عوامی نیشنل پارٹی کا کورونا ویڈیو اشتہارات کی انکوائر ی کامطالبہ

عوامی نیشنل پارٹی کا کورونا ویڈیو اشتہارات کی انکوائر ی کامطالبہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وبا کے دوران ویڈیو اشتہارات کی مد میں حکمران جماعت کے اراکین کو نوازنے کی انکوائری کی جائے کیونکہ وبائی حالات میں پی ٹی آئی نے اپنے چہیتوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اے این پی خیبرپختونخوا کی انفارمیشن کمیٹی اراکن نے صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور کی سربراہی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نجی اللہ خٹک پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت میں سوشل میڈیا انچارج تھا جبکہ انکے ذریعے اب انہی کی کمپنی اور طاہر خان (وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی) کی کمپنی کو کروڑوں کے اشتہارات دیے گئے۔ صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ ان اشتہارات کیلئے کسی بھی سٹیئرنگ کمیٹی سے اجازت تک نہیں لی گئی جبکہ یہ تمام لین دین شہاب نامی شخص کے ذریعے ہوئی جو کسی بھی عہدے کے بغیر مختلف اجلاسوں کا بھی حصہ رہتے ہیں۔ حکومت اس سکینڈل کا غیرجانبدارانہ انکوائری کرے اور حقائق عوام کے سامنے لائے۔ انکا کہنا تھا کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت بجلی کا خالص منافع حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ مشترکہ مفادات کونسل میں چپ بیٹھا رہا اور اپنا کیس وہاں بھی ہار چکا ہے۔ کمیٹی کے رکن اور اے این پی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری تیمورباز کاکہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنا دراصل اپنی شکست تسلیم کرنا ہے اور یہ حکومت اپنے ہی بلدیاتی انتخابات کے قانون 2013ء کی خلاف ورزی کررہی ہے جس کے مطابق 90دن کے اندر انتخابات کرانا ضروری تھا۔ اگست 2019ء میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن اب حکومت مزید دو سال کیلئے انتخابات کو موخر کرانا چاہتی ہے۔ کمیٹی کے رکن حامد طوفان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ سیاستدانوں اور دوہری شہریت رکھنے والے مشیروں کو ذریعے ملک کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ ثمرہارون بلور کا کہنا تھا کہ نصابی کتب کی تقسیم کے 1.76ارب روپے کا سکینڈل منظر عام پر آچکا ہے جسکے لئے فوری طور پر غیرجانبدار کمیٹی بنائی جائے اور دو ہفتے کے اندر اس سکینڈل میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے۔ کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اے این پی کی صوبائی ترجمان کا کہنا تھاکہ صوبہ بھر میں کیسز کی تعداد کی کمی کا دعویٰ کرنے والے دراصل عوام کو بتانہیں سکتے کہ ٹیسٹنگ کی تعداد کو کم کردیا گیا ہے۔ دور دراز علاقوں میں اب بھی ٹیسٹنگ کی سہولت دستیاب نہیں جبکہ پرائیویٹ لیبارٹریاں لوگوں کو لوٹ رہی ہیں۔رکن خیبرپختونخوا اسمبلی اور انفارمیشن کمیٹی کے رکن صلاح الدین مومند نے یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ 18ویں آئینی ترمیم کی خلاف ورزی ہے، موجودہ حکومت اس ترمیم کے خلاف سازش کررہی ہے جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -