’ابھی ویڈیو بنا کر سب کو یہ والی فلم دیکھنے کا کہو‘ 13 افراد کو یرغمال بنانے والے شخص کا یوکرین صدر سے انوکھا مطالبہ، ویڈیو بنانے پر سرنڈر کردیا

’ابھی ویڈیو بنا کر سب کو یہ والی فلم دیکھنے کا کہو‘ 13 افراد کو یرغمال بنانے ...
’ابھی ویڈیو بنا کر سب کو یہ والی فلم دیکھنے کا کہو‘ 13 افراد کو یرغمال بنانے والے شخص کا یوکرین صدر سے انوکھا مطالبہ، ویڈیو بنانے پر سرنڈر کردیا

  

کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن گاہے احتجاج وغیرہ تو کرتے رہتے ہیں لیکن گزشتہ روز یوکرین میں ایک کارکن نے ادنیٰ سے مطالبے کے لیے ایسی واردات کر ڈالی کہ سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ دی گارڈین کے مطابق اس کارکن کا نام میکسیم کریووش تھا جس نے یوکرین کے شہر لوتسک میں ایک بس کو یرغمال بنا لیا جس میں 13مسافر سوار تھے۔ ملزم کے پاس خودکار رائفل اور ہینڈ گرنیڈ تھے۔ اس کا مطالبہ تھا کہ یوکرین کے صدر ولادی میر زیلسنکی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ہدایت کریں کہ وہ 2005ءمیں جانوروں پر ہونے والے مظالم پر بننے والی فلم ’ارتھلنگز‘ (Earthlings)ضرور دیکھیں۔

ملزم نے ایک گھنٹے سے زائد ان مسافروں کو یرغمال بنائے رکھا۔ وہ پولیس اور صحافیوں کے ساتھ رابطے میں رہا۔ اس دوران بس میں موجود ایک مسافر نے بھی صحافیوں سے بات کی اور درخواست کی کہ اغواءکار کا صدر ولادی میر کے دفتر رابطہ کروایا جائے ورنہ وہ انہیں قتل کر دے گا۔ ملزم نے پولیس کے ڈرون پر ایک گرنیڈ بھی پھینکا اور رائفل سے کچھ فائر بھی کیے تاہم خوش قسمتی سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔بالآخر صدر ولادی میر نے فون پر خود اس اغواءکار سے بات کی اور اس کے بعد ایک ویڈیو اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ ”ہر شخص کو ارتھلنگز فلم دیکھنی چاہیے۔“

رپورٹ کے مطابق 44سالہ ملزم بس میں سوشل میڈیا کو بھی چیک کر رہا تھا چنانچہ جب اس کے مطالبے پر صدر ولادی میر نے شہریوں کو فلم دیکھنے کی ہدایت کر دی، تب اس نے سرنڈر کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزم کے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے بعد صدر ولادی میر نے اپنے فیس بک پیج سے یہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دی اور اس کی جگہ ایک پوسٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ”انسانی جان سب سے زیادہ اہم ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں ایک بھی جان ضائع نہیں ہوئی۔“ واضح رہے کہ ارتھلنگز فلم 1گھنٹہ 48منٹ دورانیے کی ڈاکومنٹری /ہارر فلم تھی جو 2005ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں اداکار جواکوین مون سون نے کام کیا تھا۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ فیکٹری فارمز، ریسرچ لیبارٹریز، پپی ملز (Puppy mills)اور دیگر ایسی جگہوں پر جانوروں کو کن بہیمانہ مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم پہلے بھی فراڈ اور اسلحہ رکھنے جیسے الزامات میں جیل کاٹ چکا ہے اور اس کی ذہنی حالت مستحکم نہیں ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -