کیا مطیع اللہ جان کا سافٹ ویئر اَپ ڈیٹ ہو چکا ؟معروف صحافی نے ناقابل یقین بات کہہ دی 

کیا مطیع اللہ جان کا سافٹ ویئر اَپ ڈیٹ ہو چکا ؟معروف صحافی نے ناقابل یقین بات ...
کیا مطیع اللہ جان کا سافٹ ویئر اَپ ڈیٹ ہو چکا ؟معروف صحافی نے ناقابل یقین بات کہہ دی 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ملزموں کے بارے میں تحقیقاتی ادارے سراغ لگانے میں ناکام ہیں جبکہ مطیع اللہ جان نے سپریم کورٹ میں اپنے اغواکے واقعہ کو  توہین عدالت کی کارروائی سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ مجھ پر جوبیتی ہے، اس کا براہ راست تعلق اس توہین عدالت کی کارروائی سے ہے جبکہ دوسری طرف معروف صحافی اسد علی طور نے کہا ہے کہ کمرہ عدالت کے باہر مطیع اللہ جان سے بہت ساری باتیں ہوئی ہیں تاہم وہ ابھی آف ریکارڈ ہیں کیونکہ مطیع اللہ جان نے ابھی سپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ کروانا ہے تاہم اُن سے گفتگو کے دوران ایک لمحہ کے لئے بھی ایسا گمان نہیں ہوا کہ بازیابی کے بعد مطیع اللہ جان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معروف صحافی اسد علی طور نے نجی ویب سائٹ پر مطیع اللہ جان کی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس میں پیشی کا تفصیلی احوال لکھتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مطیع اللہ جان نے تمام صحافیوں، اینکرز، میڈیا کے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور خصوصاً اسلام آباد ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کیا کہ آپ سب کے آواز اٹھانے کی وجہ سے آج میں آپ سب کے درمیان کھڑا ہوں۔ مطیع اللہ جان نے یہ بھی کہا کہ جو اغوا کرتے ہیں، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ میرے ساتھ کچھ ہو جاتا تو باقی سب صحافی ڈر جاتے تو میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں ایسا بالکل نہیں ہوگا۔اسد علی طور کا کہنا تھا کہ مطیع بھائی سے اغوا کے واقعہ پر بھی آف دی ریکارڈ گفتگو ہوئی لیکن انہوں نے درخواست کی کہ اس گفتگو کو بیان ریکارڈ کروانے تک رپورٹ نہ کروں ۔اسد علی طور کا کہنا تھا کہ ایک بات ضرور بتاؤں گا کہ گفتگو کے دوران ایک لمحہ کے لئے بھی ایسا گمان نہیں ہوا کہ بازیابی کے بعد مطیع اللہ جان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہو چکا ہے

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -