ضمنی انتخابات اور فاتح پنجاب 

 ضمنی انتخابات اور فاتح پنجاب 
 ضمنی انتخابات اور فاتح پنجاب 

  

 حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو حیران کن اور خلاف توقع  کامیابی ملنے پر میری طرف سے تمام کارکنان،عہدہ داران اور عمران خان کو بہت مبارکباد اس الیکشن کے بعد سب کو یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان الیکشن لڑنا جانتے ہیں،  بیانیہ بنانے میں اس وقت کوئی بھی عمران خان کا ثانی نہیں، اب تو یہ بیانیہ بھی دم توڑ چکا ہے  کہ عمران خان کو امپائر کی انگلی نے کامیابی دلوائی۔ ہر شخص کو یہ جاننا ہو گا کہ اس دفعہ عمران خان کے بیانیے (ہم غلامی قبول نہیں کریں گے) کو ووٹ ملا ہے، الیکشن میں امیدواروں کا چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے، عمران خان نے بلاشبہ اپنے امیدواروں کا بہت اعلیٰ انتخاب کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 20میں سے 16سیٹیں تحریک انصاف کا مقدر بنیں۔ مشکلات اور فارن فنڈنگ کیس میں گری ہوئی تحریک انصاف کے لیے ضمنی  انتخابات نئی زندگی کی نوید لائے ہیں، اس سے بڑھ کر  یہ کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ایک طرف اور عمران خان ایک طرف تھا، اس قدر پست حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترنا اور فاتح ہوجانا بلاشبہ ایک جرات مند اور دلیر لیڈر ہی کر سکتا ہے جہاں اس الیکشن نے پنجاب کا فیصلہ کیا وہیں  مرکز کے حالات پیچیدہ ہونے کے امکانات  موجود  ہیں  اور اب تحریک انصاف کے پاس دو راستے ہیں پنجاب میں اپنی حکومت بنائے اور مرکز کے لیے جوڑ توڑ کر کے واپس آکر اپنی آئینی مدت پوری کرے  یا پھر پنجاب اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کریں اور نئے الیکشن کی طرف چلے جائیں، اس کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا میں نے 25 مارچ کو ایک کالم (سیاسی تماشا اور مسلم لیگ نون کا مستقبل) میں موجودہ حالات کے بارے میں اپنی ناقص رائے کا اظہار کیا اور اتفاق سے سیاسی حالات میری پیش گوئی کی طرف رواں دواں ہیں۔ اب آتے ہیں نون لیگ کی انتخابات میں حیرت انگیز شکست پر تو معزز قارئین کرام اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ نون کو شکست دے دی تو کسی حد تک درست ہوگا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ (مسلم لیگ نے مسلم لیگ کی مدد سے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست دے دی تو شاید بالکل غلط نہیں ہوگا) مسلم لیگ کی ہمیشہ سے یہی ریت رہی ہے کہ اس نے اپنے کارکن کو وہ اہمیت نہیں دی جس کا وہ حقدار ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ آج تک چاروں صوبوں کی پارٹی نہیں بن سکی۔

مسلم لیگ ن  اپنی اسی فرسودہ روایت کی وجہ سے بے شمار قیمتی لوگوں کو  گنوا چکی ہے،  اس الیکشن نے ان کے اس بیانیے کو رول کر رکھ دیا  جو یہ کہا کرتے تھے کہ(ووٹ شیر کے نشان کا ہے) پی ٹی آئی کے  20لوگ منحرف ہوئے تھے تو ہر طرف شور پڑ گیا لیکن شاید نون لیگ یہ نہیں جانتی کہ اس کے ہزاروں کارکن ان سے منحرف ہو چکے ہیں جس کا فائدہ تحریک انصاف کو پہنچا اگر تحریک انصاف کے اس بیانیے کو کچھ دیر کے لئے مان لیا جائے کہ منحرف اراکین کو پیسے دے کر خریدا گیا تھا  تو پھر ضمنی  انتخابات میں انہیں ٹکٹ دینے کی کیا ضرورت تھی یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ نون لیگ کسی شخص کو کسی دوسرے حلقے میں لاکر انتخاب جتوانا چاہے گی تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ عمران خان نے لوگوں کو بتا دیا ہے کہ کیا وہ کوئی غلام ہیں اگر مسلم لیگ نون آئندہ کسی بھی میدان میں کامیابی چاہتی ہے تو انہیں اپنی پرانی روش کو بدلنا ہوگا۔حالیہ ضمنی انتخابات میں جہاں ن لیگ کو تحریک انصاف کی  مضبوط کمپین کا سامنا تھا وہیں پر اس کے  اپنے کارکنوں کی مخالفت  بھی درپیش تھی جن کی جگہ ان افراد کو ٹکٹ دے دی گئی۔ مسلم لیگ جنون اگر الیکشن ہارنے پر رپورٹ مرتب کرے  تو  میری اس نشاندہی کو بھی مد نظر رکھیں گے تو ان کی ریسرچ کے بہتر نتائج مرتب ہوسکیں گے۔ عمران خان کے گزشتہ دور میں ملک اور معیشت کے لیے پیدا کردہ مشکلات مہنگائی،لوڈشیڈنگ،تباہ حال انڈسٹری،صفر انفراسٹکچر، غیر ملکی قرضوں کی بہتات، بے روزگاری،پنکی پیرنی، فرح گوگی،حر یم شاہ طیبہ گل،زلفی بخاری اور ان جیسے تمام لٹیروں  پر پردہ ڈل گیا جس دن مسلم لیگ (ن) نے حکومت میں آنے کا شوق پورا کر لیا اور اسی دن عمران خان سیاسی شہید کا درجہ پا گیا۔

میں اپنی تحریروں کے ذریعے میاں صاحبان سے گزارش کرتا رہا کہ برائے کرم انہیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے دیں کہ اگر تحریک انصاف اپنی آئینی مدت پوری کر جاتی ہے تو کوئی گمان نہیں تھا کہ آئندہ الیکشن میں ان کا انجام ق لیگ جیسا ہو جاتا۔ جن لوگوں نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا اب ان میں سے 50فیصد لوگ مٹھائی کھانے میں مصروف ہیں، ان ضمنی انتخابات کو صرف ضمنی انتخابات نہ سمجھا جائے بلکہ یہ آئندہ جنرل الیکشن میں مسلم لیگ کے لیے خطرے کی پہلی گھنٹی  ہیں اور شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف گرم لوہے کا فوری فائدہ اٹھائے گی اور جتنی جلدی ممکن ہوا پنجاب اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات  کی طرف جائے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کو بہت نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ خدانخواستہ میرے ملک پر پھر سے وہی گروہ مسلط ہوجائے لیکن اگر اس سے پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہوجاتا ہے جس ضمن میں بہت سے ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں تو عمران خان سمیت پوری تحریک انصاف کے دفن ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اللہ کریم سے دعا گو ہوں کہ جو بھی ہو میری ریاست کے لیے بہتر ہو

مزید :

رائے -کالم -