عمران خان بمقابلہ جنت مرزا  

  عمران خان بمقابلہ جنت مرزا  
  عمران خان بمقابلہ جنت مرزا  

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 جنت مرزا آج کی تاریخ میں 23 ملین فالورز کے ساتھ پاکستان کی سب سے زیادہ ”فالو“ کی جانے والی ٹک ٹاکر ہیں۔تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے”ٹک ٹاک“ پر دھماکے دار انٹری کے بعد امید کی جاتی ہے کہ بہت جلد جنت مرزا سے پاکستان کی نمبر ون ٹک ٹاکر ہونے کا ”اعزاز“ چھن جائے گا،کیونکہ جس رفتار سے ٹک ٹاک پر عمران خان کے فالورز بڑھ رہے ہیں اس کے مطابق عمران خان عنقریب پاکستان کے نمبر ون ”ٹک ٹاکر“ بن جائیں گے۔ اِس پلیٹ فارم پر پہلے سے موجود لاہور کا پاوا، اختر لاوا، پولاریکارڈ، ندیم نانی والا،مُبین منڈی آلا، پھولو، نائلہ جٹ المعروف چنگڑی، مہک ملک، ڈولی اور ریمبو مصلی وغیرہ ٹک ٹاک پر اب عمران خان کے ”کولیگ“ بن گئے ہیں۔


عمران خان نے 18 جولائی کو ایک ویڈیو پوسٹ کر کے ٹک ٹاک پر شمولیت کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔ 23 سیکنڈ کی یہ ویڈیو مختلف مواقعوں کی جھلکیوں پر مبنی ہے تاہم پوری ویڈیو میں آواز صرف ایک موقع کی ہے جب عمران خان ”لاَ اِلہ اِلاّاللہ“پڑھ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب کا ”چورن“ بیچنا ابھی تک پی ٹی آئی کی اوّلین حکمت عملی ہے۔ تقریباً سوا دو ماہ قبل13 مئی 2023 ء کو ”ٹک ٹاکستان“ کے عنوان سے لکھے گئے اپنے کالم میں خاکسار نے اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈال دی تھی کہ شروع دن سے ہی پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پرمبنی ہے، کیونکہ یہ سارا کھیل ہی فیس کٹ، لائٹنگ اور کیمرے پربیس کرتا ہے، جو عمران خان کے پاس موجود ہے جبکہ چلنے، بولنے اور بات کرنے کا سٹائل سونے پر سہاگہ ہے، علاوہ ازیں دبنگ تقریروں، مجمعے میں پُش اپس لگانے اور انگریزوں کو آٹو گراف دینے والے ویڈیو کلپس نے ”آپ“ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیئے۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیاٹیموں نے ماضی کے دریچوں سے خان کے کرکٹ سٹار ڈم اور گلیمر ورلڈ کی جھلکیوں کو یکجا کر کے عمران خان کو”امر“ کر دیا ہے۔
امریکہ میں مقیم پی ٹی آئی سوشل میڈیا لیڈر جبران الیاس کے مطابق عمران خان ایک برانڈ بن چکے ہیں جس کی بدولت انہوں نے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی ٹک ٹاک پر لاکھوں کی تعداد میں فالورز جمع کر لئے، جسے یقینی طور پر ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے عمران خان کا ”گرینڈ ویلکم“ کہا جائے گا۔جبران الیاس کے مطابق آئندہ الیکشن میں ٹک ٹاک ”ڈور ٹو ڈور“ کمپین کا متبادل ہو سکتا ہے۔


دوسری جانب ماضی میں عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم سے وابستہ رہنے والے فرحان ورک کہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کی مجموعی آؤڈینس 41 ملین ہے پھر عمران خان نے پہلی ویڈیو پر 100 ملین ویورز کس طرح حاصل کر لئے؟ انہوں نے ویورز، لائیکس اور فالوونگ کی ساری گیم کو جعلی قرار دیا اور ثبوت کے طور پر اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا جس کی پہلی ویڈیو پر ایک دن میں دو کروڑ سے زیادہ ویوز آ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے بل بُوتے پر عمران خان کی مقبولیت دکھانا اس ملک کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹک ٹا ک پر موجود لوگوں کی بڑی تعداد 13 سے لے کر 24 سال تک کی عمر کے افراد ہیں۔ بنیادی طور پر ٹک ٹاک کا کام چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنا ہے۔ 9 مئی کے واقعات میں بھی یہی ٹاک ٹاکرز سرگرم تھے جو ہر قیمت پر اپنی ویڈیو وائرل کروانا چاہتے تھے،کیونکہ عمران خان اوورسیز پاکستانیوں میں مقبول ہیں اور ان پلیٹ فارمز کی ایک بڑی ویورشپ پاکستان سے باہر ہے لہٰذا عمران خان کا جلسہ ہو یا ریلی، یہ ٹک ٹاکرز اور یو ٹیوبرز اپنے اپنے چینلز کی لائق یا فالوننگ کے لئے وہاں پہنچتے ہیں اور چائے کی پیالی میں طوفان برپا کر دیتے ہیں،حالانکہ 2018 ء سے 2022 ء تک عمران خان کا دورِ اقتدار پاکستان کی تاریخ کا بد ترین دور تھا، جب فوجی جرنیلوں نے درست سمت چلتے ہوئے اچھے خاصے نظام کی بساط لپیٹ کر ایک نیا تجربہ کیا جو بری طرح ناکام ہوا، جس کا خمیازہ آج عوام اور خود فوج بھگت رہی ہے۔عمران خان جو ایک نا اہل حکمران ثابت ہوا اسے ٹک ٹاکرز اور یو ٹیوبرز نے اس قدر تواتر کے ساتھ چلایا کہ نوجوانوں کے ذہنوں میں وہ ”منی ہائسٹ“ کے پروفیسر، ہاؤس آف کارڈز کے فرانسس انڈر وڈ یا پھر گیمز آف تھرونز کے کسی لافانی کردارکے طور پر نقش ہوگیا،بالکل اسی طرح جیسے یوکرائن کے موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی جو پہلے ایک کامیڈین اور اداکار تھے انہوں نے ایک ڈرامہ سیریز میں یوکرائن کے صدر کا کردار ادا کیا جو لوگوں کو اتنا بھایا کہ انہوں نے ولادیمیر کو حقیقتاً ملک کا صدر چُن لیا۔


عمران خان نے شروع دن سے نوجوانوں کو اپنا خاص ہدف بنا رکھا ہے، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ پکی عمر کے افراد کی نسبت کچے اذہان کو اپنی طرف مائل کرنا بہت آسان ہے کیونکہ نوجوانوں کو ”ایٹریکٹ“ کرنے کے لئے عمران خان کے پاس فیس کٹ، پُش اپس، جسامت اور سٹار ڈم وغیرہ موجود ہے، لہٰذا وہ بطور سیاستدان اپنی کارکردگی دکھانے کی بجائے ٹک ٹاک پر ”ٹُوپا ٹاپیاں“ کرکے اپنی مقبولیت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔2018 ء کے الیکشن سے قبل عمران خان نے فیس بک، ٹویٹر اور یو ٹیوب وغیرہ کوبھرپور استعمال میں لا کر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کی تاہم اقتدار کی مسند پر انہیں ان سوشل میڈیا انفلوانسرز نے نہیں بلکہ مقتدر حلقوں نے بٹھایا تھا، لہٰذا عمران خان ”گجے گجے“ الیکشن سے قبل ایک مرتبہ پھر ٹک ٹاک پر ”مقبول“ ہونے آ گئے ہیں،حالانکہ یہ ٹک ٹاکرز صرف موبائل فونز پر انقلاب لا سکتے ہیں، حقیقی انقلاب کے لئے جب یہ سڑکوں پر نکلے توپولیس لاٹھی چارج کے دوران ایسے ہی کسی ”انقلابی“ نے ٹی وی رپورٹر سے شکوہ کیا کہ اگر پولیس والے ہماری پشتوں پر اسی طرح ڈنڈے برساتے رہے تو ہم انقلاب کیسے لائیں گے؟؟؟؟  
 

مزید :

رائے -کالم -