جلوزئی اکنامک زون کا منصوبہ علاقہ کی ترقی کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا: محمود خان

جلوزئی اکنامک زون کا منصوبہ علاقہ کی ترقی کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا: ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تمام منصوبوں کی تین مہینوں کے اندر اندر متعلقہ فورمز سے باضابطہ منظور ی کو یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ وزراء اس سلسلے میں اپنے محکموں کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔ ٹھیک ایک مہینے بعد وہ خود اس سلسلے میں تمام محکموں کی انفرادی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے تمام کابینہ ممبران کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے محکموں کی دو سالہ کارکردگی کے بارے میں میڈیا کے توسط سے عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کریں۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں تمام محکموں کے لئے پریس کانفرنس کا شیڈول جاری کرے۔ انہوں نے کابینہ ممبران کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اسمبلی اجلاس میں اپنی بھر پورحاضریوں کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ یہ ہدایات انہوں نے منگل کے رو زمنعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ کابینہ ممبران کے علاوہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادراور متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ گندم کی خریداری کا مقررہ ہدف حاصل نہ کرنے پر وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو اس کی وجوہات کے بارے میں کابینہ کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں فوڈ سیکیورٹی کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو آنے والے دنوں میں صوبے کو گندم کی پیداوار میں خود کفیل بنانے اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے جامع پلان مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو پشاور میں ٹریفک منیجمنٹ پلان کے علاوہ ٹریفک ریگولیٹری پولیس، فارسٹ گارڈزاور منرل گارڈز بھرتی کرنے پر ؎ بھی ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی۔ دریں اثناء کابینہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کے فلور ملوں کو رعایتی نرخوں پر گندم کی فراہمی کی منظوری دیدی ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کے 20کلو تھیلے کی قیمت 860روپے مقرر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے تعمیراتی شعبے کے لئے ریلیف پیکج کی منظور ی دیدی، جس کے تحت لوکل کونسلز کے سٹامپ ڈیوٹی اور میوٹیشن فیس میں چھوٹ دی جائے گی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں تعمیراتی شعبے کو مجموعی طور پر چار ارب روپے کا ریلیف مل جائیگا۔ کابینہ نے صوبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بل کے مسودے کی بھی منظوری دیدی۔ نئے بل کے مسودے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے پیچیدہ مرحلوں کو آسان اور سہل بنا دیاگیاہے۔ کامران بنگش نے مزید بتایا کہ کابینہ نے کورونا صورتحال کے پیش نظر سیاحت کے شعبے کی بندش کیوجہ سے اس سے جڑے متاثرہ شعبوں کو ریلیف دینے کے لئے رجسٹرڈ ہوٹلز، ریسٹورنٹس، ٹور آپریٹرزاور ٹریول ایجنٹس کو رجسٹریشن اور لائسنس کی تجدیدی فیس میں ایک سال کی رعایت دی ہے۔ اسی طرح کابینہ نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو محکمہ سیاحت کے حوالے کرنے کے فیصلے کی بھی توثیق کردی۔ اسی طرح کابینہ نے موٹر وہیکل رولز 1969میں بعض ترامیم کی بھی منظوری دیدی، جن کے تحت تین پہیوں والے موٹر سائیکل رکشوں (چنگ چی)کو مخصوص شرائط کے تحت مخصوص روڈز پر چلنے کی اجازت ہوگی۔ کابینہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے قومی سطح پر یکساں نصاب تعلیم تیارکرنے کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم کو اختیار دیدیا کہ وہ اس سلسلے میں قومی سطح پر ہونے والے اجلاس میں صوبائی حکومت کا موقف پیش کریں۔ اسی طرح کابینہ نے ہر قسم کی نصابی کتب میں حضرت محمد ﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین کا لفظ تحریر کرنے کو لازمی قرار دیا۔ یاد رہے صوبائی اسمبلی اس سلسلے میں ایک قرار داد منظور کر چکی ہے۔ مشیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کے لئے قائم ڈسٹرکٹ سکروٹنی اینڈ کلیئرنس کمیٹی کا نوٹیفیکیشن واپس لینے کی منظور ی دیدی تاکہ ان علاقوں کے منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ علاوہ ازیں کابینہ نے نوادرات ایکٹ 2016میں چند ترامیم کی بھی منظوری دیدی جسکا مقصد بین الاقوامی آرکیالوجسٹ کو صوبے کی طرف راغب کرنا اور ان کے علوم و تجربات سے استفادہ کرنا ہے، اس فیصلے سے صوبے میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اسی طرح کابینہ نے سابق مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کے لئے قائم انکوائری کمیشن کی توثیق کردی۔کابینہ نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے فیصلے کی روشنی میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ عیدالاضحی کے بعد حالات کو دیکھتے ہوئے اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔ کابینہ نے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے لئے بطور ممبر محمد صدیق، ذاہد ادریس، محفوظ الرحمن، عامر منیر، محمد شعیب اور ایمل زمان کے ناموں کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح کابینہ نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ پشاور کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے لئے پروفیسر ڈاکٹرمحمد عارف جبکہ ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور چیئرمین کے لئے رشید خان کے ناموں کی منظوری دی ہے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جلوزئی اکنامک زون کا باقاعدہ افتتاح کردیا جہاں حکومت نے257 ایکڑ اراضی پر محیط اس اکنامک زون میں آٹھ ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری کی امید ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے یہ ایک گیم چیلنجر ثابت ہوگا جس سے روزگار کے بلواسطہ اور بلا واسطہ 50ہزار نئے مواقع پیدا ہونگے۔ان خیالات کا اظہار سی ای او خیبر پختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی جاوید خٹک نے سنو ایف ایم ریڈیو نیٹ ورک پشاور کے پروگرام "ستاسو آواز"میں جلوزئی اقتصادی زون کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کے قریب ہونے،انجینئرنگ یونیورسٹی اور نئی ہاؤسنگ سکیموں سے مستقل ہونے کی وجہ سے یہ اکنامک زون خصوصی اہمیت کا حامل ہے جو دواسازی، فروٹ پراسسنگ، اسلحہ سازی، فوڈ پیکجنگ، فرنیچر، کنسٹرکشن، ماربل، گرینائٹ اور دیگر صنعتوں کے لئے انتہائی موزوں ہے۔اب تک اس نئے اکنامک زون میں مختلف قسم کی نئی صنعتیں لگانے کے لئے چارسو کے قریب درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔منصوبے کا افتتاح صوبے میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے موجودہ صوبائی حکومت کی موثر کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس اکنامک زون میں صنعتیں لگانے کے لئے سرمایہ کاروں کی طرف سے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ صوبائی حکومت کی طرف سے باعث اطمینان اور حوصلہ افزا ء امر ہے۔صوبے میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لئے صوبائی حکومت ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہی ہے اور عنقریب اس طرح کے مزید اکنامک زونز کا بھی افتتاح کیا جائیگا۔جن میں چترال، ڈی آئی خان، حطار اور دیگر شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک منصوبے کے تحت صوبے کے فلیگ شپ پروجیکٹ رشکئی اکنامک زون کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے اور عنقریب وزیراعظم پاکستان خود قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے کا افتتاح کریں گے جو پورے صوبے کی تقدیر کو بدل کر رکھ دے گا۔جاوید خٹک کا کہنا تھا کہ صنعت، ہاؤسنگ، پن بجلی اور تعمیرات کے شعبوں کا فروغ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ان شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -