دعوتِ شیراز

دعوتِ شیراز
 دعوتِ شیراز

  

جس طرح شوگر کے مریضوں کے لئے زردے میں چینی کم اور کشمش و بادام کی بہتات ہوتی ہے اسی طرح حسین احمد شیرازی کی طنزو مزاح پر مشتمل تازہ کتاب ’دعوتِ شیراز‘میں طنزومزاح مناسب اور سنجیدہ اشعار، سیانوں کے اقوال اور جاوید اقبال کے کارٹونوں کی بھرمار ہے، اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں خوامخواہ لطیفے گھڑنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ قاری کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کہاں ہنسنا چاہتا ہے اور کہاں......!

ہماری گنتی پر اگر آپ کو اعتبار ہے تو پوری کتاب میں 114کارٹون، 164اشعار اور مصرے اور تقریباً اتنی ہی تعداد ان سیانوں کے اقوال کی ہوگی جس سے کتاب میں درج کم و بیش ہر مضمون کا آغاز کیا گیا ہے، کتاب کی خوبی یہ ہے کہ قاری کو پتہ نہیں چلنے دیا گیا کہ کتاب کارٹونوں، اشعار اور سیانوں کے اقوال کی تشریح کے لئے لکھی گئی ہے یا پھر یہ جملہ اسباب مصنف کے اعلیٰ تخیل کی وضاحت کے باب میں مہیا کیے گئے ہیں۔

شیرازی صاحب پکے سید ہیں اور سیدوں سے پھکڑ پن توقع تو یوں بھی نہیں کی جا سکتی اور ہمارے ساتھ ایک انٹرویو میں وہ اعتراف کر چکے ہیں کہ اپنے بچپن میں وہ زیادہ شرارتی نہیں تھے بلکہ ذہین تھے۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ایک ذہین آدمی کا طنزومزاح سے کیا لینا دینا، چنانچہ اگر دعوتِِ شیراز میں قارئین کو طنزومزاح کی کسک کے ساتھ ساتھ ایک مدبر و مفکر کی سوچ کی جھلک کا شائبہ بھی پڑے تو اس کا سبب وہی ہے جو ہم نے بیان کردیا ہے۔

کتاب پر ہمارا پہلا اعتراض یہ ہے کہ مزاح نگاری میں سنجیدہ شاعری کا بار بار استعمال بے محل لگنے لگتا ہے اور دوسرا یہ کہ کارٹونوں کو بچوں کی تفریح کا سامان مانا جاتا ہے، بڑوں کو اپنے تخیل کے گھوڑے دوڑانے کی کھلی چھٹی ہونی چاہئے کہ وہ کتاب پڑھتے ہوئے اس کے کرداروں اور مصنف کی اپنی من پسند تصویر گھڑلیں، لیکن جہاں وضاحتوں اور صراحتوں کا دفتر کھلا ملے وہاں طنزومزاح کا مزا کرکرا ہوجاتا ہے۔

حسین احمد شیرازی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ بیوروکریٹ رہ چکے ہیں اور اب بھی بابو ہی نظر آتے ہیں،وہ جتنا سلیقے سے قلم دان کو سنبھال کر رکھتے ہیں اسی قرینے سے قلم کو استعمال بھی کرتے ہیں۔ شیرازی صاحب ظاہر وباطن میں یکسواور یکساں نظرآتے ہیں۔تاہم مشاہدہ اورقلم میں ایسا تنوع اور کاٹ ہے کہ یکسانیت سے مبرا تحریریں لکھ لکھ کر مزاحیہ ادب میں رنگارنگی اور وسعت خیال کی بنیادوں کو وسیع کرتے جارہے ہیں۔

سید حسین احمد شیرازی نفیس، نستعلیق اور وعدے نبھانے والے ایک ایسے دریا دل انسان ہیں جنہوں نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل کرنے میں بطور کسٹم آفیسر ایک سچّے اور کھرے پاکستانی کا کردار نبھایا۔قلم کار برادری انہیں مزاح نگار کے طور سے جانتی ہے اور ان کی ضخیم تصنیف ”بابو نگر“ کے تذکرے ہرسو ہیں۔اس کتاب کے علاوہ کسٹم ایکسائز اور سیلز ٹیکس پر حسین شیرازی صاحب کی سات کتابیں ہیں جنہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اسلام آباد اور مقتدرہ قومی زبان نے شائع کیا جن پر وفاقی حکومت نے انہیں آٹھ لاکھ روپے کا کیش ایوارڈ بھی دیا۔ Customs case- Law of Pakistan-1998 ان کی شاہکار کاوش ہے۔ یہ سات جلدوں پر مشتمل بڑے سائز کے دس ہزار دو سو باسٹھ (10,262) صفحات پر محیط ہے۔ شیرازی صاحب کی ایک اور کتاب Sales tax case, law of Pakistan-2001 ہے۔ یہ اتنے بڑے کام ہیں کہ باقی کام چھوٹے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

شیرازی صاحب کالم نگار بھی ہیں اور وکیل بھی، وہ سرکاری ملازمت میں جانے سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے تھے اور آج کل ہائی کورٹوں میں وکالت کرتے ہیں۔ وہ 2006ء میں ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے لارج ٹیکس پیئرز یونٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو لاہور سے ریٹائر ہوئے۔ وہ 1975ء میں جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو ان دنوں شیرازی صاحب چکلالہ ایئرپورٹ پر اسسٹنٹ کسٹم کلکٹر تھے۔ کہوٹہ ایٹمی پروجیکٹ کا ضروری سامان دنیا بھر سے ان کی موجودگی میں آتا رہا۔ وہ اس بہت بڑے قومی اثاثے کے رازداں ہیں اور انہوں نے ہمیشہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کئے رکھی مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایک تقریب میں انکشاف کر کے حسین شیرازی کو قوم کی نظروں میں بہت بلند کر دیا ہے۔ سچّی بات ہے ایسے لوگ گھروں کے کمروں میں بنی کارنس کے پیالوں میں رکھ کے بھول جانے کیلئے نہیں ہوتے، انہیں آنکھوں میں بھر لینا چاہئے۔

ان کی تحریریں شائستہ، ذہین اور بشاش ظرافت کی اُس سطح کی نمائندگی کرتی ہیں جس سے کسی قوم کی تہذیبی سطح کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں اگر رواروی میں پڑھیں تو ''کامیڈی'' معلوم ہوتی ہے اور سوچ کر پڑھیں تو ''ٹریجڈی'' محسوس ہوتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -