یکساں قومی نصاب ،وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمودنے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

یکساں قومی نصاب ،وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمودنے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی
یکساں قومی نصاب ،وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمودنے قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)تیسری قومی نصابی کونسل میں اس بات پر اتفاق کیاگیا کہ قومی نصاب کی تشکیل کا عملی قدم حکومت کی درست سمت کی طرف نشاندہی کرتا ہے اور وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ہم سب کے دلوں کے بہت قریب ہے یہ طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو گا۔

وفاقی وزیر تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے تیسری قومی نصابی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی،تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں صوبائی وزرا تعلیم اور متعلقہ سیکرٹریز، فیڈرل گورنمنٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز، آرمی پبلک سکول،پاکستان ایئرفورس،نیوی کے سکولز کے نمائندگان، پرائیویٹ سیکٹر، اتحاد تنظیم المدارس پاکستان، اقلیتی نمائندگی، اور معروف ایجوکیشنسٹ، نے شرکت کی اور اپنی اپنی تجاویز و تاثرات پیش کیے۔وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یکساں قومی نصاب پر چاروں صوبوں میں ورکشاپس ہوئیں اور قومی سطح پر چار روزہ ورکشاپ بھی منعقد کی گئی، جس پر اتفاق رائے سے ڈرافٹ تیار ہوا، جس کو قومی نصاب کونسل کے تمام ممبران کو باضابطہ طور پر بھجوایا گیا۔اجلاس میں تمام شرکا نے اس پر اتفاق کیا قومی نصاب کی تشکیل کا عملی قدم حکومت کی درست سمت کی طرف نشاندہی کرتا ہے اور اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا کہ یکساں قومی نصاب ہم سب کے دلوں کے بہت قریب ہے یہ طبقاتی نظام تعلیم کو ختم کرنے میں ممدو معاون ثابت ہو گا، یکساں قومی نصاب میں زبان کے مسئلے پر کوئی ابہام نہیں ہے، جس زبان میں بچے کو بہتر سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اساتذہ اسی زبان میں پڑھائیں گے تاہم نصابی مندرجات و مواد میں یکسانیت ہوگی، انگریزی کو لینگوئج کے طور پر پڑھایا جائے گا،ٹیکسٹ بکس کی تیاری کے حوالے سے مختلف آرا پیش کی گئیں۔ اکثر شرکا نے اظہار کیا کہ حکومت ایک ماڈل ٹیکسٹ بک تیار کرے جوکہ تمام صوبوں اور اکائیوں کے لیے بنچ مارک ہو۔

وفاقی وزیر نے کہا صوبے اضافی مواد بھی متعارف کرا سکتے ہیں تاہم یہ خیال رکھا جائے کہ بچوں پر اضافی بوجھ نہ پڑے،یکساں نظام تعلیم کا بنیادی مقصد تعلیم کے حصول میں نا انصافیوں کا خاتمہ اورعلم و تعلیم کے میدان میں طبقاتی خلیج کا سدباب کرنا ہے، شاہ عبدالطیف بھٹائی صرف سندھ کے ہیرونہ سمجھے جائیں بلکہ وہ باقی صوبوں کے اور ان کی عوام کے بھی اتنے ہی ہیرو سمجھے جائیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب نصابی مندرجات اورمواد یکساں ہونگے،آخر میں وفاقی وزیر تعلیم نے تمام شرکا کی گرمجوش شرکت اور انکی قیمتی تجاویز کے لیے اظہار تشکر کیا۔

مزید :

قومی -