پاکستان فلور ملز کے گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ کا فلور ملوں کا دورہ

پاکستان فلور ملز کے گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ کا فلور ملوں کا دورہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ کا ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اقبال اور ایگزیکٹو باڈی ممبران کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے تمام ڈویژن کی فلور ملوں کا دورہ جب تک پنجاب کی پالیسی کے مطابق گندم کوٹہ کا اجراء نہیں ہوتا کوئی فلور ملز گندم کوٹہ نہیں اٹھائے گی۔ گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ و چیئرمین محمد اقبال پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواپاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ کی قیادت میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اقبال خان اور ایسوسی ایشن کے تمام ایگزیکٹو ممبران کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے تمام ڈویژن کا دورہ کیا اور خیبر پختونخوا کی تمام فلور ملوں کو گندم کے کوٹہ میں حائل رکاوٹوں اور ان کی موجودہ مشکلات سے آگاہی حاصل کی۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے گروپ لیڈر محمد نعیم بٹ نے اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے تمام ڈیژن کے دورے کی ابتداء پشاور میں نیو احمد فلور ملز سے کی۔ بعد ازاں وہ چارسدہ میں نیو کامران فلور ملز‘ نوشہرہ میں درویش فلور ملز کا دورہ کیا جبکہ دوسرے مرحلے میں انہوں نے مردان‘ صوابی اور ملاکنڈ ڈویژن کی فلور ملوں کے مالکان سے مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ تیسرے مرحلے میں انہوں نے کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں کوہاٹ‘ ہنگو‘ کرک‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بنوں‘ لکی مروت‘ ٹانک‘ شمالی وزیرستان‘ جنوبی وزیرستان اور وانا کے تمام فلور ملز مالکان سے جاوید فلور ملز کوہاٹ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اس دورے کا مقصد خیبر پختونخوا کی تمام فلور ملوں کو گندم کوٹہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبرپختونخوا کے لئے بھی اسی طرز کی پالیسی بنانے پر مشاورت کرنا ہے۔ محمد نعیم بٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم ا اجراء پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق کیا جائے اور گندم کا ریٹ اور ریشو پنجاب کے مطابق ہونا چاہئے۔انہوں نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم گندم کا کوٹہ نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں گندم کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ 100 کلو فی بوری 5600 میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی لئے آٹے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بردانے کی اضافی قیمت کا خاتمہ کیا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -