اپاسکو، گندم خریداری میں کسان کا استحصال

اپاسکو، گندم خریداری میں کسان کا استحصال
اپاسکو، گندم خریداری میں کسان کا استحصال

  

گندم جیسی اہم ترین غذائی و برآمدی فصل کاشت کرنے والوں کو منصفانہ معاوضے کی ضمانت دینے کے لئے دو بڑے سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں، جن کے لئے حکومت ہر سال اربوںروپوں کا بجٹ مختص کرتی ہے، لیکن کسان اپنی خون پسینے کی محنت کا پھل پانے سے محروم رہتے ہیں، البتہ چند پسندیدہ لوگوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات ایسی صورت حال پیدا کی جاتی ہے، جس سے اس ساری سکیم کے اصل مستحق کسان کی بے بسی اور محرومی کا مذاق اُڑانے کا تاثر ملتا ہے۔18کروڑ ملکی آبادی کو بنیادی غذا مہیا کرنے والے کاشتکار کو تو فصل پکنے پر یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ اسے ناقدری سے کیسے بچایا اور حکومتی امدادی قیمت پر فروخت کو کیسے یقین بنایا جائے، بلکہ بعض پیشہ ور عناصر کے لئے یہ موقع پیام عید سے کم نہیں ہوتا، وہ محکمے کے مقامی واعلیٰ افسران سے رابطے مضبوط کر کے راتوںرات لاکھوں روپے کمانے کا اہتمام کر لیتے ہیں۔ اس بار اس کاروبار میں ایک نیا عنصر داخل ہو گیا ہے، جو بالا ترین ہیئت حاکمہ تک رسائی حاصل کر کے حصہ قدر جثہ وصول کرتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سارا کھیل غریب کسان کے خون پسینہ کی قیمت پر کھیلا جاتا ہے، جو اس ناانصافی کے خلاف احتجاج بھی کرتا ہے، لیکن چونکہ اس میں وہ شدت اور حدت پیدا نہیں ہوتی، جس کی تپش حکومتی ایوان محسوس کر سکیں، اس لئے استحصالی حربے بڑے دھڑلے سے جاری رہتے ہیں۔ خریداری کے ذمہ دار دونوں ادارے محکمہ خوراک اور پاسکو اگرچہ کثیر المقاصد بنیاد پر قائم ہوئے تھے، لیکن اب صرف گندم کی خرید و فروخت تک محدود ہو گئے ہیں، جن کی سرگرمی سال بھر میں صرف ڈیڑھ دو ماہ ہی نظر آتی ہے، لیکن اس کے باوجود اپنے قیام کا جواز قائم رکھنے کے لئے اصل فریق کی حق رسی کی بجائے اس کے استحصال اور دوسرے عناصر کے لئے مفاد کے لئے سرگرم عمل نظر آتے ہیں، جس سے اُن کی ساکھ اور اس فصل کی کاشت بہت بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ محکمہ خوراک صوبائی حکومتوں کے تحت تمام صوبوں میں قائم ہے، جبکہ پاسکو وفاقی حکومت کا کسی حد تک خود مختار ادارہ ہے، جو ملک بھر میں ایک درجن سے زائد تحصیلوں میں کام کرتا ہے۔ گندم کی خریداری سکیم: گندم خریداری سکیم کے دو پہلو ہیں۔ ایک حکومت کی پالیسی سے متعلق ہے اور دوسرا خود محکمے کا اپنا طرز عمل، جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اس کی کسان دوستی ملاحظہ ہو کہ خریداری کا آغاز15اپریل (کٹائی شروع ہونے پر) کے بجائے مٹی کے دوسرے ہفتے میں کیا گیا، جب تین چوتھائی فصل کٹ چکی تھی اور کسانوں کی غالب اکثریت اسے منڈی میں اُونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہو چکی تھی۔ اب خریداری شروع کرنے والے محکموں کا طرز عمل دیکھئے۔ انہوں نے طریق کار یہ طے کیا کہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق قرعہ اندازی کر کے باردانہ تقسیم کیا جائے، جس کا کوٹہ نہ صرف بہت محدود کر دیا گیا، بلکہ اس میں ایک ہفتے کا وقفہ بھی کر دیا گیا، چنانچہ دو قرعہ اندازیاں ہونے تک95فیصد فصل کاٹی جا چکی تھی اور خریداری مراکز پر صرف چند ہزار بوریاں تقسیم کی گئی تھیں ، جو کسانوں کے لئے سخت پریشانی اور مالی خسارے کا باعث طرز عمل تھا۔ محکمہ خوراک کی کارکردگی بھی اگرچہ کسی طرح قابل رشک قرار نہیں دی جاتی رہی ،تاہم پاسکو چونکہ ایک بڑا باوسیلہ اور خود مختار ادارہ سمجھا جاتا ہے، اس کی سرگرمیاں چند علاقوں میں مرکوز رہتی ہیں اور اس کی کمان بھی بالعموم سول کے ساتھ حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسران کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس لئے اس سے مقابلتاً زیادہ افادیت اور شفافیت کی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔ مزید برآں رواں سیزن میں اس ادارے کی کارکردگی میں معمول کی خرابیوں کے ساتھ ایک نیا عناصر شامل ہوا ہے، اس لئے اس کے کردار پر کسی قدر تفصیل سے بات کرنا ضروری ہے۔ شاید اس طرح اصلاح احوال کی طرف رجوع کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ پاسکو اور استحصالی عناصر: پاسکو حکام نے دو قرعہ اندازیوں کے بعد جب محسوس کیا کہ باردانہ کی بھاری مقدار گوداموں میں پڑی ہے، جبکہ فصل کی کٹائی قریب الاختتام ہے تو فراخدلانہ رویہ اپناتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ہر کسان کو بغیر قرعہ اندازی کے ٹوکن جاری کر کے باردانہ مہیا کر دیا جائے گا۔ اس اعلان پر کسانوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی کہ جن کے پاس جنس پڑی ہوئی ہے، ان معدودے چند لوگوں کو امدادی قیمت پر اسے فروخت کرنے کا موقع یقینا مل جائے گا،....” لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“.... اسے سفارش کا ساخسانہ کہئے یا بدعنوانی کا، یہیں سے بے قاعدگی اور بے ضابطگی کا کھلم کھلا آغاز ہوا۔ بے چارے کسان ٹوکن ہاتھ میں لئے خریداری مراکز کا چکر لگاتے رہے اور انہیں باردانہ کی ایک کھیپ ختم ہونے کے بعد دوسری کھیپ آنے کے وعدے پر ٹرخایا جاتا رہا، جبکہ مخصوص لوگوں کو ہزاروں کی تعداد میں بوریاں جاری کی جاتی رہیں، جنہوں نے950روپے من کے حساب سے گندم خرید کر1050 روپے من فروخت کی۔ اس طرح 250روپے بوری کے منافع کے حساب سے ایک ہزار بوری پر ڈیڑھ دو لاکھ روپے اور ایک لاکھ بوری پر ڈیڑھ دو کروڑ روپے کمائے۔ محرومی کے شکار کسانوں اور خوشحالی استحصالی طبقے میں خلیج کو مزید گہرا کرنے کی یہ ایک شعوری کاوش ہے، جو کسی وقت خوفناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ کارکردگی کا ڈرامائی انداز: ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں خریداری شروع کر کے اسے دو ہفتوں تک محدود رکھنے اور چند روز کھلی اجازت کے اعلان کے بعد25مئی کو باردانہ کی تقسیم پر پابندی عائد کر دی گئی کہ فنڈز کا مسئلہ آڑے آ رہا ہے، جس کے حل کے بعد ہی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف نہ صرف پاسکو زون کے اندر غلہ منڈیوں کے علاوہ پیشہ ور قسم کے لوگ ہزاروں بوری بادانہ لے کر گندم سستے داموں خریدتے اور سپلائی کرتے رہے، بلکہ زون سے باہر کے علاقوں سے (جہاں پر محکمہ خوراک خریداری کا ذمہ دار ہے) دھڑا دھڑا ٹرالروں پر گندم پاسکو مراکز پر بھیجی جاتی رہی اور بے چارے کسان”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کے مصداق بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ یہ ردعمل صرف کسانوں تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ سول حکام بھی جو کاشت کا ریکارڈ اور ٹوکن تیار کرنے کے عمل میں پوری طرح شامل رہے تھے، یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے اور”چاہیں جو سو آپ کریں اور ہم کو عبث بدنام کیا“کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے۔ محاسبہ کی ضرورت مگر کیسے؟ ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے معزز نمائندگان، یعنی پارلیمنٹیرین نے عوامی خدمت کے حوالے سے ایوان صدر سے رابطہ کیا اور اپنے لئے کوٹہ مخصوص کرنے پر زور دیا، جیسے کمال مہربانی سے کمیٹی برائے منصفانہ تقسیم باردانہ تشکیل دے کر چہیتے عوامی خاد موں کو (ایم این اے،ایم پی اے) حضرات کو لاکھوںبوریاں الاٹ کر کے نوازا گیا۔ عام انتخاب کا سال ہے، بالائی قیادت بھلا عوامی نمائندگان کی خواہش سے صرف نظر کرنے کی کیسے متحمل ہو سکتی ہے۔ اس صورت حال پر کسان سراپا احتجاج ہیں تمام بے ضابطگیوںکے مرتکب عناصر کا بے لاگ محاسبہ اور حق تلفی کا ازالہ چاہتے ہیں، لیکن ”کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں“۔

مزید :

کالم -