ایبٹ آباد،پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے پر زمین تنگ

  ایبٹ آباد،پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے پر زمین تنگ

  

ایبٹ آباد (نامہ نگار)آلائی تھانہ بنہ پولیس نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے پر زمین تنگ کردی،ڈی آئی جی کو تحریری درخواست دینے اور جاری ہدایات پر عمل نہ کرنے والے افسران کی ملی بھگت سے لڑکی کے لواحقین نے دولہا کے قریبی عزیزوں کے10سے زاہد گھروں کو جلا کر راکھ کردیا 5کروڑ سے زاہد مالیت کا نقصان،گھروں سے قیمتی سامان بھی اٹھا کر لے گئے،نوبیاہتا جوڑے نیانصاف اور تحفظ کی اپیل کردی،تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد پریس کلب میں آلائی پاشتو جھنگڑی جبڑو کے رہائشی عبدالواحد ولد حکیم داد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس کی منگیتر بی بی امینہ نے اس کے ساتھ 13جون 2020کو بخوشی عدالت میں کورٹ میرج کی جب کہ لڑکی کے بھائی اس کی دوسری جگہ شادی پر بضد تھے،نکاح کے بعد اس کے سسرال نے ان کی زندگی اجیرن کردی سنگین نتائج کی دھمکیوں کے علاوہ منڈارہ اور جبڑہ کے مقام پر ان کے 10گھرون کو نذر آتش کیا اور گھر وں میں موجود قرآن کریم کے نسخے،درس نظامی کی کتب بھی جل گئیں اور قیمتی سامان گاڑیوں کے زریعے اٹھا کر لے گئے،متاثرہ شخص کا کہنا تھا تھانہ بنہ میں ان کے ظلم پر رپورٹ درج کرانے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا،ڈی ایس پی غلام محمد کی ایماء پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا،انہوں نے بتایا کہ وہ علاقہ بدر ہو چکے ہیں اور ان کی جان کو شدید حطرات لاحق ہیں،پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کے بھائی عبدالقیوم کا کہنا تھا اس کے بھائی کی منگنی پہلے سے طے تھی،لیکن لڑکی کے ورثاء نے اس کی شادی بائر کرنے کا فیصلہ کیا جس پر بی بی آمینہ نے اپنی خوشی اور بغیر کسی دباؤ کے اس کے بھائی سے شادی کی،اب ان کے والدین،بھائی اور خاندان کے دیگر افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور پولیس کو درخواستیں دینے پر بھی کوئی تحفظ نہیں ملا،انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او بٹگرام کو بھی تحریری درخواستیں دیں جس پر ڈی آئی جی ہزارہ نے انکوائری کے احکامات دئیے ہیں تاہم پولیس کا زرہ بھر تعاون اور تحفظ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ لڑکی کے عدالت میں بیان ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود لڑکے اور لڑکی کی زندگیوں کو خطرہ ہے،انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم،وزیر اعلی خیبر پختون خوا سے فوری تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -