لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ختم کرنا پڑیگا: چیف جسٹس، فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 196افراد کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم معطل، سپریم کورٹ نے حکومت کو گاڑیاں خریدنے سے روکدیا

      لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ختم کرنا پڑیگا: چیف جسٹس، فوجی عدالتوں سے سزا ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کورونا ازخود نوٹس کیس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ڈی ایم اے کو معلوم ہی نہیں عدالت کے ساتھ کیسے چلنا ہے ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں این ڈی ایم اے کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوا۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین سے الحفیظ کے نام سے مشینری درآمد کی گئی، اس کے دستاویزات کہاں ہیں؟ گزشتہ 3 سماعتوں سے دستاویزات مانگے جا رہے ہیں، الحفیظ کیا ہے؟ کون ہے؟ مالک کون ہے؟ کچھ سامنے نہیں آیا، تین بار حکم دینے کے باوجود دستاویز کیوں نہیں دی گئیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ جو مشینری چائنا سے درآمد کی گئی اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ جہاز چارٹرڈ کرنے اور اس کی ادائیگیوں کی تفصیلات کہاں ہیں؟ اس پر ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایل سی کمپنی نے خریدی ہے اور کسٹم کو ڈیوٹی دی ہے، کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے امپورٹ نہیں کی۔نمائندہ این ڈی ایم اے کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا، اصل مسئلہ کسٹم اور دیگر قوانین پر عمل نا ہونا ہے، عدالتی احکامات کو سنجیدہ تک نہیں لیا، کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ہم یہاں وضاحت کیلئے نہیں بیٹھے، وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہٹادیں کیونکہ عدالتی احکامات کی تضحیک کی گئی، ایک ہی کمپنی کو کیسے رعایت دی گئی، ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کے ساتھ مذاق ہے، این ڈی ایم اے کو معلوم ہی نہیں عدالت کے ساتھ کیسے چلنا ہے، ایک کروڑ7 لاکھ 25 ہزار اس کو ادا کیے گئے جس کو دیے ہی نہیں جاسکتے تھے، کسٹم ڈیوٹی بھی کیش میں ادا کی گئی، چین میں جس کمپنی نے مال بھیجا ہوگا اس کو بھی کیش میں ادائیگی کی گئی ہوگی کیونکہ اس کا نام اس میں لکھا ہے، کوئی ضرور اس میں گڑبڑ کررہا ہے، سپریم کورٹ سے چھپایا جارہا ہے، این ڈی ایم اے نے ڈریپ کی اجازت سے باہرسے ویکسین درآمد کای، یہ کس نے درآمد کی، نہیں بتایا گیا۔عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ویکسین کی درآمد کے کاغذات کہاں ہیں؟ ویکسین کی تحویل میں لینے کا تمام ڈیٹا فراہم کرنا تھا، وہ ویکسین کہاں گئی؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے نے صرف 4 کاغذ لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ بھی مسترد کردی جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا ہے، این ڈی ایم اے کے ممبر ایڈمن کو خود کچھ معلوم نہیں، این ڈی ایم اے ٹڈی دل کیلئے جہاز اور مشینری منگوا رہا ہے، صرف زبانی نہیں دستاویزات سے شفافیت دکھانی پڑے گی، کراچی میں اتنا کیش کوئی کیسے دے سکتا ہے، لگتا ہے ہمارے ساتھ کسی نے بہت ہوشیاری اور چالاکی کی ہے، ویکسین اور ادویات کی امپورٹ کی دستاویز کہاں ہیں؟ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کورونا، سیلاب، ٹڈی دل اور سب کچھ این ڈی ایم اے کو سونپا گیا ہے، این ڈی ایم اے کو فری ہینڈ اوربھاری فنڈز دیے گئے تاکہ کورونا سے لڑا جاسکے، این ڈی ایم اے عدالت اور عوام کو جوابدہ ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا تماشہ چل رہا ہے، لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا، این ڈی ایم اے کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم کو سفارش کردیں؟ 3 بار نوٹس کرچکے، این ڈی ایم اے وضاحت کرنے میں ناکام رہا، کیا چیئرمین این ڈی ایم اے کو توہین عدالت کا نوٹس کردیں؟اس پر اٹارنی جنرل نیکہا کہ متعلقہ حکام کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا، این ڈی ایم اے کے لوگ عدالت میں موجود ہیں۔اٹارنی جنرل نے این ڈی ایم اے کا جمع کرایا گیا جواب واپس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ دستاویز سمیت جامع جواب جمع کرائیں گے۔عدالت نے ایس ای سی پی سے کمپنی کی تمام تفصیلات طلب کرلیں اور این ڈی ایم کا جواب ممبرایڈمن کو واپس دے دیا جب کہ عدالت نے این ڈی ایم اے سے تمام تفصیلات پر مبنی جامع جواب طلب کرلیا۔سپریم کورٹ نے پائلٹس کو جعلی لائسنس جاری کرنے کے معاملے پر افسران کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کیخلاف کارروائی فوری مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سول ایوی ایشن کے کمپیوٹر محفوظ نہیں، بھیانک جرم کرنے اور کرانے والے آرام سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا سول ایوی ایشن میں اصلاحات لا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا سول ایوی ایشن چلانا آپ کے بس کی بات نہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ایک وقت تھا ہالی ووڈ اداکار پی آئی اے میں سفر کرنا اعزاز سمجھتے تھے، آج حالت دیکھیں پی آئی اے کہاں کھڑا ہے، پی آئی اے میں بھرتیوں پر پابندی عائد کریں گے۔ عدالت نے 2 ہفتے میں کارروائی پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ پاکستان نے 196سزایافتہ مجرموں کی رہائی کا حکم معطل کردیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ان مجرموں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے وفاق کی درخواست پر سماعت کی ہے۔ سپریم کورٹ نے فریقین کونوٹسز جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مجرموں کے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے فوجی عدالتوں سے ٹرائل کے بعد مجرمان کوسزاہوئی، ہر کیس کے اپنے شواہد اورحقائق ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مجرمان رہائی کے فیصلے کے بعد جیلوں میں ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کا آگاہ کیا کہ مجرمان کو تاحال رہا نہیں کیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کومعطل کیا جائے۔ مجرموں کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت جمعہ کودوبارہ ہوگی۔خیال رہے کہ جون2020 میں پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں اور مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل بینچ نے300 سے زیادہ درخواستوں پر سماعت کی تھی۔ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر یہ تمام افراد کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے انھیں اپنا وکیل رکھنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے دستخط شدہ 426 صفحات پر مشتمل اس تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی کے رول 82، 83 اور 87 جنھیں رول 23 اور 24 کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے، میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں زیر سماعت ہو، اسے دفاع کے لیے وکیل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے دوران ملزمان کے وکیل کے بغیر ٹرائل کو شفاف نہیں سمجھا جا سکتا۔قبل ازیں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے 2019 میں بھی فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکومت پنجاب کو بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم استعمال کرنے سے روک دیا۔منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ پنجاب اور سندھ نے گزشتہ روز نئی گاڑیوں کی خریداری کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھیں۔ پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی خریداری کے لیے 468 ملین روپے مختص کرنے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس میں سے 29 ملین سے محکمہ زراعت کے لئے گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کتنی لگڑری گاڑیاں خرید رہی ہے؟ نہ ہی پنجاب حکومت نے بتایا نہیں کہ 500 ملین کی کون سی لگڑری گاڑیاں امپورٹ کی جائیں گی؟ ایمبولینس ہے، کچرا گاڑی ہے یا پراڈو؟ کچھ معلوم نہیں۔ چیف جسٹس نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈونرز سے قرض لے کر گاڑیاں خریدی جاتی ہیں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز تو جاری نہیں کررہے، پھر یہ گاڑیاں کیسے خریدی جارہی ہیں؟ بعدازاں عدالت نے پنجاب حکومت کو بجٹ میں گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم استعمال کرنے سے ہی روک دیا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -