مار گئی مہنگائی

مار گئی مہنگائی
مار گئی مہنگائی

  

پچھلے دنوں موبائل پر ایک کلپ موصول ہوا‘ جس میں وزیر اعظم صاحب فرما رہے ہیں کہ 2020 ہمارے ترقی کرنے کا سال ہے۔ اس پر ایک لڑکا کمنٹس پاس کرتا ہے کہ یہ کیسا ترقی کا سال ہے کہ جنوری میں ٹماٹر نہیں مل رہے تھے‘ فروری میں آٹا نہیں مل رہا تھا‘ مارچ میں چینی دستیاب نہیں تھی‘ اپریل میں میل جول بند ہو چکا تھا‘ مئی میں ہسپتالوں میں بیڈ نہیں مل رہا تھا‘ جون میں پٹرول نہیں مل رہا تھا‘ عوام اس کے حصول میں خجل خراب ہو رہے تھے اور ابھی چھ مہینے باقی ہیں۔ نوجوان نے غلط نہیں کہا‘ جس ملک میں عوام چھ ماہ میں چھ بڑے بحرانوں کا سامنا کریں‘ وہاں ترقی کا نام کیسے لیا جا سکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کی حالات اور معاملات پر کہیں گرفت نظر ہی نہیں آتی۔ حکمران ایک چیز کو ٹھیک کرتے ہیں تو دوسری خراب ہو جاتی ہے‘ دوسری کو ٹھیک کرتے ہیں تو تیسرا معاملہ خرابیئ بسیار کا شکار نظر آنے لگتا ہے۔ ابھی تین روز قبل ہی وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ واررپورٹ جاری کی ہے‘ جس میں بتایا گیا ہے کہ، پچھلے 7 روز میں 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کی شرح 0.15فیصد اضافے کے ساتھ 10.21 فیصد تک پہنچ گئی ہے‘ اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مسلسل ناکام جا رہی ہے۔تاحال آٹے اور چینی کے پچھلے بحران کا پوری طرح خاتمہ نہیں ہوا کہ آٹا دوبارہ پہلے مہنگا‘ پھر کم یاب اور آخر میں بالکل ہی نایاب ہو گیا۔ آٹا مہنگا ہونے کو بنیاد بنا کر متحدہ نان بائی ایسوسی ایشن نے روٹی ایک روپیہ اور نان کی قیمت تین روپے بڑھا دی۔ اب بازاروں میں سادہ روٹی کی قیمت آٹھ روپے ہے جبکہ نان پندرہ روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ نان بائیوں کا کہنا ہے کہ فلور ملز نے آٹے کی قیمت بڑھا دی ہے اور ہم پرانی قیمت پر نان اور روٹی فروخت نہیں کر سکتے۔

حکومت نے فلور ملز ایسوسی ایشن والوں کے ساتھ کئی بار مذاکرات کئے اور ہر بار ان کی بات مان لی‘ پھر بھی آٹا کنٹرولڈ نرخوں پر تاحال دستیاب نہیں ہو پا رہا۔ یہ حالت اس ملک کی ہے‘ جو ایک زرعی ملک کہلاتا ہے اور جہاں ابھی ایک ماہ پہلے گندم کی نئی فصل کاٹی گئی۔ اس وقت تو ہر گھر میں گندم ہونی چاہئے اور آٹے کے نرخ نیچے آنے چاہئیں‘ لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا۔ عجیب بات یہ ہے کہ نئی فصل کے باوجود حکومت نے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے گندم کی سپلائی بہتر بنانے کے لیے وزارت غذائی تحفظ کی تجویز پر 10لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے لیے نوٹی فیکیشن جاری کر دیا۔نوٹی فیکیشن کے مطابق درآمدی گندم فوری طور پر پاکستان آسکے گی، نجی شعبے کو درآمدی گندم منگوانے کا اختیار ہوگا، گندم کی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی اور پورے ملک میں گندم کی آزادانہ ترسیل ہو گی۔ کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ جب حال ہی میں نئی فصل حاصل کی گئی ہے تو اتنی جلدی مزید گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ نئی گندم کہاں گئی؟

اور محض گندم ہی کیا‘ یہاں تو ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے‘ دوسری جانب کورونا وبا کی وجہ سے نافذ کی گئی بندشوں کے باعث کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں میں جو کمی آئی ہے‘ اس نے عوام کی قوتِ خرید کو بے تحاشا متاثر کیا ہے۔ آمدنی کم ہوتی جا رہی ہے اور چیزوں کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ سفید پوش اپنی ایک ضرورت پوری کرنے کے لئے اپنی کسی دوسری ضرورت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ ممکن ہے کچھ لوگوں نے اپنی خوراک ہی کم کر دی ہو حالانکہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فوڈ سکیورٹی کو ابھی یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں خوراک کا بحران اور غیر معمولی گرانی ناقابل فہم ہے۔ یہاں تو کھانے پینے کی چیزیں دوسرے پڑوسی ممالک سے سستی ہونی چاہئیں لیکن سب کچھ الٹا ہی ہو رہا ہے۔ ہمارے ہاں منافع خور مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا کر بے تحاشا ناجائز منافع کما رہاہے اور حکومت اسے قابو کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے دلاسے ملتے ہیں‘ عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ شایدان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ غریبوں کے تلخ حالات زندگی کے بارے میں سوچیں اور اس طرف توجہ دے سکیں۔ اشرافیہ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ضروریات زندگی، خوراک، بجلی، گیس، پٹرول اور سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل عام آدمی کے مالی معاملات کو کتنا درہم برہم کر دیتے ہیں اور انہیں کتنی مشکلات اور اذیتوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔

وزیر اعظم صاحب ہر دوسرے چوتھے مہینے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لیتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں ممکن ہے اشیائے صرف کی قیمتیں کچھ نیچے آتی ہوں‘ لیکن پتہ نہیں کیسی حکمتِ عملی اپنائی جاتی ہے کہ عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں کو کبھی ثبات نہیں ملا۔ ہر کچھ عرصے بعد ذخیرہ اندوز مافیا متحرک ہو جاتا ہے اور مارکیٹ سے کسی نہ کسی چیز کو غائب کر دیا جاتا ہے‘ جس کا نتیجہ اس جنس کی قلت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب طلب بڑھتی ہے تو یہ مافیا آہستہ آہستہ ذخیرہ شدہ جنس بازار میں لاتا ہے اور منہ مانگے دام حاصل کرتا ہے۔کبھی ٹماٹر مہنگے تو کبھی مٹر‘ کبھی لیموں مہنگے تو کبھی گوشت۔ اس کے بعد حکومت ایک بار پھر انگڑائی لیتی ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لیا جاتا ہے اور پھر طویل گہری خاموشی چھا جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف اقدامات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں‘ لیکن ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں۔ اب پتہ نہیں حکومت عوام کے ساتھ مہنگائی مہنگائی کا کھیل کھیل رہی ہے یا مافیا۔ اور اب تو یہ بات بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی پر کبھی قابو پایا بھی جا سکے گا؟ عوام آج کل ایک دوسرے سے ایسے ہی سوالات کرتے نظر آتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -