نیب قانون کا خاتمہ نوشتہ دیوار، ہمارے ووٹ کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی: سعد رفیق

    نیب قانون کا خاتمہ نوشتہ دیوار، ہمارے ووٹ کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی: سعد ...

  

اسلام آباد(آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ موجودہ عدلیہ ماضی کی عدلیہ سے مختلف ہے، لوہے کے چنے والی بات عدلیہ کیلئے نہیں بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کیلئے کی تھی، تیرہویں بار جیل گیا لیکن میرے اندر بدلے کی آگ نہیں، عمران خان سیاسی مفاہمت کی فضا پیدا کریں، کھینچا تانی کی سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، نیب قانون کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہے،اینٹی کرپشن کا نیا ادارہ بنایا جائے۔ منگل کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مشرف کا دور بھی اتنا بدتر نہیں تھا جتنا موجودہ دور ہے۔ میں سیف الرحمان کے احتساب سیل کے بھی خلاف تھا بدقسمتی سے ملک میں احتساب کا عمل کبھی شفاف نہیں رہا۔ اسے سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ احتساب کے نام پر ہمیشہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا یا جاتا رہا ہے۔ 16ماہ کی جیل بھگت کر آ رہے ہیں،ہمارا کاروبار تباہ کر دیا گیا ہے۔ نیب قانون کے خاتمے کیلئے جتنی کوشش کی جانی چاہیے تھی اتنی نہیں کی گئی۔ اس قانون کے متعلق مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کو مل کر فیصلہ کرنا ہوگا،ہمارے ووٹ کے بغیر تحریک انصاف نیب قوانین کے متعلق کچھ نہیں کرسکتی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میری ضمانت پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے سے صرف نیب کو ہی نہیں ہم سب کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ کسی کے استعفیٰ سے بات نہیں بنے گی۔ مسئلہ قانون کا ہے اس لئے قانون تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ آج نہیں تو کل نیب کے اس قانون کو جانا ہی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا احتساب کا بیانیہ تباہ ہو چکا جبکہ ان کے ساتھی انہیں پیچھے ہٹنے سے روک رہے ہیں۔ این آر او کے طعنے عمران خان کو منزل سے دور لے جائیں گے۔ وہ کسی کو رعایت نہ دیں لیکن بات چیت ضرورہونی چاہیے، تاکہ نظام چلتا رہے۔

سعد رفیق

مزید :

صفحہ آخر -