خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے نیب کا ادارہ ختم ہو گیا:مسلم لیگ (ن)

  خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے سے نیب کا ادارہ ختم ہو ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ(ن) نے کہا ہے کہ خواجہ برادران کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد نیب ادارہ ختم ہوگیا، احتساب تماشے کا کھوکھلا پن عوام کے سامنے آگیا، ملک میں نیب کے ذریعے سیاسی انجینئرنگ کی کو شش کی جا رہی ہے، جہاں ناانصافی ہوگی وہ ملک نہیں چل سکتا،نیب ادارے کا کوئی قانونی جواز نہیں رہا، پارلیمنٹ کو احتساب کا نیا ادارہ بنانا چاہیے، قانون سازی کیلئے اپوزیشن اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق،خواجہ آصف اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر کہا کہ خواجہ برادران کیس میں عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے سپریم کورٹ نے فیصلے میں نیب کی حقیقت لکھی ہے۔سپریم کورٹ نے نیب کے بارے میں جولکھا وہ اس قدر حقیقت ہیں کہ حکومت اور نیب کو چاہیے کہ ادارے کو ختم کردیں نیب اپوزیشن کو پکڑتی ہے لیکن حکومت میں بیٹھے کرپٹ نظر نہیں آتے۔انہو ں نے کہا کہ نیب کے ہتھکنڈے ملکی مفاد میں نہیں ہیں، چیئرمین نیب کسی عدالت کے جج نہیں ہیں انسان میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے جب اعلیٰ عدلیہ ایک ادارے بارے اس طرح کی بات کرے تو پھر ادارے کا وجود نہیں رہتا۔ سعد رفیق کے لیے بڑا آسان تھا کہ وہ کہتے میں اسمبلی میں نہیں بولوں گا تقریریں نہیں کروں گا، لیکن سعد رفیق نے ان کی بات نہیں مانی انہو ں نے حق کو حق کہا اور آج سچ کا بول بالا ہو ا خواجہ سعد رفیق اعلیٰ عدلیہ میں گئے عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب کو نہیں بھولنا چاہیے کہ قانون نے جو اختیار دیا ہے اس کی حد کراس نہ کی جائے، ہمارے آئین میں جو انسانی حقوق ہیں، ان کو سبوتاژ کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے ایک شخص پر الزام نہیں لگا، لیکن اس کو پوری دنیا کے سامنے بدنام کیا جا رہا ہے؟جس ملک میں ناانصافی ہوگی وہ ملک نہیں چل سکتا۔ اس مو قع پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدلیہ میں فیصلے کا جو منظر کل دیکھنے کو ملا اس کیلئے ساڑھے تین سال سے انتظار کررہے تھے فیصلے کے تین حصے ہیں، ایک حصہ ہمارے کیس سے متعلق، دوسرا نیب اور پاکستان سے متعلق تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چور ڈاکو ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، ایک زور بندوں کا اور ایک اللہ کا ہے، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے جس آزاد عدلیہ کیلئے ہم نے جیلیں کاٹیں، وہاں سے انصاف میں تاخیر ہوئی نیب ادارے کا کوئی قانونی جواز نہیں، اس کو ختم کرکے ایسا ادارہ بنایا جانا چاہیے جو آئین و قانون کے تحت فیصلے کرے پارلیمنٹ کو احتساب کا نیا ادارہ بنانا چاہیے پارلیمنٹ اس حوالے سے قانون سازی کرے ہم اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔اس مو قع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اپنی جماعت کی جانب سے صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس کی تحویل میں لینے کی مذمت کرتا ہوں۔خواجہ آصف نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی درخواست ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ میں جانے والے اور انصاف کے طلب گار اس کیس کا حوالہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے موجودہ نظام کے خلاف جنگ میں جو مشکلات برداشت کیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی ایک چٹان کی طرح اپنے نظریے، قائد اور جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں یہ ایک ایسے عمل کا آغاز ہے جو اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ آنے والے وقت میں انصاف کا بول بالا ہوگا اور حکمران جب اپنی ذاتی انا اور اغراض و مقاصد کے لیے قانون اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں تو کسی نہ کسی دن انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت میڈیا جو کردار ادا کررہا ہے اور حکومت کے خلاف میڈیا میں جو آوازیں اٹھ رہی ہیں اور 2 سال میں کایا پلٹی ہے کہ ایسی ایسی آوازیں جو حکومت کی حمایت کرتی تھیں، آج وہ ان کے سب سے بڑے ناقد بن گئے ہیں مطیع اللہ جان نے میڈیا اور صحافت کی آزادی کے لیے پہلے بھی بات کی اور آج بھی بات کی اور میرا خیال ہے کہ آج بروز بدھ کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں ان کی پیشی بھی تھی ایسے موقع پر انہیں تحویل میں لینا، ان کی آواز کو، صحافت کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے جو ناکام ہوگی ہم بحیثیت پارٹی اسمبلی کے اندر اور باہر آزادی اظہار رائیکی حمایت کریں گے کہ اس ملک میں ہر شخص کو جو بھی ضابطہ اخلاق ہے اس کے مطابق تقریر و تحریر کی آزادی ہونی چاہیے۔ سابق وزیرداخلہ احسن اقبا ل نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں نیب کے ذریعے سیاسی انجینئرنگ کی کو شش کی جا رہی ہے سپریم کو رٹ کے فیصلے سے احتساب تماشے کا کھوکھلا پن عوام کے سامنے آگیا ہے ۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ اول -