بڑی عدالت کا بڑا فیصلہ

بڑی عدالت کا بڑا فیصلہ

  

سپریم کورٹ نے خواجہ برادران (خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق) کی ضمانت کے مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے اس سے پہلے ایک مختصر حکم کے ذریعے نیب کے قیدی ان ہر دو حضرات کی رہائی عمل میں آ چکی تھی۔87 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس مقبول باقر نے تحریر کیا ہے۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اس پر توثیقی دستخط ثبت کیے ہیں۔ فیصلے میں نیب کی کارکردگی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ خواجہ برادران کے خلاف پیراگون کیس انسانی تذلیل کی بدترین مثال ہے۔یہ مقدمہ قائم کر کے قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں، دو پارٹیوں کے معمولی لین دین کو زمینوں پر ناجائز قبضے کا نام دے دیا گیا۔ بڑی عدالت کے اس بڑے فیصلے میں کہا گیا ہے:”مہذب معاشروں میں مجرم قرار دینے ے بعد سزا شروع ہوتی ہے۔(نیب کو حاصل) گرفتاری کا اختیار ظلم اور ہراسانی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔سزا سے پہلے ہی کسی شخص کو قید میں ڈال دینا اس کی بہت بڑی تذلیل اور بے توقیری ہے۔ کسی شخص کی گرفتاری سے نہ صرف وہ شخص، بلکہ اس کا پورا خاندان اور اس کے جملہ متعلقین متاثر ہوتے ہیں۔ کسی شخص کی گرفتاری اس کی شہرت کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔ معاشرے میں اس کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی، اور اسے تخ ترین تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔اسے بدنام کر دیا جاتا ہے۔ آج کے تیز اور مضبوط پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دور میں کسی شخص پر لگائے جانے والے الزامات، اور اس کی گرفتاری اس کے خلاف ایک مذموم مہم کے فروغ کا باعث بن جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے اس کے خلاف سرگرمیوں اور بڑبڑاہٹ میں اضافہ ہوتا ہے، ملزم اور اس کے خاندان کی تذلیل، گھبراہٹ، پریشانی اور مصائب بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں“۔ (گویا اسے سزا سے پہلے ہی سزا دے دی جاتی ہے یا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی مجرم بنا دیا جاتا ہے)

سپریم کورٹ نے نیب کے کردار اور معاملات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ، ایک تسلسل کے ساتھ الزام لگایا جا رہا ہے کہ نیب کو بڑے بُرے طریقے سے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک نیب کی ساکھ اور غیر جانبداری کو بُری طرح متاثر کرتا ہے۔ نیب ریفرنسز کی تفتیش کئی کئی ماہ تک مکمل نہیں ہوتی اور اس بنا پر عدالتوں میں سالہا سال تک مقدمات زیر التوا رہتے ہیں (جبکہ قانون کے مطابق ان کا تیس دن میں فیصلہ ہو جانا چاہیے) فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب یقینی طور پر قومی مفادات کی خدمت نہیں کررہا، جس سے ملک، قوم اور معاشرے کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے، وہ ہر شہری کے ساتھ یکساں سلوک کو یقینی بنائے،آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ہر شہری کی زندگی، وقار، عزتِ نفس اور جان ومال کو مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔کسی شخص کی گرفتاری کے لیے کوئی معقول جواز اور ایسا مواد ہونا چاہیے جو جرم سے متعلق ہو، اور اس کی گرفتاری سے کم درجے کا کوئی راستہ ہی نہ ہو۔ گرفتاری کا اختیار کسی کو دبانے یا حراساں کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ تحویل میں لیے گئے اکثر لوگ اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں، اور انہیں اپنے دفاع کی تیاری سے بھی روک دیا جاتا ہے۔قید کا بوجھ پوری شدت کے ساتھ خاندان کے بے گناہ افراد کے کندھوں پر آ جاتا ہے، عام طور پر سزا ملنے سے پہلے اور سزا ملنے کے بعد کی گرفتاری کے فرق کو بھی نہیں سمجھا جاتا (کہ ایک محض الزام کی بنا پر عمل میں آتی ہے، جبکہ دوسری جرم ثابت ہونے کے بعد ممکن ہو پاتی ہے)۔

فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں ملک کی سیاسی تاریخ اور احتساب کے لیے(مختلف اوقات میں) کیے جانے والے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا ہے اور احتساب کے جانبدارانہ اور یکطرفہ عمل کے نتیجے میں ملک اور قوم کو پہنچنے والے نقصانات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دور رس اثرات مرتب کرے گا، اور احتساب کے نام پر کی جانے والی یکطرفہ کارروائیوں کو روکنے میں کردار ادا کرے گا، ضمانت کے حق کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے،اسے پاکستان کے عدالتی نظام میں بھی یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔یہاں احتساب کے نام پر گرفتاریوں اور الزام تراشیوں پر زور ہے،لیکن مقدمات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں دلچسپی بہت کم رہی ہے۔ قاتلوں اور دہشت گردوں کے بارے میں تو یہ استدلال قائم کیا جا سکتا ہے کہ ان کی ضمانت پر رہائی کے تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے، لیکن احتسابی کارروائیوں کا حدف بننے والے ”پبلک آفس ہولڈرز“ کی آزادی چھیننے کے لیے اس طرح کا جواز نہیں تراشا جا سکتا۔ہر مہذب ملک میں شخصی آزادی اور تکریم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔وہاں گرفتاریوں پر نہیں مقدمات کو نبٹانے پر زور دیا جاتا ہے۔اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ اس کی سزا بھگتے،لیکن کسی بے گناہ کی آزادی سلب نہ کی جا سکے۔ اگر کسی ایسے شخص کو طویل عرصے تک قید رکھا جائے،جو بعد میں بے گناہ ثابت ہو،تو اس سے چھینے ہوئے ماہ وسال اسے لوٹائے نہیں جا سکتے۔پاکستان کے عدالتی نظام نے بھی اس نکتے کو پوری شدت، قطعیت اور وضاحت کے ساتھ پیش ِ نظر نہیں رکھا،جو سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے سامنے آتی ہے۔

تمام ریاستی اداروں،جن میں مقننہ اور انتظامیہ بھی شامل ہے،کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں اپنے اپنے دائرے میں موثر اقدامات کریں،تاکہ احتساب کے نام پر انتقام کو فروغ نہ دیا جا سکے، نہ ہی اسے یکطرفہ اور جانبدارانہ بنایا جا سکے۔مہذب اور جمہوری ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اور مقدمات چلانے والے ادارے اپنا کام بلا روک ٹوک انجام دیتے ہیں۔ انہیں کسی کے اشارہئ ابرو کی ضرورت نہیں ہوتی۔نہ ہی کسی کی دوستی یا دشمنی کے تابع اقدامات کرنے کی اجازت مل پاتی ہے۔اگر وہ تجاوز کریں تو ان کے احتساب کا نظام بھی حرکت میں آ جاتا ہے۔پاکستان ایک آئینی مملکت ہے، اس کا باقاعدہ تحریری آئین موجود ہے،جس میں شہریوں کے حقوق اور فرائض واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں۔ مختلف اداروں کا دائرہ کار بھی اس کے تحت متعین کر دیا گیا ہے،اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے(اور یقینا بڑھنا ہے) تو پھر کتاب آئین کو پوری شدت اور قوت سے نافذ کرنا ہو گا۔عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو اپنے اپنے دائرے میں ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔اس لحاظ سے عدلیہ کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ اسے اپنے آپ کوبھی ایک دائرے میں رکھنا ہے، اوردوسرے اداروں کے تجاوز ات کو بھی اوجھل نہیں ہونے دینا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں پر لازم ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے، ایک دوسرے کی معاونت کریں اور بے لاگ اجتناب کے لیے اقدامات کریں اور احتساب سے متعلق امور پر سر جوڑ کر بیٹھیں۔ وقتی سیاسی ضرورتوں کو بالائے طاق رکھ کر قوم اور ملک کے مفاد میں قوانین بدلیں اور بنائیں۔ایک دوسرے کی بے توقیری کاشوق پالنے والے بالآخر اپنی عزت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -