پی ایم ایل این، یو اے ای کے صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ فیصلہ میں تاخیر سے لیگی کارکن مخمصہ کا شکار

پی ایم ایل این، یو اے ای کے صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ فیصلہ میں تاخیر سے لیگی ...
پی ایم ایل این، یو اے ای کے صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ فیصلہ میں تاخیر سے لیگی کارکن مخمصہ کا شکار

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) پاکستان مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کے سابقہ صدر چودھری محمد الطاف اور سابقہ چیئرمین شیخ محمد عارف کے یکے بعد دیگرے انتقال کے بعد صدر اور چیئرمین کے دونوں عہدے خالی ہوگئے۔ ان دونوں عہدوں کو پر کرنے کے لئے لیگی کارکنوں نے اپنے اپنے پسندیدہ امیدوار آگے لانے کی کوشش شروع کردی تو پی ایم ایل این کی لندن میں بیٹھی اعلیٰ قیادت نے کہا کہ متذکرہ عہدوں کا انتخاب متذکرہ دونوں صاحبان کے چالیسویں کے بعد کیا جائے گا۔ اب چالیسواں بھی گزرچکا لیکن تاحال اعلیٰ قیادت کی طرف سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ تاخیر کی وجہ سے امارات میں مقیم لیگی کارکن مخمصہ کا شکار ہیں اور سوشل میڈیا پر سارا دن بحث کرتے نظر آتے ہیں، کئی گروپ بن گئے ہیں جو سارا دن اپنے پسندیدہ امیدواروں کی مارکیٹنگ کرتے رہتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کا اتحاد اس وقت تک مضبوط رہا جب تک چودھری نورالحسن تنویر یہاں موجود رہے۔ انہوں نے کسی نہ کسی طور پر سب کو مسلم لیگ ن کی چھتری تلے جمع کیے رکھا اور بہت سے گرانقدر کام بھی سرانجام دئیے جن میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے قیام، اوورسیز پاکستانیز ایڈوائزری کونسل کا قیام، عوامی مسائل کے حل کے لیے مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کو ایک پلیٹ فارم پر لے کر آنا شامل ہے۔

چودھری نورالحسن تنویر کی موجودگی میں اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک، او پی سی کے افضال بھٹی، کیپٹن خالد شاہین بٹ اور دیگر اعلیٰ افسران کو یہاں بلایا گیا اور عوام الناس کے روبرو عوامی مسائل پیش کئے گئے اور بہت سے مسائل کا حل بھی ہوا۔ متذکرہ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ بھی متعدد سیاسی و سماجی گروپ بھی ان کے زیر قیادت کام کرتے رہے۔ پاکستان کے ہر قومی دن کے موقعوں پر بڑے بڑے پروگرام بھی ہوئے جن کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔

چودھری نورالحسن تنویر کے یہاں سے جانے کے بعد چودھری محمد الطاف نے بھی معاملات کو بطریق احسن سنبھالا لیکن ا ب معاملات سنبھلتے نہیں سنبھل رہے۔ لیگی کارکن سارا سارا دن سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں بحث و مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اکثر اوقات بحث و مباحثہ کے دوران بات سخت ڈائیلاگز اور جھگڑے کی نوبت تک پہنچ جاتی ہے۔ پی ایم ایل این متعدد گروپس کا شکار ہوگئی ہے جس سے پی ایم ایل این کا امارات میں اتحاد پارہ پارہ ہوتا نظر آرہا ہے جو قابل تشویش ہے۔ ہر کوئی اپنے پسندیدہ امیدوار کی تعریف کے قلابے ملا رہا ہے صدارت اور چیئرمین کے ہر امیدوار کو کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بیرونی مداخلت کا روں کی وجہ سے پی ایم ایل این امارات کا ماحول خراب ہورہا ہے اور جوں جوں متذکرہ دونوں عہدوں کے انتخاب میں تاخیر ہورہی ہے لیگی کارکن مایوس ہورہے ہیں اور ان کا آپسی ماحول خراب ہورہا ہے۔

پی ایم ایل این کے ارکان و عہدیداران کی سیاسی چپقلش مقامی سطح تک رہتی تو اچھا تھا لیکن بیرونی مداخلت سے حالات مزید خراب ہورہے ہیں۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ پی ایم ایل این کی ایک قد آور شخصیت کا فرزد ارجمند بھی پی ایم ایل این کی مقامی سیاست میں بھرپور حصہ لے رہا ہے جس کی وجہ سے پی ایم ایل این کے کارکنان میں آپسی خلیج بڑھتی جارہی ہے جس کا نقصان بہر طور پی ایم ایل این کے اتحاد کو پہنچ رہا ہے اور کارکن بد دل و مایوس ہورہے ہیں۔ اس وقت عہدہ صدارت کے لئے تین سے زائد امیدواران میدان عمل میں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ صدارت کا تارج کس کے سر سجتا ہے۔

اگر اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا تو نتائج کچھ اور ہوں گے اور اگر فیصلہ ذاتی پسند یا ناپسند پر کیا گیا تو نتائج یکسر مختلف ہوں گے۔ بہت سے مسلم لیگی کارکنوں سے میری بات ہوئی اور ان کا کہنا ہے کہ ہر لحاظ سے قابل قبول شخص کو ہی صدارت کے عہدے پر فائز کیا جائے۔ اس سلسلہ میں پی ایم ایل این کی اعلیٰ قیادت پر یہ دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی پسند یا ناپسند کو پس پشت ڈال کر صحیح معنوں میں حقدار شخص کو صدارت کے عہدہ پر فائز کریں تاکہ امارات میں پی ایم ایل این کو درپیش موجودہ بحران ختم ہو اور پارٹی کا اتحاد بکھرنے سے بچ جائے۔

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -