نے اپنی ہی جماعت کے ارکان اسمبلی اور وزراء پر الزامات کی بوچھاڑ کرد ی تھی اور انکشاف کیا تھا کہ مقامی ارکان اسمبلی اور وزراء کی وجہ سے ضلع ملتان میں اس وقت کرپشن عروج پر ہے اور ڈپٹی کمشنر ملتان اس سب میں معاون ہیں جو ان ارکان اسمبلی کے علاوہ کسی کی بات سن کر راضی نہیں ہیں،موصوف نے جو الزامات عائد کئے تھے وہ بڑے سنجیدہ قسم کے تھے شاید یہی وجہ ہوگی کہ بعدازاں انہیں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے لاہور بلا کر ملاقات کا خصوصی وقت دیا اور بعد میں وزیر اعظم سے ان کی ملاقات کروائی گئی جس میں اس ایم این اے کے کچھ کام فوری کردئیے گئے جبکہ باقی کیلئے احکامات جاری کئے گئے۔یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ مذکورہ ایم این اے پر سرکاری ارکان اسمبلی نے کرپشن کے الزامات لگائے مگر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ نے انہیں ملاقات کیلئے بلالیا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ الزام لگانے والے ارکان اسمبلی کو ابھی تک ہر دو سرکاری شخصیات سے ملاقات کا ”شرف“حاصل نہیں ہوسکا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -