مشاہد اللہ کاکھیلوں کو فروغ دینے کیلئے قانون سازی کا مشورہ

مشاہد اللہ کاکھیلوں کو فروغ دینے کیلئے قانون سازی کا مشورہ

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کھیلوں کو فروغ دینے کیلئے قانون سازی کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ کھیلوں کو کرکٹ کی طرح انڈسٹری بنانے کے ضرورت ہے،اگر آئی پی سی بین الصوبائی رابطے کرے تو حل نکل سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک چینل میں مسلسل کبڈی کبڈی دکھایا جاتا ہے،فیڈریشن اپنی جگہ موجود ہے تو ملک میں کھیل کیوں نہیں ہو رہے،میڈیا میں اب کھیلوں کے فروغ کے لیے کچھ نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہاکہ کھیلوں کی وجہ سے منفی پراپیگنڈوں پر کنٹرول کرنا بھی آسان ہوتا ہے،اگر لوگوں کے پاس کچھ دیکھنے کو نہیں۔

ہے۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ ہم لوگوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں،ہمیں آڈٹ نے روکا ہوا ہے ہم اس کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے،انہوں نے کہاکہ ہاکی فیڈریشن کو 15 ملین بھی دیں تو کم ہیں۔ مشاہد اللہ نے کہاکہ ہاکی والوں کو بھی کچھ کرنا چاہیے،ان کو با اثر کوئی سیاسی شخصیت ملاناہو گی جو ان کے ساتھ کوشش کرے،ہاکی بہت بڑا کھیل ہے کوئی مذاق نہیں ہے،سمیع اللہ جیسے کھلاڑیوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے۔ مشاہد اللہ خان نے کہاکہ اسکولوں اور کالجوں میں میوزک کانسرٹ کے بجائے فنڈ کھیلوں کے لیے دینے چاہئیں،یہ کام ہمارے ملک میں ہو چکے ایسا نہیں کہ میں کوئی انوکھی بات کر رہا ہوں،قانون سازی کریں تاکہ ان کھیلوں کو فروغ دیا جا سکے۔ حکام پی ایس بی نے کہاکہ پہلے 35 لاکھ ملتا تھا اب صرف 15 لاکھ روپے ملتے ہیں،فضائیہ کی جانب سے سکوائش کیلئے فنڈز دیئے جاتے ہیں۔ مرزا محمد آفریدی نے کہاکہ ہر سوال کا آخر میں یہی جواب ہوتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں،کرکٹ کے لیے پی سی بی کا بزنس پلان ہے،پی سی بی کیساتھ بیٹھ کر حکمت عملی تیار کریں معاملہ حل ہو جائے گا۔ سینیٹر محمد آفریدی نے کہاکہ پراؤیٹ کمپنیاں بلائیں تو ان کا سپانسر لیں کر کھیلوں کو فروغ دیں۔ مشاہد اللہ نے کہاکہ کھیلوں کو کرکٹ کی طرح انڈسٹری بنانے کے ضرورت ہے،پیٹرولیم کی اتنی بڑی کمپنیاں ہیں اتنا منافع کماتی ہیں۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ فیڈریشن کے ساتھ ملکر صوبے ملکر کام کریں تبھی معاملہ حل ہو سکتا ہے۔ سیکرٹری آئی پی سی نے کہاکہ صرف ہاکی فیڈریشن نے 45 کروڑ مانگہ ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہاکہ اگر آئی پی سی بین الصوبائی رابطے کرے تو حل نکل سکتا ہے۔ مرزا محمد آفریدی نے کہاکہ اگر کسی بھی بزنس پلان کا کسی سرمایہ کار کو بتائیں کو کو بتانا مشکل ہوگا۔ جنید ضیاء ہیڈ ڈومیسٹک پی سی بی کی بریفنگ کے دوران مشاہداللہ نے اعتراض اٹھا دیا اور کہاکہ حیرت کی بات ہے کہ چیئرمین پی سی بی اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتے،وسیم خان خود ایک دہری شہریت والا ہے،ان کو کمیٹی میں آکر بریفنگ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ یہ لوگ بہانے بازیاں کرتے ہیں جیسے سکولوں کے بچے کہتے ہیں۔ حکام پی سی بی کے مطابق ہم نے اطلاع دی تھی کہ احسان مانی ملک سے باہر ہیں۔مشاہد اللہ نے کہاکہ وہ انگلینڈ میں ایٹم بم بنا رہے ہیں بیٹھ کر؟گورا بلائے تو یہ وہاں بھاگ بھاگ کر جاتے ہیں،ائینی طور پر یہ حکام اس قابل نہیں کہ کمیٹی کو بریفنگ دیں۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک اپنے آپ کو انگریزوں کا غلام سمجھتے ہیں،پی سی بی حکام کو بریفنگ سے منع کر دیا گیا،قائمہ کمیٹی نے اجلاس احتجاجاً ملتوی کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ڈرتے ہیں اسی لیے بھاگتے ہیں،اپوزیشن کے سیاسی کارکنان کا احتساب ہوتا ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -