سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب پر سوالیہ نشان

سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب پر سوالیہ نشان
سپریم کورٹ کا فیصلہ، نیب پر سوالیہ نشان

  

نیب کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال اکثر یہ دعویً کرتے ہیں کہ نیب پاکستان کے لئے کام کر رہا ہے اور اس کا مقصد ملک سے کرپشن ختم کرنا ہے،لیکن خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کا جو فیصلہ سامنے آیا ہے، اُس نے نیب کی اصل حقیقت کھول کر سامنے رکھ دی ہے۔یہ کسی سیاسی جماعت کا الزام نہیں،ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ ہے،جس کے ایک ایک لفظ سے حقیقت ٹپک رہی ہے۔اس فیصلے کے دو حصے ہیں، ایک حصے میں خواجہ برادران،یعنی خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو نیب نے جس طرح ایک بے بنیاد مقدمے میں نامزد کیا،اس کا کچا چٹھہ بیان کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے حصے میں نیب کی عمومی کارکردگی اور اس کے سیاسی مقاصد میں کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے، ہر دو صورتوں میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نیب آخر اِس ملک کے ساتھ کر کیا رہا ہے۔ خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں ملوث کرنے کو سپریم کورٹ نے بدترین ظلم قرار دیا، کیونکہ نیب کے پاس ایسے شواہد ہی موجود نہیں تھے کہ جن کی بنیاد پر یہ کیس بنایا جا سکتا۔ فیصلے میں اس امرکو بھی بہت بڑی زیادتی قرار دیا گیا کہ ثبوتوں اور ٹرائل سے پہلے نیب کسی کو بھی گرفتار کر لیتا ہے،حالانکہ اُس کے پاس شواہد ہوتے ہیں اور نہ ثبوت۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب کے جن ”عیبوں“ کی نشاندہی کی ہے، ایک عرصے سے سیاسی جماعتیں میڈیا اور مبصرین اُن پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ نیب کی تفتیش کئی کئی برس چلتی ہے، اکثر کیسوں میں تو کئی سال تک ریفرنس ہی پیش نہیں کیا جاتا، تفتیش ختم بھی نہیں کی جاتی، ایسے بیسیوں کیسز مل جائیں گے،جن میں نیب نے پھرتی دکھائی،لیکن پھر اچانک سست روی کا شکار ہو گیا، کتنے ہی ہائی پروفائل کیسز ہیں جن کے ریفرنس دائر ہوئے نہ فیصلے آئے۔انہی باتوں سے لگتا ہے کہ نیب کسی خاص مقصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پہلے تو یہ بات سیاسی جماعتیں کہتی تھیں، اب سپریم کورٹ نے اُن پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب کو حکومت بنانے، گرانے، وفاداریاں تبدیل کرانے، سیاسی مخالفین سے انتقام لینے میں کردار ادا کرنے کا مرتکب قرار دیا ہے اور اس کی بدترین مثال خواجہ برادران کے خلاف کیس بنا کر قائم کی گئی۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ نواز شریف کو سزا کے بعد خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ایک سخت لب و لہجہ اختیار کئے ہوئے تھے۔ وہ نواز شریف کے اُس بیانیے کو بھی آگے بڑھا رہے تھے جو انہوں نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے پر استوار کیا تھا۔ پھر ایک دن اچانک خبر آ گئی کہ خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نیب اُن کا ریمانڈ پر ریمانڈ لیتارہا، مگر ثبوت سامنے نہ لا سکا، ثبوت ملتے تو ریفرنس بھی دائر ہوتا۔ مقصد یہی تھا کہ زبان بندی کی جائے، آج نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بات کی جاتی ہے۔

3

حقیقت یہ ہے کہ نیب ہر دور کی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتا رہا ہے، اگر حکومت نے کسی کے خلاف اُسے استعمال کرنا ہو، اُس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔نیب کا استعمال جمہوری قوتوں کے خلاف ہی ہوتا آیا ہے۔ یہ نکتہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جمہوری قوتوں کے خلاف نیب کس کے ایماء پر استعمال ہوتا ہے۔آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو نیب کو عدل و انصاف کی بجائے سیاسی دباؤ اور انتقام کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ کیا یہ ادارہ اسی لئے قائم کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی ہے کہ اسے ایک آمر پرویز مشرف نے نافذ کیا، نیب کو ایسے اختیارات دے دیئے گئے، جو عدل و انصاف اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں،اُس وقت مقصد یہی تھا کہ آمریت کی مخالفت کرنے والوں کو اس نیب آرڈیننس کے ذریعے راہِ راست پر لایا جائے گا۔ بعد میں سب نے دیکھا کہ اس کا بدترین استعمال بھی ہوا،مگر نیب کا ہر چیئرمین یہی دعویٰ کرتا رہا کہ وہ صرف کرپشن ختم کرنے کا مشن لے کر آیا ہے،مگر یہ بات ہمیشہ اسی لئے مشکوک ہوتی رہی کہ نیب نے اپوزیشن کو دبانے کے لئے صرف اُس کے خلاف کارروائیاں کیں۔

نیب کے مظلومین کو جب بھی عدالتوں سے ریلیف ملا، نیب کے کرتا دھرتا افراد نے یہی موقف اختیار کیا کہ اُن کے پاس وائٹ کالر کرائمز تفتیش کرنے کے لئے منجھے ہوئے افسر نہیں، پراسیکیوٹنگ میں ناکامی سے بھی یہ کہہ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جاتی رہی کہ ملزموں کے پاس کروڑوں روپے فیس لینے والے وکلاء ہوتے ہیں۔ نیب کے وکلاء اس لئے مقدمات ہار جاتے ہیں۔ اُن میں سے کوئی بات بھی درست نہیں، کیونکہ جب زمین پرکیس موجود ہی نہیں ہو گا تو نیب فرشتوں کو بھی لگا دے، وہ ثابت نہیں کر سکیں گے، خواجہ برادران کیس کی حالیہ مثال نیب کے اسی کھیل کو بے نقاب کرنے کے لئے کافی ہے۔سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے میں لکھنا پڑا خواجہ برادران کے خلاف یہ کیس بنتا ہی نہیں تھا، کیونکہ پیراگون سوسائٹی سے نیب اُن کا تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا،مگر اس کے باوجود قیصر بٹ نامی ایک وعدہ معاف گواہ بنا کر انہیں ملزم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ اب ایسے جھوٹے کیس میں نیب کے تفتیشی افسران یا پراسیکیوٹرز کیا کریں۔انہیں تو جو حکم ملا ہے اُس کے مطابق جھوٹے سچے کیس بنائیں گے۔ڈاکٹر عاصم حسین،شرجیل میمن، سید خورشید شاہ، شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال، شہباز شریف،حمزہ شہباز شریف غرض کتنے ہی نام ہیں، جنہیں نیب نے بڑے طمطراق سے گرفتار کیا اور ریمانڈ پر رکھنے کے باوجود اُن کے خلاف ریفرنسز نہیں بنا سکا، وہ عدالتوں سے ضمانتوں پر رہا ہو گئے۔سید خورشید شاہ کی مثال بھی سامنے ہے کہ جنہیں ضمانت کے باوجود رہائی نہیں مل سکی، نیب جب کسی کو گرفتار کرتا ہے تو ثبوتوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست جاری کی جاتی ہے،مگر یہ سارے ثبوت عدالتوں میں جاتے ہی کاغذی گھوڑے ثابت ہوتے ہیں۔نیب نے جتنے بھی ہائی پروفائل سیاسی کیسز بنائے ہیں،اُن میں کسی ایک کو بھی سزا نہیں دلوا سکا۔ایک پیسے کی ریکوری بھی ان سیاسی شخصیات سے آج تک نہیں ہوئی،جنہیں نیب نے گرفتار کیا۔

اس سارے پس منظر میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے آخری کھیل ٹھونک دی ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسا تازیانہ ہے جس سے نیب کے تمام دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔یہ فیصلہ ایک ایسی ایف آئی آر ہے، جس نے نیب کو ایک قومی ادارے کی بجائے ملزم بنا کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بڑے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں، نیب کو بنیادی انسانی و آئینی حقوق پامال کرنے کا اختیار کیسے دیا گیا ہے۔ وہ جسے جب چاہے گرفتار کر لے،اُس کی زندگی اجیرن بنا دے، معاشرے میں اُس کی ساکھ تباہ کر دے،جب عدالتوں میں ثبوت دینے کا موقع آئے تو ایک ثبوت نہ پیش کر سکیں، جس شخص کو کئی ماہ بے گناہ قید میں رکھا گیا، اس کی عزت و اذیت کا ازالہ کیسے ہو گا،ماہرین قانون کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی وجہ سے نیب کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ اب یہ مقننہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں احتساب کا کوئی نیا قانون لائے تاکہ عوام کا احتساب پر اعتماد بحال ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -