پاکستان میں افزائشِ آبادی کا مسئلہ

پاکستان میں افزائشِ آبادی کا مسئلہ
پاکستان میں افزائشِ آبادی کا مسئلہ

  

افزائشِ آبادی پاکستان کا ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ماضی میں حکومتیں آتی جاتی رہیں، سب نے اپنی اپنی کوشش کی لیکن آبادی کی افزائش نہ رک سکی۔ اگلے روز ایک دوست سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے ”امید“ ظاہر کی کہ اگر خدا نے دنیا کو واقعی خوشحال دیکھنا ہے تو کورونا وائرس کو آنے والے 5،10 برسوں میں زیرِ دام لانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شائد منشائے ایزدی یہ ہو کہ انسان خود تو اس مسئلے میں اپنی ضد سے باز نہیں آتا تو کیوں نہ کورونا ٹائپ وائرس کو ایک عشرے تک بے لگام کر دیا جائے۔ آبادیاں لاک ڈاؤن ہوں گی تو کثرتِ پیدائش و افزائش پر خود بخود پابندی لگ جائے گی۔ لیکن میں نے جب ان کی توجہ اس طرف دلائی کہ لاک ڈاؤن سے آبادی کم نہیں، زیادہ ہو رہی ہے۔پچھلے دنوں ہمارے ہمسائے بھارت کی مہلاؤں نے دہائی مچا دی تھی اور حکومت سے التجائیں کی تھیں کہ خدارا لاک ڈاؤن ختم کریں وگرنہ ہر محلے میں دو دو زچہ و بچہ سنٹر کھولنے پڑیں گے!

تفنّن برطرف، حقیقت یہی ہے کہ گزشتہ چار پانچ ماہ میں، جنوبی ایشیاء میں بالخصوص آبادی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گوگل پر جا کر دیکھیں تو برصغیر میں ہر تین سیکنڈ کے بعد ایک بچہ پیدا ہو رہا ہے۔ مختلف Apps اور ویب سائٹس نے نیٹ پر پیدائش و اموات کے کاؤنٹر لگا رکھے ہیں لیکن جس رفتار سے پیدائشیں ہو رہی ہیں اس سے چوتھائی رفتار سے بھی اموات کا کاؤنٹر نہیں چل رہا…… اور یوں آبادیاں قابو میں نہیں آ رہیں۔

عالمی آبادی کا حساب لگانے والے بتا رہے ہیں کہ مارچ 2020ء میں دنیا کی آبادی 7ارب 80کروڑ نفوس تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ عالمی آبادی کو ایک ارب تک پہنچنے کے لئے دو لاکھ برس لگے لیکن اسے سات ارب تک پہنچنے میں صرف دو سو برس کا عرصہ لگا۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسانی ترقی کا راز شائد افزائشِ آبادی میں مضمر تھا۔ 1800ء میں دنیا کی جو آبادی صرف ایک ارب تھی وہ 1900ء میں پونے دو ارب، 2000ء میں چھ ارب اور 2020ء میں سات اعشاریہ آٹھ (7.8) ارب تک چلی گئی ہے۔اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2050ء میں 10ارب اور 2100ء میں 11ارب ہو جائے گی۔

پاکستان کی آبادی اس وقت 22کروڑ سے زائد ہے اور 2030ء تک ساڑھے 24کروڑ ہو جائے گی…… وطنِ عزیز اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔(پہلے چار ممالک چین، ہندوستان، امریکہ اور انڈونیشیا ہیں)

اگر سوال یہ کیا جائے کہ کثرتِ آبادی کے کوئی فائدے بھی ہیں تو اس کا جواب بعض دانشوروں کے ہاں اثبات میں ہے۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ دنیا کے پہلے چار ملکوں میں کثیر آبادی کے باوصف کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو ترقی نہ کر رہا ہو۔ چین اور امریکہ تو بلاشبہ ترقی یافتہ معاشرے ہیں۔انڈیا اور انڈونیشیا کی شرحِ نمو بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہ چاروں ممالک یا تو ترقی کے بامِ عروج پر ہیں یا اس کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ صرف پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جو ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں پانچ سواروں سے بچھڑ گیا ہے۔

ماہرینِ عمرانیات آبادی کو بالعموم چار طبقات میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلا طبقہ امرا کا ہے۔ دوسرا ایلیٹ / اشرافیہ کا، تیسرا متوسط الحال افراد کا اور چوتھا غریب غرباء کا۔ یہ گراف ایک قسم کا مخروطی مینار (Pyramid) بن جاتا ہے جس کی چوٹی پر صرف چند لوگ بیٹھے ہیں۔ لیکن جوں جوں نیچے آئیں۔ ان کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ سب سے نچلا طبقہ تعداد میں باقی تین طبقات سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسے غربت کی لکیر سے آگے نکلنے کے لئے مشقت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس زیریں طبقے کو بالائی منزل کا راستہ دکھائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا اور اس زیریں طبقے کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو وہ معاشرہ ترقی پذیر کہلانے کا بھی حقدار نہیں ٹھہرتا۔ لیکن غریب، مزدور یا دیہاڑی دار طبقہ ہمارے جیسے معاشروں کے لئے گویا ریڑھ کی ہڈی کاکام بھی کرتا ہے۔ آپ کسی بھی زیرِ تعمیر عمارت میں چلے جائیں۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ یہی زیریں طبقہ مکمل کرتا ہے۔ جب کسی عمارت کی بنیادیں بھر لی جاتی ہیں تو نیم ہنرمند لوگ آگے آتے ہیں جن کو راج مستری کہا جاتا ہے۔

لیکن ان کو بھی سیمنٹ کا مصالحہ تیار کرکے دینا اور اینٹوں کو ایک ایک کرکے مستری تک پہنچانا، مزدور ہی کا کام ہے۔ جب مستری دیواریں کھڑی کر لیتا ہے اور چھت ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے تو بتدریج اوورسیر، ایس ڈی او،آرکیٹیکٹ اور چیف انجینئر وغیرہ سامنے آتے ہیں۔ جب یہی عمارت ”اپنے پاؤں“ پر کھڑی ہو جاتی ہے تو اس کو دوبارہ مزدور طبقے کی ضرورت پڑتی ہے جو پینٹ کرتا ہے، رنگ و روغن کرتا ہے اور اس طرح کے دوسرے تکمیلی مراحل (Finishing Touches) انجام دیتا ہے۔ پھر اس بلڈنگ کی تزئین و آرائش کا مرحلہ اور اس میں فرنیچر وغیرہ کو لا کر فٹ کرنا اور قابلِ استعمال بنانا اس بلڈنگ کے آخری اور تکمیلی مدارج شمار ہوتے ہیں …… میں نے یہ مائیکر و تفاصیل اس لئے لکھی ہیں کہ بتا سکوں کہ کسی بھی بڑے منصوبے میں دیہاڑی دار مزدور بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اندرونی آرائش کار۔ کوئی یک منزلہ مکان بنانا ہو، پلازہ تعمیر کرنا ہو، مارکیٹ بنانی ہو یا کوئی بڑا ڈیم تعمیر کرنا ہو اس میں آبادی کے یہ سارے طبقے شامل ہوتے ہیں …… ہاں جب کوئی معاشرہ بتدریج ترقی کی منازل طے کر لیتا ہے تو پھر مزدوروں،مستریوں، کاریگروں اور انجینئروں کا کام مشنیں سنبھال لیتی ہیں۔ آپ نے کارسازی کے کارخانوں میں روبوٹ مشینوں کو آپریٹ ہوتے دیکھا ہوگا۔جو ملک یا معاشرہ جتنی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرکے دستی کاموں سے مشینی کاموں کی طرف جائے گا اس کے افراد اتنے ہی خوشحالی اور فارغ البالی سے ہمکنار ہوں گے!…… پاکستان آج اسی ابتدائی منزل سے گزر رہا ہے۔ انڈیا، انڈونیشیا، ملائیشیا اور ویت نام ہم سے آگے نکل چکے ہیں اور چین اور امریکہ تو سب سے آگے جا کر ہمارے لئے باعثِ تقلید ہیں۔

میں یہاں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز (افواج، نیم مسلح فورسز، پولیس وغیرہ) کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا۔ ہماری آبادی کا وہ طبقہ جو متوسط الحال گروہ شمار ہوتا ہے، وہ ان فورسز میں شامل ہو کر ملک کی سلامتی کو یقینی بنا رہا ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہماری فوج کا غالب حصہ نیم خواندہ تھا۔ سپاہی سے لے کر صوبیدار میجر تک پاکستان آرمی کی نفری یا تو اَن پڑھ تھی یا چار جماعتیں پاس تھی……1965ء کی جنگ میں آرمی کا تعلیمی گراف یہی تھا…… لیکن آج سپاہی بھرتی ہونے کے لئے میٹرک سیکنڈ ڈویژن ہونا لازمی ہے۔ اور جوں جوں دن گزر رہے ہیں، متوسط الحال طبقہ آبادی کا رخ فوج کی طرف ہو رہا ہے۔ روٹی، کپڑا، مکان اور میڈیکل کی مفت سہولیات پُرکشش ترغیبات ہیں۔ فی زمانہ کوئی بھی فوج (آرمی، نیوی، ائر فورس) نیم خواندہ نفری کو انڈکٹ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ سپاہی کے ذاتی ہتھیاروں سے لے کر ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی تک اور ان سب کے کمپیوٹرائزڈ ہونے تک کے مراحل کو اَن پڑھ یا نیم خواندہ سپاہی ہینڈل نہیں کر سکتا۔ ملک کی باقی سیکیورٹی فورسز بھی بڑی تیزی سے ڈیجٹیل مراحل طے کر رہی ہیں۔ پولیس کے تھانے اور چوکیاں ”عوام دوست“ بنائی جا رہی ہیں۔ اگلے روز سیالکوٹ کے ایک جدید پولیس سٹیشن کے قیام کی خبر بہت خوش آئند تھی!

یہ امر افسوس ناک ہے کہ پاکستان میں افزائشِ آبادی کا مسئلہ سنگین حدود کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم جس تعداد میں بچے پیدا کر رہے ہیں ان کو پڑھانے لکھانے کے لئے اتنی تعداد میں اساتذہ پیدا نہیں کر رہے۔ حکومت کا پروگرام تو یہ تھا کہ نیم ہنرمند (Semi Skilled) افرادکو ٹریننگ دے کر ان کو پاکستان کے مستقبل کے مشینی دور کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنایا جائے گا۔ لیکن ایک بڑی پرابلم دیہاتی علاقوں میں آبادی کی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ گاؤں کے غریب غرباء کے خاندانوں میں 8،10بچے عام پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کثرت کے آگے بند باندھنے کی تجاویز تو ہر دور میں ہر حکومت روبہ عمل لانے کے دعوے کرتی رہی لیکن اس کا عملی مظاہرہ ایک خواب ہی رہا(اور اب بھی ایک خواب ہے) آئمہء مساجد کو اس ”کارِ خیر“ کا حصہ بنانے کی تجویز کوئی نئی خبر نہیں لیکن جب تک حکومت اعلیٰ ترین سطح پر اس سست روی کا نوٹس نہیں لے گی اس ’بیماری‘ کا علاج ممکن نہیں ہوگا۔ پڑھی لکھی اور ہنر مند آبادی ہر قوم کا ایک گرانقدر اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے دیہی علاقوں میں اس خیال کو عمل میں ڈھالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ یہ درست ہے کہ کورونا وائرس نے حکومت کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اور کھل کر کسی منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کا راستہ روک دیا ہے۔ لیکن کوئی نہ کوئی حل تو اس مشکل کا نکالنا ہو گا۔ فی الوقت اضافہ ء آبادی کو روکنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ لیکن قوموں پر ایسے کڑے وقت کئی بار آتے ہیں لیکن ان سے نمٹنا بھی لازم ٹھہرتا ہے۔

آبادی کے اس مسئلے کو الیکٹرانک میڈیا پر کبھی کبھی اٹھایا ضرور جاتا ہے لیکن جب تک ٹی وی چینلوں کے کرتا دھرتا کمرشلز کی آمدن سے بے نیاز ہو کر اس کارِ خیر کو ریگولر پروگراموں کی صورت میں آغاز نہیں کریں گے تب تک کثرتِ آبادی کی روک تھام ممکن نہیں۔ ملک کے بہت سے صاحبانِ عقل و دانش پرنٹ میڈیا میں بھی اپنی تحریروں کے ذریعے اس پرابلم کو برسرعام لاتے رہے ہیں۔ان سے بھی بارِ دگر گزارش ہے کہ وہ حکومت کے متعلقہ حلقوں کو ایک قابلِ عمل روڈ میپ ترتیب دے کر ان کی رہنمائی کریں۔ بہبودِ آبادی کی وزارت کو فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کی افزائشِ آبادی کی شرح 3.6 فیصد ہے۔ اسے 2فیصد تک لانے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آج اس کی آبادی 17کروڑ ہے اور فی مربع کلومیٹر میں افراد کی تعداد اس خطے ہی میں نہیں، دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن وہاں بھی سالانہ شرحِ پیدائش 2.3ہے۔ ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اسی طرح چین کی آبادی آج ایک ارب 42کروڑ ہے لیکن اس کی شرح پیدائش 1.5فیصد فی سال ہے۔(لیکن چین کو آبادی کے اور مسائل بھی ہیں)۔ اسی طرح جاپان کی معمر آبادی بھی اس ملک کا ایک مسئلہ ہے۔ لیکن الحمدللہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس نوجوان نسل کو ایک تعمیری راہ پر گامزن کرنا حکومت کا فرض ہے۔ وزارتِ نوجوانانِ قوم کو اس سلسلے میں غیر معمولی تعجیلی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -