وفاقی کابینہ کا اپوزیشن کی اے پی سی اور کورونا سمیت 13نکاتی ایجنڈے پر غور، پی ٹی وی فیس میں اضافہ موخر

  وفاقی کابینہ کا اپوزیشن کی اے پی سی اور کورونا سمیت 13نکاتی ایجنڈے پر غور، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران کورونا کیسز میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حوالے سے ہمیں مزید احتیاط کی ضرورت ہے تمام متعلقہ ادارے اور صوبائی حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ عید الاضحی پر ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ ہو۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈے سمیت ملک کی سیاسی،معاشی اور تجارتی صورت حال کا جائزہ لیا گیا،عید کے بعد اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی کے محرکات اور اس کا سیاسی مقابلہ کرنے سے متعلق بھی بات چیت ہوئی،ادویات قیمتوں میں کمپنیوں کی جانب سے از خود اضافے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ جان بچانے والی ادویات میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور اسے وزارت صحت یقینی بنائے۔کابینہ کومعاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت سے متعلق معلومات پبلک کرنے کی وجوہات بارے بھی بتایا گیا اور اس حوالے سے سامنے آنے والے عوامی اور سیاسی رد عمل پر بھی اراکین نے تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے دوران بعض وزرا نے پی ٹی وی کی فیس میں اضافے پر اعتراض کر دیا۔وفاقی کابینہ میں وزراء کی طرف سے اعتراض آنے کے بعد پی ٹی وی کی فیس 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپے کرنے کے اضافے کا معاملہ موخر کر دیا ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا، وفاقی وزیر مراد سعید اور شیریں مزاری نے پی ٹی وی لائسنس فیس میں آضافے کی مخالفت کی۔وفاقی وزراء نے کہا کہ معاملہ باقاعدہ کابینہ میں زیر بحث لانا چاہئے۔ کابینہ قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر اس طرح کا ٹیکس یا لیوی عائد نہیں کر سکتی، دو سال سے پی ٹی وی اپنا بزنس پلان نہیں دے سکا۔ 110 پرائیویٹ چینلز کا کل بجٹ 38 ارب روپے ہے، اکیلے پی ٹی وی کیلئے 22 ارب روپے کیوں چاہئیں؟۔بعدازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کا معاملہ موخر کردیا ہے،پی ٹی آئی حکومت نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات ڈکلئیر کرکے تاریخ رقم کی ہے، وزیراعظم نے میڈیا کے بقایا جات ادا نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ وزارتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر میڈیا بقایاجات ادا کریں۔ ماضی میں حکومتوں نے پی ٹی وی میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کرکے اسے زمین بوس کر دیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے کچھ بنیادی اقدامات کئے تھے۔ تباہ شدہ ادارے کو پاؤں کھڑا کرنے کیلئے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے صارفین کے بجلی کے بلز میں شامل ٹی وی لائسنس کی فیس بڑھا کر 100روپے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آٹے کی قیمت زیادہ نہ ہو، گندم کی فراہمی بروقت اور اس کی ترسیل میں کوئی رکاوٹیں نہ ہو، طلب اور رسد میں فرق کو ختم کرنے کے لیے نجی اور حکومت ادارے درآمد کرسکتے ہیں۔ گندم ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کے لیے 4 لاکھ ٹن گندم کے آرڈر بھی ہوچکے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے کیش مینجمنٹ اینڈ ٹریجریز اینڈ سنگل اکاؤنٹ رولز 2009 کی منظوری دی ہے جس کے تحت تمام وزارتیں، ڈویژن اور شعبے کا ایک اکاؤنٹ ہوگا جس میں سے رقوم جاری کی جائیں گی۔ کابینہ نے انسداد منی لانڈرنگ سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کے لیے مجوزہ بل 2020 کی بھی منظوری دی جس کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت کی روک تھام کو موثر بنانا ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور کورٹ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں بھی مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ د و ہری شہریت رکھنے والے معاونین خصوصی اور مشیروں پر آئین او رقانون جو کہتا ہے اس پر عمل کریں گے۔ اگر آئین کہتا ہے کہ انہیں پبلک آفس ہولڈر نہیں ہونا چاہیے تو پھر انہیں علیحدہ کر دیں گے۔اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے ضروری اقدام اٹھائیں گے، بھاشا ڈیم پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ بہت پہلے کا منصوبہ تھا مگر ماضی کی حکومتیں کمیشن کے چکروں میں لگی رہیں اور اس پر کام شروع نہیں ہوا۔

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -