وہ ملک جہاں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں لیکن پھر وہ ویکسین کیوں بنا رہاہے؟

وہ ملک جہاں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں لیکن پھر وہ ویکسین کیوں بنا رہاہے؟
وہ ملک جہاں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں لیکن پھر وہ ویکسین کیوں بنا رہاہے؟

  

پیانگ یانگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں کورونا وائرس موجود نہیں ہے تاہم اس کے باوجود وہ اس موذی مرض کی ویکسین تیار کررہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا دعویٰ ہے کہ ان کے  ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کا سلسلہ جاری ہے اوراس ویکسین کو انسانوں پر آزمانے پر غور کیاجارہاہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تجزیہ کاروں نے وائرس نہ ہونے کے باوجود ویکسین تیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان شاید اپنے عوام اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

البتہ بعض ناقدین شمالی کوریا کی جانب سے ویکسین کی تیاری کے اعلان کو پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں۔

رواں سال کے آغاز میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کرونا کی عالمی وبا سے اب تک دنیا میں ایک کروڑ 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ چھ لاکھ اموات ہوچکی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جیسے ملک میں جس کا صحتِ عامہ کا نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے، کسی کامیاب ویکسین بننے کے امکانات  کم ہیں۔

 خیال رہے کہ  ڈھائی کروڑ آبادی والے شمالی کوریا میں جولائی کے آغاز تک کرونا کی تشخیص کے صرف 922 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -