قومی اسمبلی، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کا ہنگامہ، نعرے، واک آؤٹ

قومی اسمبلی، بولنے کی اجازت نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کا ہنگامہ، نعرے، واک آؤٹ

  

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ہنگامہ،شورشرابہ،نعرے بازی،صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا پراپوزیشن کاعلامتی واک آوٹ،ڈپٹی سپیکرنے اپوزیشن کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ مجھے رولز نہ سمجھائیں روزانہ رولز پڑھ کر آتا ہوں،لسٹ سے ہٹ کر کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہوگی،جاوید لطیف کے بعد ڈپٹی سپیکر نے مراد سعید کو مائیک دیا تو اپوزیشن اراکین نے احتجاج اور ہلڑ بازی شروع کر دی،تاہم کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔گزشتہ روزقومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو نوید قمر نے کہا کہ پریس گیلری خالی ہے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو پولیس نے ریاستی دہشتگردی کرتے اٹھا لیا، یہ انفرادی شخص پر وار نہیں پورے پاکستان کے میڈیا کی ذبان بندی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، اسکی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی پیپلزپارٹی نے صحافی کی گمشدگی پر واک آؤٹ کا اعلان کر دیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ اسطرح لوگوں کو اٹھانے سے سچ دبایا نہیں جا سکتا، سچ کو اسطرح شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان کو کہا کہ آپ جائیں اپوزیشن کو واپس لیکر آئیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں شور شرابہ شروع کر دیا گیا،اپوزیشن کو بولنے کا موقعہ نہ دینے پر شازیہ مری اور دیگر اراکین کے احتجاج پر سپیکر نے کہاکہ سب کو باری پر موقع دوں گا۔پی پی ارکان اسمبلی نے کہا کہ قادر پٹیل کو موقع دیا جائے،جس پرڈپٹی سپیکر نے کہا کہ مجھے جو نام دیئے گئے ہیں اس میں قادر پٹیل کا نام نہیں ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ٹڈی دل کے حوالے سے وزیر زراعت بتائیں کیا حکمت عملی ہے اور بتایا جائے نقصانات کا ازالہ کیسے ہوگا۔میاں ریاض پیرزادہ نے کہا کہ ٹڈی دل سے جو نقصان ہوا ہے اس پر اس ایوان کو بریفننگ دی جائے،جتنا نقصان ہوا ہے اس بارے میں ابھی تک کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ ریاست مدینہ کی بات کی جاتی ہے جسکا پہلااصول انصاف تھاوہ انصاف جو سعد رفیق کے حق میں فیصلہ دیکر کیا،ریاست مدینہ کی بات بعد میں کریں جس کو موقع ملتا ہے وہ کراچی پر چڑھ دوڑتا ہے، حیرت ہے دنیا کے اتنے ارب پتے لوگ آکر پاکستان کا نظام چلارہے ہیں جن میں سے کچھ فرار ہوگئے، باقی کرونا کیوجہ سے رکے ہیں وہ بھی اطلاعات ہے چلے جائیں گے۔لاہور کی تصاویر میں بھی گاڑیاں سڑکوں پر تیر رہی ہیں،کے پی کے میں وزیر دفاع کے اپنے گاؤں کے سکول میں گدھا بندھا ہے اس کپتان نے پورے پاکستان کی معیشت گرا دی،راہول گاندھی انڈیا کی گانگریس میں مودی کو انڈیا کا عمران خان کہتا ہے۔ کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ سے حکومت چل رہی ہے،نیب نیازی گٹھ جوڑ نہ ہوتو یہ حکومت ایک دن نہیں چل سکتی۔ کوئی کراچی میں ڈھکن کے نامْ سے مشہور ہے تو کوئی پانی بیچنے والا مشہور ہے کچھ اے ٹی ایمز بھاگ چکی ہیں کچھ کرونا کی وجہ باہر جا نہیں پا رہے،ایک ڈاکو تھا جو خود کچھ نہیں رکھتا تھا اس کا سارا خرچ اس کے ساتھی ڈاکو اٹھاتے تھے یہاں بھی ایک ڈاکو مسلط ہے۔ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ یہاں ایسی مثالیں نہ دیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا۔مسلم لیگ کے میاں جاویدلطیف نے کہا کہ کل ایک فیصلہ آیا جس کے بعد کچھ معاملات دیکھنا پڑیں گے،جج ارشد ملک، جسٹس قیوم اور پانامہ کا معاملہ بھی دیکھنا ہوگا،کسی ایک شخصیت کو اتنا طاقتور کر دیں گے کہ وہ جنرل یحییٰ بن جائے،یہ ملک اور نظام کیسے چلے گا۔جب جنرل یحییٰ آئے تو ایوب خان کی کابینہ کے خلاف کیسز بنائے،جو کچھ ہوا آپ سب کو معلوم ہے،یہی حال یہاں دو سالوں سے نیب کے ذریعہ ہو رہا ہے۔جنرل یحییٰ مشرقی پاکستان کے خاف کھڑا ہو گیا،آج ہمارا چیف ایگزیکٹو سندھ کے خلاف کھڑا ہو گیا۔آج کا ہمارا چیف ایگزیکٹو اسی اسمبلی کو گالیاں دیتے تھا،چینی اسکینڈل،دوائیوں کا اسکینڈل،ڈالر اسکینڈل،اتنے اسکینڈلز کے باوجود اگر کوئی کہے کہ مجھے فرشتہ سمجھیں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔جاوید لطیف کے بعد ڈپٹی سپیکر نے مراد سعید کو مائیک دیا تومائیک مراد سعید کو دینے پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا اور ہلڑ بازی شروع کر دی،تاہم اس موقع پر پیپلز پارٹی رکن آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کی تو جس کے نتیجہ میں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعرات کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -