صحتیابی کے بعد سعودی بادشاہ نے سب سے پہلے کون سا سرکاری کام کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

صحتیابی کے بعد سعودی بادشاہ نے سب سے پہلے کون سا سرکاری کام کیا؟ تفصیلات ...
صحتیابی کے بعد سعودی بادشاہ نے سب سے پہلے کون سا سرکاری کام کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحتیابی کے بعد ان کی پہلی سرکاری مصروفیت سامنے آگئی۔ خادم الحرمین الشریفین نے  سعودی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی صدارت  کابینہ کا ورچوئل اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کورونا کی وبا کی روک تھام کیلئے اٹھائے گئے اقدامات، فریضہ حج کی تیاریوں، حج کے موقع پر حجاج کرام کی صحت کی حفاظت کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

84سالہ شاہ سلمان کو مثانے میں تکلیف کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیاگیا۔ برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسے تین ذرائع نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ بادشاہ کی طبیعت اب مستحکم ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی ویڈیو میں بادشاہ کو ایک ڈیسک کےپیچھے موجود دیکھا جاسکتا ہے۔

العربیہ کے مطابق دوران اجلاس کابینہ کو حج کے موقعے پر امن وامان کے قیام، حجاج کرام کی سلامتی، مناسک حج کی ادائی میں دی جانے والی سہولیات اور حجاج کرام کی خدمت کے لیے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور اعلانات پرعمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق کابینہ کے رکن اور وزیر مملکت ڈاکٹر عصام بن سعد بن سعید نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں "جی 20" اجلاس کی سعودی عرب کی میزبانی کے سلسلے میں تیاریوں کا جایزہ لیا گیا۔ انہوں‌ نے بتایا کہ اجلاس میں "جی 20" اجلاس کے مملکت کی میزبانی میں انعقاد اور اس کی تجارتی اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

اجلاس میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور حوثیوں‌ کی طرف سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اور بمبار ڈرون طیاروں سے حملوں پر بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ڈاکٹر عصام بن سعید نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں لیبیا میں جاری لڑائی اور جنگ بندی کی کوششوں پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس میں سعودی عرب کے کردار اور ذمہ داریوں پربھی بات چیت کی گئی۔

مزید :

بین الاقوامی -عرب دنیا -