کابل میں نماز عید کے دوران صدارتی محل پر راکٹ حملے، طالبان کا موقف بھی آگیا

کابل میں نماز عید کے دوران صدارتی محل پر راکٹ حملے، طالبان کا موقف بھی آگیا
کابل میں نماز عید کے دوران صدارتی محل پر راکٹ حملے، طالبان کا موقف بھی آگیا
سورس: Screengrab

  

کابل (ویب ڈیسک) طالبان نےنمازعید کےدوران افغان صدارتی محل پر ہونے والے راکٹ حملوں سے اظہار لاتعلقی کر ‏دیا۔ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہےکہ صدارتی محل کےقریب راکٹ حملوں میں ہمارا ہاتھ ‏نہیں، ہم مسئلےکاسیاسی حل چاہتےہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سہیل شاہین نے کہا کہ افغان فورسز کے اہلکار ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں جب کہ افغان مذاکرات ‏کار نےطالبان کا دعوی غلط قرار دے دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق طالبان نے افغان فورسز کے ساتھ والی شدید جھڑپوں میں بھارتی صحافی ‏دانش صدیقی کے قتل سے بھی اظہار لاتعلقی کیا ہے۔

 طالبان کے اہم کمانڈر مولانا یوسف احمد سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے بھارتی میڈیا نے لکھا کہ ‏طالبان نے دانش صدیقی کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ‏صحافی کو قتل نہیں کیا وہ ہمارے دشمنوں کی طرف تھا اور جب کوئی بھی صحافی آتا ہے تو وہ ‏ہم سے بات کرتا ہے اور ہم مسلسل صحافیوں سے رابطوں میں رہتے ہیں۔

کابل میں نمازِ عید کے دوران صدارتی محل کے قریب راکٹ حملے کیے گئے، منگل کی صبح ہونے ‏والے ان راکٹ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان میرویس ستانکزئی نے کہا کہ راکٹ محل کے باہر گرین زون ‏میں تین مختلف مقامات پر گرے، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -