مہمند، ماربل سے بھر ے سینکڑوں ٹرکوں کو چیک پوسٹوں پر روک لیا گیا

مہمند، ماربل سے بھر ے سینکڑوں ٹرکوں کو چیک پوسٹوں پر روک لیا گیا

  

مہمند(نمائندہ پاکستان)مہمند، اوور لوڈنگ پابندی،ماربل سے بھرے سینکڑوں گاڑیاں چیک پوسٹوں پر روک لی گئی۔حلیمزئی میں مہمند ٹرانسپورٹ یونین کا اختجاج درجنوں گاڑیاں روڈ پر کھڑی کرکے دھرنا دے دیا۔ ماربل پہاڑوں میں جدید مشینری نہیں بلاسٹنگ کا ماربل ہماری مجبوری ہے۔ پابندی سے ہزاروں خاندان فاقہ کشی کا شکار ہوجائینگے۔ ٹرانسپورٹ یونین رہنماؤں کا خطاب۔ تفصیلات کے مطابق قبائیلی ضلع مہمند میں گزشتہ تین روز سے حکومت نے ماربل لانے والی گاڑیوں کی اوور لوڈنگ اور باڈی سے باہر ماربل لانے پر پابندی عائد کرکے چیک پوسٹوں پر ماربل سے لدی سینکڑوں گاڑیاں روک رکھی ہے۔ جس کے رد عمل میں مہمند ماربل ٹرانسپورٹ یونین نے منگل کے روز سے تحصیل حلیمزئی تاروخیل شانی خیل میں اختجاجی دھرنا اور اختجاج شروع کردیا ہے۔ ڈرائیورز، کنڈیکٹرز اور گاڑی مالکان پر مشتمل مظاہرین نے غیبہ فرش سے دورباخیل تک سینکڑوں گاڑیا ں روڈ کے کناروں کھڑی کی ہے۔ اختجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مہمند ماربل ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی سیول خان، جنرل سیکرٹری ناصرشاہ، ٹرانسپورٹ یونین کے صوبائی صدر کے نمائندے قاری عارف اللہ، حاجی زیت اللہ خان، پی ٹی آئی مہمند جنرل سیکرٹری تاجبر خان اور دیگر نے کہا کہ ایک ظرف ضلع مہمند میں مسائل اور بے روزگاری کا راج ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے معدنیات بالخصوص ماربل صنعت اور ٹرانسپورٹیشن پر نت نئے پابندیاں لگانا شروع کردیا ہے۔ جس سے ضلع مہمند کے واحد روزگار بھی بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین روز پہلے ضلعی انتظامیہ نے ماربل ٹرکس پر اوور لوڈنگ اور گاڑی کے باڈی سے باہر ماربل پر پابندی کا آغاز کردیا ہے۔ اور ضلع مہمند کے مختلف چیک پوسٹوں پر چھ سو کے لگ بھگ ماربل سے لدی گاڑیاں روک رکھی ہے۔ مہمند پولیس کے اہلکار ڈرائیوراور کنڈیکٹروں پر تشدد کررہے ہیں۔ جس کے رد عمل میں ماربل ٹرانسپورٹ یونین اختجاج پر مجبور کردیا گیا۔ ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے کہا کی ہم نے ڈپٹی کمشنر ضلع مہمند، ایم این اے مہمند، کمانڈنٹ مہمند رائفلز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ضلع مہمند کو اپنے مسئلے سے آگاہ کردیا ہے۔ مگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ جس سے ماربل سے لدی گاڑیاں مسلسل کھڑی رہنے سے مالکان کو ماہانہ اقساط ادائیگی کے علاوہ بھاری گاڑیوں میں تکنیکی خرابی کے نقصانات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمند کے ماربل پہاڑوں میں کٹنگ کی جدید مشینریاں نہیں اور سار مال بلاسٹنگ کے ذریعے نکالنا پڑتاہے۔ جو بلاک کی شکل میں نہیں بلکہ کھردری ہوتے ہیں اور ٹرکس پر باڈیاں نہ ہونے کی وجہ سے ماربل کھلا لانا پڑتا ہے۔ اس نئے پابندی سے ضلع مہمند کے تقریبا ایک ہزار ٹرکس کھڑی ہوکر کر ہزاروں خاندان کے روزگار کا وسیلہ ختم ہوجائیگا۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -